07.02.2019جہاں نما

وکلاء کے ذریعے عوامی سطح پر زیر التویٰ مقدمات کو موضوع بنانے پر عدالت عظمیٰ لگاسکتی ہے پابندی

عدالت عظمیٰ مقدمات کے سلسلے میں عوامی سطح پر گفتگو کرنے کے لئے وکیلوں پر پابندی عائد کرسکتی ہے۔ آج اخبارا ت نے اس موضوع پر رپورٹس شائع کی ہیں مگر روزنامہ ہندو نے اس کوخصوصی اہمیت کے ساتھ صفحہ اول کی سرخی بنایا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ شہری حقوق کے وکیل پرشانت بھوشن کے خلاف حکومت اور اٹارنی جنرل نے توہین عدالت عرضداشت دائر کی تھی جس کی سماعت کے دوران عدالت نے اتفاق کیا کہ زیرالتویٰ مقدمات اور ججوں کے ذریعے ان کو نپٹانے کے طریقہ کار کے سلسلے میں ذرائع ابلاغ کے سامنے اپنی آراء کے اظہار کے لئے وکلاء پر پابندی کے لئے غور وخوض کیا جاسکتا ہے۔ اخبار کے مطابق عدالت کا مشاہدہ تھا کہ آزادی اظہار رائے کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے جبکہ کچھ وکلاء نشریات کا استعمال ججوں پر حملے کے لئے کرتے ہیں حالانکہ ضابطہ اخلاق اس کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ عدالت کا یہ بھی خیال تھا کہ جیسے ہی ان کی عرضداشت عدالت میں داخل کی جاتی ہے وہ فوراً ہی ذرائع ابلاغ کے سامنے جاکر اپنی آراء کا اظہار شروع کردیتے ہیں جبکہ عرضداشتیں بہت سے الزامات پر مبنی ہوتی ہیں جو بعد میں واپس بھی لی جاسکتی ہیں تاہم بعد ازاں  ذرائع ابلاغ کے سامنے بیان بازیوں سے پہونچنے والے نقصان کی تلافی نہیں کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا عدلیہ کے وقار کا تحفظ ضروری ہے۔ اخبار عدالت عظمیٰ کے سوال کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ جب کوئی معاملہ عدالت میں زیرالتویٰ ہو تو وکلاء سے کیا توقع کی جانی چاہئے؟ کیا ان کو عوامی بیانات دینا چاہئے اور ذرائع ابلاغ اور ٹی وی پر اس سے متعلق بحث ومباحثے میں حصہ لینا چاہئے؟ عدالت نے پرشانت بھوشن سے اپنا جواب داخل کرنے کے لئے کہا ہے۔ واضح ہو کہ یکم فروری کو پرشانت بھوشن نے ایک ٹوئیٹ میں الزام لگایا تھا کہ حکومت نے اعلیٰ قانون افسر کے ذریعے سی بی آئی کے عبوری ڈائرکٹر ناگیشور راؤ کی تقرری کے سلسلے میں عدالت کو گمراہ کیا ہے جس کو حکومت اور اٹارنی جنرل دونوں نے ہی اہانت آمیز قرار دیا تھا۔

پاکستان میں آئی ایس آئی اور فوج کو سیاست سے دور رہنے کیلئے عدالت عظمیٰ کی پابندی

روزنامہ ایشین ایج نے اسی نوعیت کی ایک خبر پاکستان کے تعلق سے شائع کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے مسلح افواج کے ارکان پر بدھ کے روز پابندی عائد کردی جس کے تحت وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں  لے سکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے حکومت کو حکم دیا کہ وہ نفرت، انتہاپسندی اور دہشت گردی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔ بالفاظ دیگر اس نے آئی ایس آئی جیسی سرکاری ایجنسیوں کو ہدیات دی کہ وہ قانون کے دائرے میں رہ کر ہی کام کریں۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ عدالت عظمیٰ کی دورکنی بنچ نے یہ حکم 2017 میں سخت گیر جماعت تحریک لبیک پاکستان اور دیگر چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے خلاف مقدمے پر سماعت کے بعد جاری کیا۔ عدالت عظمیٰ نے حکومت، وزارت دفاع، برّی، بحری اور فضائیہ کے سربراہان کو بھی ہدایت دی کہ وہ ان اہلکاروں پر کارروائی کریں جو حلف نامے کی خلاف ورزی کرتے پائے جائیں۔ اخبار کچھ ماہرین کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ گزِشتہ سال عام انتخابات میں ملک کی طاقتور فوج نے عمران خاں کی حمایت کی تھی۔ واضح ہو کہ پاکستانی فوج نے 1947 میں آزادی کے بعد سے تقریباً نصف صدی تک مختلف گروپوں کے توسط سے ملک پر حکومت کی ہے نیز یہ فوج ملک کی فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے عدالت نے ایسے فتووں کو بھی غیرقانونی قرار دیا جن کا مقصد دوسروں کو نقصان پہونچانا ہو۔

ماسکو میں طالبان اور افغان سیاسی رہنماؤں کے درمیان  بات چیت کا دوسرا دن

طالبان اور افغان رہنماؤں کے درمیان بات چیت کے حوالے سے روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک خبر کی سرخی ہے: ‘‘ماسکو میں طالبان اور افغان رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دن’’۔ خبر کے مطابق ان بے مثال مذاکرات میں کابل حکومت کو نظرانداز کردیا گیا ہے جبکہ سابق صدر حامد کرزئی سمیت کئی اہم سیاسی افغان رہنماؤں کو مدعو کیا گیا ہے۔ جبکہ خود اشرف غنی نے امن مذاکرات میں شرکت کی پیشکش کی تھی۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ ماسکومیں یہ مذاکرات دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کے ایک ہفتے بعد ہورہے ہیں  اوران مذاکرات میں بھی اشرف غنی کو دعوت نہیں دی گئی تھی۔ ان مذاکرات کو صدر ٹرمپ نے تعمیری قرار دیتے ہوئے محتاط انداز میں اس امید کا اظہار کیا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے امریکہ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہوجائےگا۔ دوسری جانب طالبان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے اپریل تک اپنی نصف افواج کے انخلا سے اتفاق کرلیا ہے جو یکم فروری سے شروع ہوچکا ہے لیکن امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل نے بار بار زور دے کر کہا ہے کہ جب تک تمام پہلوؤں پر اتفاق نہیں ہوجاتا ہے اس وقت تک کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے۔ ان تمام پہلوؤں میں اندرون افغان مذاکرات اور جامع جنگ بندی لازماً شامل ہونا چاہئے۔ خود امریکہ نے انخلا سے متعلق ابھی تک کوئی تفصیل یا ممکنہ منصوبے کا اعلان نہیں کیا ہے۔

قانونی تارکین وطن کی ٹرمپ نے کی ستائش

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی خبر کے مطابق صدر امریکہ ڈونل ٹرمپ نے اسٹیٹ آف دی یونین  خطاب میں قانونی تارکین وطن کے تئیں اپنی ذمہ داری کا اعادہ کرتے ہوئے ان کی ستائش کی اور کہا کہ ان کی وجہ سے امریکہ کی امارت میں اضافہ ہوا ہے۔ اخبار ان کے خطاب کے حوالے سے لکھتا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک ایسا تارکین وطن نظام تشکیل دے جس سے امریکی شہریوں کی زندگی اور ملازمت کا تحفظ ہوتا ہواور اس میں امریکہ میں رہائش پذیر ان کئی ملین تارکین وطن کے تئیں ذمہ داری بھی شامل ہو جو ضوابط پر عمل درآمد کرتے ہیں اور قوانین کی پاسداری کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے تارکین وطن سے امریکہ کی دولت میں اضافہ ہوا ہے اور بے شمار طریقوں سے امریکی معاشرے کو استحکام پہونچا ہے۔ انہوں نے لوگوں کو امریکہ آنے کی دعوت دی مگر قانونی طریقے سے۔ اخبار لکھتا ہے کہ اپنے خطاب میں صدر نے سرحدی دیوار کی تعمیر کے سلسلے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا کوئی ذکر نہیں کیا لیکن یہ ضرور کہا کہ کسی نہ کسی طریقے سے دیوار کی تعمیر ضرور ہوگی۔

جعلی یونیورسٹی میں اندراج کے ذریعے امریکہ نے ہندوستانی طلباء کو کیا گمراہ: اٹارنی انوپیشاوریہ

امریکہ میں جعلی یونیورسٹی کے معاملے میں پھنسے ہوئے طلباء کی جانب سے ہند نژاد امریکی اٹارنی کو لگاتار فون کال موصول ہورہی ہیں کیونکہ ان طلباء کو اپنی گرفتاری کا خدشہ ہے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اس حوالے سے اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ اٹارنی انوپیشاوریہ   نے ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی پر الزام لگایا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر اس جعلی یونیورسٹی کی اجازت دی ہے اور دوسرے ممالک میں سینکڑوں میل دور بیٹھے طلباء کو گمراہ کیا ہے۔ اس سے ایک روز قبل وزارت خارجہ نے ہندوستانی طلباء سے کہا تھا کہ جعلی یونیورسٹی میں اندراج کرانے پر ان گرفتار کیا جاسکتا ہے اور واپس ان کے ملک بھیجا جاسکتا ہے۔ کیلیفورنیا کی امیگریشن اٹارنی پیشاوریہ نے کہا کہ اس کی وجہ سے سینکڑوں ہندوستانی طلباء کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ امریکہ کے امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے ذریعے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق جعلی فار منگٹن  یونیورسٹی کے 600 میں 130 طلباء کو گزشتہ روز گرفتار کرلیا گیا تھا ان میں 129 ہندوستانی ہیں۔

پاکستان میں بدعنوانی کے الزام میں وزیر گرفتار

روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے مطلع کیا ہے کہ پاکستان کے انسداد بدعنوانی ادارے قومی احتساب بیورو نے موجودہ حکومت میں بلدیاتی اداروں کے وزیر عبدالعلیم خاں کو بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔ ان کو آمدنی سے زیادہ اثاثے رکھنے کا مجرم پایا گیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس گرفتاری کو وزیراعظم عمران خاں کی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے لئے ایک جھٹکا قرار دیا جارہا ہے۔

روزنامہ انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کررہے پاکستان کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگادی گئی ہے۔ اخبار وفاقی تفتیشی ادارے ایف آئی اے کے حوالے سے لکھتا ہے کہ گیلانی کو ایک کانفرنس میں شرکت کیلئے جنوبی افریقہ جانا تھا مگر جب وہ علامہ اقبال بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہونچے تو ان کا نام نو فلائی لسٹ میں پایا گیا۔ ان کا الزام ہے کہ وزیراعظم عمران خاں اپنے سیاسی حریفوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔