08.02.2019جہاں نما

بیرون ملک ٹرمپ کے مالی مفادات اور صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کے سلسلے میں ڈیموکریٹس کا نئی تحقیقات کا عندیہ

آج اخبارات نے جن خبروں کو اہمیت دی ہے، ان میں ٹرمپ کے بیرون ملک مالی مفادات اور 2016 کے انتخابات میں روس کی مداخلت کے خلاف نئی تفتیش کی خبر بھی شامل ہے۔ روزنامہ اسٹیس مین نے عالمی خبروں کے لیے مختص صفحے پر شائع اس خبر میں تحریر کیا ہے کہ امریکہ میں ہاؤس انٹلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شف   نے جمعرات کے روز اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس نئی تفتیش میں اس بات کی جانچ کی جائے گی کہ 2016 کے صدارتی انتخابات میں روس کے درمیان کس نوعیت کے تعلقات یا اور تعاون تھا۔ اس کے علاوہ اس بات کی بھی تحقیقات کی جائے گی کہ بیرون ملک سے ٹرمپ یا ان کے افراد کنبہ پر اور ان کے معاونین پر کسی طرح کا اثرورسوخ استعمال کیا گیا تھا نیز یہ بھی کسی نے متعلقہ تحقیقات میں کسی طرح کی رخنہ اندازی کی تھی یا نہیں۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس سے ایک دن قبل ڈونل ٹرمپ نے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں بقول ان کے ‘‘مہمل اور جانبدارانہ تحقیقات’’ پر تنقید تھی جس کو بدھ کے روز شف نے مسترد کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنا کام کررہے ہیں اور صدر اپنا کام کریں۔ ہمارا کام یہ دیکھنا ہے کہ امریکہ کی پالیسی میں قومی مفادات کو ملحوظ رکھا گیا ہے نہ  کہ مالی دشواریوں، مالی سہولیات یا پھر کسی دوسرے قسم کی سودے بازی کو۔

 

امریکہ میں گرفتار شدہ ہندوستانی طلبا کے تئیں حقوق انسانی پر مبنی سلوک پر قانون سازوں نے دیا زور

اخبارات کی دوسری اہم خبروں میں امریکہ میں جعلی یونیورسٹی میں مندرج طلبا کے حوالے سے بھی ایک خبر شامل ہے۔  روزنامہ ہندو کے مطابق، ہندنژاد امریکی راجہ کرشنا مورتی سمیت کانگریس ارکان کے ایک گروپ نے امریکی حکام سے تحریری درخواست کی ہے کہ فارمنگٹن  یونیورسٹی کے خلاف اسٹنگ آپریشن میں گرفتار ہندوستانی طلبا کے ساتھ مناسب سلوک کیاجائے۔ ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی نیز امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کو ارسال کردہ درخواست پر تین دیگر ارکان تھامس آرسوزی، برینڈا لارنس اور راب ووڈال کے دستخط ہیں۔ اخبار اس خط کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ ہندنژاد امریکی برادری کو ان گرفتار غیرملکی شہریوں کے ساتھ سلوک پر تشویش ہے ، انہوں نے کہاہے کہ  ان کے ساتھ مناسب سلوک کے ساتھ ساتھ قانون کے تحت ان کو حاصل تمام حقوق کی پاسداری کی جائے جن میں اٹارنی تک رسائی اور بانڈ پر رہائی بھی شامل ہے۔ان قانون سازوں نے یہ درخواست بھی کی ہے کہ ان کے تعلق سے مکمل تفصیلات اور تازہ ترین معلومات کا تبادلہ ہندوستانی حکام کے ساتھ کیا جائے۔ نیز یہ کہ ڈی ایچ ایس اور آئی سی ای ان گرفتار شدگان تک کاؤنسلر کی رسائی کو یقینی بنائیں۔ اخبار ہندوستانی سفارت خانے کے حوالے سے مزید رقمطرازہے  کہ ہندوستانی سفیر فارمنگٹن مقدمے میں گرفتار تمام ہندوستانی طلبا سے رابطے میں ہیں۔ اخبار کو معلوم ہوا ہے کہ کچھ طلبا کو ڈیڑھ ہزار سے پانچ ہزار ڈالر کے بانڈ پر رہا کردیا گیا ہے اور کم از کم تین طلبا سان فرانسسکو، ٹیکساس میں بانڈ پر سماعت کے لیے پیش ہوں گے۔ کچھ طلبا گرفتاری سے پہلے ہی وطن روانہ ہوچکے تھے جب کہ کچھ دیگر روانگی کے ٹکٹ دکھاکر گرفتاری سے بچ گئے تھے۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ جو لوگ بانڈ پر رہا ہوئے ہیں ان کو ابتدائی سماعت کے لیے اپریل میں جج کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔

 

ماسکو میں طالبان مذاکرات اختتام پذیر، امریکی افواج کے انخلا کی امیدروشن

ماسکو میں طالبان اور اہم افغان سیاسی رہنماؤں کے درمیان دوروزہ مذاکرات اختتام کو پہنچ گئے ہیں جن سے یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ امریکی افواج کا انخلاشروع ہوجائے گا۔ اس حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ ان مذاکرات میں کچھ ایسے رہنمابھی تھے جو ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں۔ طالبان اور افغان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کے دوران افغانستان کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے ایک وسیع نوعیت کا خاکہ  تیار کرلیا گیا ہے جس کی بنیاد ملک سے امریکی افواج کے انخلا اور شہریوں خصوصا خواتین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے تئیں طالبان کی عہد بستگی پر ہے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ ان مذاکرات میں شامل سابق صدر اور سیاستدانوں کے وفد کے رہنما حامد کرزئی نے ان مذاکرات کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہےجن سے قیام امن، استحکام اور ایک ایسے افغانستان کی تشکیل میں مدد ملے گی جہاں غیرملکی افواج موجود نہ ہوں۔ اخبارکے خیال میں طالبان اور افغان رہنماؤں کے درمیان کریملن کی زیرملکیت پریسیڈنٹ ہوٹل میں منعقدہ اس میٹنگ کو پہلا اہم عوامی رابطہ قرار دیا جارہا ہے جس کے دوران اسلام شورش پسندوں نے خواتین کے حقوق سمیت مختلف امور کے سلسلے میں اپنے موقف پر تفصیلی بات کی جب کہ اس میں اشرف غنی حکومت کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔ اخبار مزید رقمطراز ہے کہ شرکا نے امریکہ اور طالبان کے درمیان آئندہ بات چیت میں اعتمادسازی کے اقدامات پر بھی زور دیا جن میں بیمار، عمررسیدہ قیدیوں کی رہائی یا  ان قیدیوں کی رہائی جن کی مدت بہت کم رہ گئی ہو اور پابندیوں کی فہرست سے شورش پسندوں کے ناموں کو حذف کرنا شامل ہے۔

 

پاکستان میں سرکاری تشدد کے خلاف اشرف غنی کی مذمت

‘‘پاکستان میں سرکاری تشدد کے خلاف اشرف غنی کی مذمت’’۔ یہ سرخی ہے اخبار ٹائمز آف انڈیا کی ایک خبر کی جس کو اس نے عالمی صفحے پر شائع کیا ہے۔ خبر کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کے ذریعے خبیرپختونخوا اور بلوچستان صوبوں میں سول سوسائٹی کے کارکنوں کے خلاف تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان پرغنی کی زبردست تنقید ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ان کو افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں نظر انداز کردیاگیا ہے۔ حال ہی میں صوبہ بلوچستان میں ایک دھرنے کے دوران پشتون تحفظ تحریک کے رہنما ارمان لونی کی موت کے حوالے سے ایک ٹوئٹ میں اشرف غنی نے کہا ہے کہ پرامن احتجاجیوں کے خلاف تشدد پر افغان حکومت کو بیحد تشویش ہے۔ ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے ان مظاہرین کے خلاف کارروائی پر تنقید کی، جو ارمان لونی کی موت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اس خطے اور اجتماعی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے درپے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف سول کارکنوں کی حمایت کرنا ہرحکومت کی اخلاقی ذمہ داری ہے بصورت دیگر اس کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ پشتون تحفظ تحریک کے اٹھارہ کارکنوں کو اس وقت گرفتار کرلیا گیا تھا جب وہ لونی کی موت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اشرف غنی کے ٹوئٹس پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ان بیانات کو غیرذمہ دارانہ اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں واضح خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے بجائے افغان حکومت کو اپنے عوام کی دیرینہ شکایات کے ازالے پر توجہ دینا چاہیے۔

 

سابق وزیراعظم نواز شریف سروسز اسپتال سے واپس جیل منتقل

پاکستان کے ہی تعلق سے روزنامہ ایشین ایج کی ایک خبر کے مطابق، مقیدسابق وزیراعظم نواز شریف کو لاہور میں سروسز اسپتال سے واپس کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ کیونکہ انہوں نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں منتقلی سے منع کیا تھا اور جیل واپسی پر اصرار کیا تھا۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس سے ایک روز قبل نواز شریف کی دختر مریم نواز اور والدہ نے اسپتال میں ان سے ملاقات کرکے ان کی حالت اور صحت پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔واضح ہو کہ 6 فروری کو نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس مقدمے میں طبی بنیاد پر 12 فروری تک ضمانت کی عرضداشت داخل کی تھی مگر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کو مسترد کردیا تھا۔ ان کی طبی رپورٹس عدالت میں پیش کی گئی تھیں اور عدالت نے قومی احتساب بیورو کو اس مقدمے کے سلسلے میں اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔

 

ہندوستان میں انتخابی سال: کانگریس کے خلاف مودی کا زبردست حملہ، راہل نے وزیراعظم کو بحث ومباحثہ کی دی دعوت

روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک خبر کے مطابق وزیر اعظم نریندرمودی آئندہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر کانگریس کے خلاف اپنی حکومت کے لب ولہجے کو سخت کرتے ہوئے کہا ہےکہ  ان کی حکومت کے سیوا بھاؤ کے 55 ماہ اور کانگریس کے ستا بھوگ کے 55 سال کا فرق واضح ہے۔ لوک سبھا میں صدرجمہوریہ کے خطاب پر شکریے کی تحریک کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف نے ان کی حکومت پر بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں مگر اس انتخابی سال میں ایسا کرنا ان کی مجبوری ہے۔ اخبار وزیراعظم کے جواب کے حوالے سےآگےلکھتا ہے کہ انہوں نے اپنی حکومت کو غریب موافق، بدعنوانی مخالف، تیز رفتار ترقی پر مبنی اور ایماندارانہ قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حزب اختلاف کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔اسی اخبار نے کانگریس صدر راہل گاندھی کے حوالے سے بھی ایک خبرشائع کی ہے۔ خبر کے مطابق، راہل گاندھی نے وزیراعظم کو رافیل سودے اور قومی سلامتی جیسے معاملات پر پانچ منٹ کے بالمشافہ بحث ومباحثہ کی دعوت دی ہے۔ نئی دہلی میں کانگریس کے اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نریندرمودی کی چین کی پالیسی پر بھی نکتہ چینی کی اور کہا کہ وہ بغیر کسی ایجنڈے کے سربراہ کانفرنس میں شرکت کی جب کہ چین اور ہندوستان کے درمیان ڈوکلام تعطل موجود تھا۔