قیام امن سے متعلق امریکہ-طالبان مذاکرات کے سلسلہ میں مزید کنفیوژن

افغانستان میں قیام امن سے متعلق  امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے مابین  دوحہ میں جو 6 روزہ بات چیت ہوئی ،اس کا کافی چرچہ رہا اور قیاس آرائیاں بھی خوب ہوئیں۔  اب بھی اندازوں اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور تجزیہ کاروں کی آرا بھی سامنے آرہی ہیں۔   دوحہ مذاکرات کے بعد روس میں بھی طالبان اور افغانسان کے اشرف مخالف خیمے کے سیاسی لیڈروں کے درمیان  بات چیت کا سلسلہ چلا اور اختتام پذیر ہوا لیکن اب بھی واضح طور پر کوئی بات سامنے نہیں آرہی ہے اور اس درمیان افغانستان میں طالبان کے حملوں  میں بھی کوئی کمی نظر نہیں آئی۔ طالبان ، افغانستان کی اشرف غنی حکومت کے نمائندوں سے کسی طرح کی بات چیت سے اب بھی گریز کررہے ہیں۔ یہ بات افغانستان کے سنجیدہ  حلقوں کو کافی ناگوار گذر رہی ہے ۔ حتیٰ کہ صدر اشرف غنی کے سخت مخالفین بھی ان سیاست دانوں کے رویہ کی سخت تنقید کررہے ہیں جنہوں نے روس میں طالبان سے بات چیت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ   یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ذاتی اور سیاسی مفاد کے لئے ایسا کررہے ہیں تاکہ الیکشن میں انہیں ٹکٹ حاصل ہوسکے۔ وہ افغان عوام کے سامنے بہرحال جوابدہ نہیں ہیں۔جو لوگ طالبان کی بے سر پیر کی یہ تجویز  سن کر خاموش رہ گئے کہ امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد افغان فوج کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہے گی ۔ ان کی عقل پر حیرت ہوتی ہے ۔ افغانستان کے سنجیدہ حلقوں میں طالبان کی اس تجویز کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے  اور سوشل میڈیا پر ایک جنگ سی چھڑ گئی ہے۔ اس لفظی جنگ اور قیاس آرائیوں کے درمیان طالبان کا ایک تفصیلی بیان بھی سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے امن مذاکرات اور ان کے نتائج سے متعلق کنفیوژن مزید بڑھ گیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ  مجاہد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور علاقائی طاقتوں سے بات چیت کرنے کے باوجود ابھی تک ایسا کوئی واضح منصوبہ نہیں ترتیب دیا جاسکا ہے جس سےیہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ فریقین کے درمیان فوری طور پر تلخیاں کم ہوسکیں ۔ ذبیح اللہ کے مطابق  ‘‘ہم جنگ جاری رکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ ہمارے دشمن ہم پر حملہ کررہے ہیں اور ہم بھی جوابی کارروائی کررہے ہیں۔

حالانکہ  دوحہ میں ہونے والی چھ روزہ  بات چیت کے بعد امریکہ کے خصوصی  سفیر برائے افغان امور زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ طالبان  سے ہونے والے امن مذاکرات میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے اور طالبان نے ایسا وعدہ کیا ہے جو امریکہ  کے لئے اطمینان کا باعث ہے ۔یا د رہے کہ مسٹر خلیل زاد کو ستمبر میں اس بات کے لئے مامورکیا گیا تھا کہ وہ مصالحت  کا ماحول قائم کرنے کے لئے مختلف حلقوں سے بات چیت کریں تب سے اب تک انہوں نے متعدد حلقوں سے رابطہ قائم کیا ۔ اس سلسلہ میں  انہوں نے پاکستان کے بھی کئی دورے کئے تاکہ امریکہ اپنی اس طویل ترین جنگ کا سلسلہ ختم کرسکے جس میں اس کے ڈھائی ہزار کے قریب  فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ بہرحال ایک طرف امریکہ کی یہ کوششیں ہیں دوسری طرف طالبان کے رویہ میں کوئی بہت بڑی لچک نہیں دکھائی دے رہی ہے۔  اس کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ماسکو میں ہونے والی بات چیت کے ضمن میں کہا ہے کہ وہاں بھی ایسی کوئی ٹھوس بات نہ ہوسکی جس سے یہ اشارہ ملتا کہ  تلخی یقینی طو پر ختم ہوجائے گی۔

مجاہد نے یہ بھی کہا کہ  طالبان نے امریکہ سے بات چیت کا سلسلہ اپنے طور پر شروع کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں طالبان کمانڈرنے کہا کہ امریکہ کے حملے سے پہلے  بھی طالبان نےاس سے کہا تھا کہ وہ جنگ شروع کرنے کی بجائے بات چیت کرے۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق طالبان نے 2013 میں ہی بات چیت   کے لئے دوحہ میں اپنا دفترکھولا تھالیکن اس وقت واشنگٹن کے حکمراں مذاکرات  کے لئے آمادہ نہیں تھے اور اب جبکہ خود امریکہ بات چیت کے لئے تیار ہوا تو طالبان بھی اس کے لئےآمادہ  ہوئے۔ ذبیح اللہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ بات چیت کے سلسلے میں پاکستان نے کوئی رول ادا نہیں کیا ہے۔  یہ شروع سے آخرتک طالبان کی اپنی کوشش رہی ہے ۔ ذبیح اللہ مجاہد کی اس بات چیت کا حوالہ پاکستان کے ڈان نیوز ٹی وی  نے دیا ہے۔

طالبان کی متعدد  تجاویز کو ذہن میں رکھا جائے تو عنقریب  افغانستان میں قیام امن کی امید کم تشدد  میں اضافے کا امکان زیادہ نظر آتا ہے ۔ ان کی،امریکی  فوجوں کی واپسی کے بعد افغان سیکورٹی فورسیز کو تحلیل کرنے اور موجودہ آئین کو ناپید  کرنے کی تجویز نہ صرف ناقابل عمل لگتی ہے بلکہ مزید تشدد اور ٹکراؤ کا ماحول پیدا کرنے کا اشاریہ  معلوم ہوتی ہے۔