کلچر کے بارے میں فیصلہ کرنا عدلیہ کے دائرۂ اختیار سے باہر

ہندوستان اور پاکستان کے بنتے بگڑتے رشتوں کا اثر متعدد صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے دونوں ملکوں کے رشتوں میں اکثر کشیدگی کا ماحول رہتا ہے۔ کشیدگی کبھی کبھی جب زیادہ بڑھ جاتی ہے تو سیاسی اور سفارتی فیصلے عجیب طرح کی صورتحال پیدا کردیتے ہیں۔ یہ فیصلے کبھی کبھی اس نوعیت کے بھی ہوتے ہیں کہ ایک ملک میں نشر ہونے والی چیزیں دوسرے ملک کے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ نشر نہ کی جائیں، چنانچہ حال ہی میں پاکستان کی الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی نے اس بات پر پابندی لگائی تھی کہ ہندوستانی سیریل اور ڈرامے پاکستانی ٹی وی چینلوں پر نہ دکھائے جائیں، اس فیصلے کو ایک ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، جس کے بعد ہائی کورٹ نے اس فیصلے پر ہدایت کو ردّ کردیا تھا۔ اس کے بعد الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی نے سرپریم کورٹ میں اپیل کی، جس کا فیصلہ عدالت عظمیٰ نے اتھارٹی کے حق میں دیا اور یہ تبصرہ بھی کیا کہ ہندوستانی سیریل اور ڈراموں کے مواد پاکستانی کلچر کو تباہ کرتے ہیں، لہٰذا ان پر پابندی ہونی چاہئے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر صحافیوں ، دانشوروں اور سماجی علوم کے ماہرین نے اپنا ردّ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلچر کیا ہے، اس پر فیصلہ کرنے کا کام عدالت کا نہیں ہوتا۔ عدالت یا ریاست کے دوسرے اداروں کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ عوام کے آئینی حقوق کی حفاظت کریں، نہ کہ عوام کی تہذیب و ثقافت کا تعین کریں۔ در اصل ہندوستانی مواد کو پاکستانی چینلوں پر دکھائے جانےکی مخالفت کا سبب یہ بتایا جارہا ہے کہ ان میں خواتین کے مسائل سے متعلق مواد شامل ہوتے ہیں۔ ان پر ہونے والی زیادتیوں اور خواتین کی طرف سے ہونے والی مزاحمتوں اور ان کے حقوق کی باتیں ہوتی ہیں۔ظاہر ہے جنسی بنیاد پر ہونے والی بے انصافیوں کا مسئلہ صرف ہندوستان ہی سے نہیں جڑا ہوا ہوتا، بلکہ ایشیائی ممالک میں یہ صورت حال کم و بیش ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ اس معاملے میں ہندوستان اور پاکستان کی صورتحال میں تو کافی مماثلت پائی جاتی ہے، لیکن پاکستان میں انتہا پسند یہ تاثر دیتے ہیں کہ اس طرح کے سیریل اور ڈرامے اگر پاکستانی چینلوں پر دکھائے جائیں گے تو پاکستان کی تہذیب پراگندہ ہوگی۔ پاکستان کی ایک ممتاز صحافی ہما یوسف نے ایسی ذہنیت کا مذاق اڑاتے ہوئے اخبار ڈان میں ایک مضمون لکھا ہے کہ پاکستان کی فوج زدہ قومیت خود پاکستان کے قدیم اور متنوع کلچر کو نہ صرف پاکستانی کلچر کے لیے  سم قاتل قرار دیتی ہے، بلکہ یہ بھی تاثر دیتی ہے کہ یہ تباہ کن ہے۔ در اصل کلچر کے نام پر ہندوستان دشمنی کے جذبات کو فروغ دیا جاتا ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف ہندوستان کا دشمن ہے بلکہ آزادیٔ نسواں نیز ترقی پسندی اور جدید خیالات و تصورات کا بھی مخالف ہے۔ اس پوری بحث میں صرف یہ بات ابھر کر آئی ہے کہ پاکستانی کلچر میں کیا چیز نہیں ہے۔ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ پاکستانی کلچر ہے کیا؟ عام آدمی سوچتا رہ جاتا ہے کہ آخر اس کا اصل کلچر کیا ہے؟ ہما یوسف کے مطابق انتہا پسند حلقے پاکستانی کلچر سے متعلق اپنا ہی ایک انتہا پسندانہ تصور پیش کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سب پر کلچر کا یہی تصور تھوپ دیا جائے۔

اخبار ڈیلی ٹائمز نے بھی اپنے ایک اداریےمیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے تو ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ کلچر ہے کیا؟ اس کا ایک سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ جو باتیں مجموعی طور پر ہمارے رہن سہن اور معمولات میں شامل ہوتی ہے، انہیں سے ہمارا کلچر بنتا ہے۔ اگر پاکستان کے قومی کلچر کی بات کی جائے تو یہ مختلف نسلی گروپوں پر مشتمل ہے۔ کئی زبانیں ، روایات اور طور طریقے مل کر کلچر کا تعین کرتے ہیں، لہٰذا کلچر کا تعین کرنے کے لیے قومی بحث کرنی ہے، تو یہ بحث پارلیمنٹ میں ہی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ پریس ، گلی، سڑکوں، انتخابی عمل اور اس کے شور شرابوں میں ہوسکتی ہے۔عدالتوں، سول سکریٹیز یا فوجی چھاؤنیوں میں کلچر کے تعین سے متعلق کوئی بحث نہیں ہوسکتی۔ ایک جمہوری ریاست میں ریاستی ادارے اس لئے ہوتے ہیں کہ وہ شہریوں کے آئینی حقوق کے معاملات سے سروکار رکھیں۔ ان کا کام یہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ کسی کو یہ بتائیں کہ کلچر کیا ہے اور کیا نہیں! اخبار کے مطابق اگر پاکستان کے عوام اپنے ٹی وی چینلوں پر ہندوستان کے سیریل یا ڈرامے دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں یہ حق ملنا چاہئے۔ ہندوستانی مواد سے پاکستان کے کلچر کو کوئی خطرہ نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس اس سے عوام کا یہ اعتماد ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پڑوسی ملکوں میں مماثلت تلاش کرسکتے ہیں اور اگر اختلافات بھی ہیں تو وہ ان سے خائف نہیں ہوتے۔ پاکستان کے عوام اتنے باشعور ضرور ہیں کہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ کیا چیز ان کےلئے اچھی ہے اور کیا نہیں۔