11.02.2019 جہاں نما

نائب صدر ونیکیا نائیڈو نے سیاسی جماعتوں کے ذریعہ عوام میں سستی مقبولیت حاصل کرنے کی دوڑ کو کیا مسترد۔

۔ جیسے جیسے عام انتخابات قریب آتے جارہے ہیں ، سیاسی جماعتیں عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لئے دعووں کی بوچھاڑ کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں مصروف ہیں۔ نائب صدرجمہوریہ وینکیانائیڈو نے اس رجحان کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ آج اخبارات نے اس خبر کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ روزنامہ ہندو لکھتا ہے کہ  دی ہندو کے زیر اہتمام بنگلورو میں ایک فکر انگیز اجلاس ‘‘دی ہڈل’’ (THE HUDDLE)سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان قرضوں کی معافی سمیت دیگر دعووں کی مسابقت مسائل کا عارضی حل ہے اور ان سے ملک میں آمدنی میں اضافے کے ڈھانچے جاتی تبدیلیوں کی ضرورت کی تکمیل نہیں ہوتی ہے۔ اخبار ان کے خطاب کے حوالے مزید رقمطراز ہے کہ وعدوں کی بنیادپر اقتدار سے قلیل مدتی  فوائد تو حاصل کئے جاسکتے ہیں مگر ان کانتیجہ طویل مدتی معاشی مسائل کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے جو قطعاً غیر پیداوری ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ جمہوریت کے سلسلہ میں بالغ نظری کا ثبوت دیں۔

ابوظہبی میں ہندی کو  عدالتی کارروائی میں تیسری زبان  کا درجہ حاصل۔

۔ روزنامہ اسٹیٹس مین نے ایک اہم خبر کی طرف قارئین کی توجہ  مرکوزکرائی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ایک سنگ میل فیصلہ کرتے ہوئے  ابوظہبی حکومت نے عدالتوں میں عربی اور انگریزی زبان کے ساتھ ہندی کو تیسری زبان کے  طورپر شامل کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد انصاف تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ اخبارابوظہبی کے جیوڈیشیل  ڈپارٹمنٹ کے بیان سے مزید رقمطراز ہے کہ عدالتوں میں پیش کئے جانے والے دعووں کے لئے متعلقہ فارموں  میں اب عربی اور انگریزی کے علاوہ ہندی کو بھی شامل کرلیا گیا ہے تاکہ ہندی بولنے والے افراد کو عدالتی طریقہ کار،ان  کے حقوق و فرائض جاننے میں مدد مل سکے۔اس کے علاوہ ان کو رجسٹریشن کے طریقہ کار میں بھی اس سے مدد ملے گی۔ واضح رہے کہ  ابوظہبی میں دو اعشاریہ چھ ملین ہندوستانی شہری ہیں جو کل آبادی کا 30 فی صد ہیں یہ تعداد دیگر غیر ملکیوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

امریکی  کانگریس میں مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایک اور شٹ ڈاؤن کا خطرہ۔

۔ کانگریس کے درمیان  مذاکرات کی ناکامی کے بعدامریکہ میں ایک اور شٹ ڈاؤن کے بادل منڈلا رہے ہیں۔  روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے اس خبر کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ سرحدی سلامتی کے لئے رقوم کی فراہمی پر ایک اور شٹ ڈاؤن کو روکنے کے لئے بات چیت ناکام ہوگئی ہے۔ لہذا  رقوم پر کوئی سمجھوتہ ہونے کی وجہ سے نو وفاقی محکموں اور متعلقہ ایجنسیوں میں جمعے سے شٹ ڈاؤن ہوسکتا ہے۔ اخبار کے مطابق مذاکرات کاروں کو امید ہے کہ دوبارہ شٹ ڈاؤن شروع ہونے کی معینہ مدت سے پہلے ایوان اور سینیٹ میں ووٹوں کے لئے سیکورٹی  پلان سے متعلق کوئی سمجھوتہ تیار ہوجائے گا۔ اس سے قبل وہائٹ ہاؤس کے کار گذار چیف آف اسٹاف مک ملوینی (Mick Mulveny) نے کہا تھا کہ شٹ ڈاؤن کی توقع تونہیں کی جاسکتی ہے مگر اس کے امکانات سے پوری طرح سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اتوار کے روز ‘‘ میٹ دی پریس’’ پروگرام میں انہوں نے کہا کہ سرحد کے تحفظ  کے لئے صدر ٹرمپ قانون کے تحت جو کچھ کرسکتے ہیں وہ کررہے ہیں۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ ٹرمپ نے ٹوئٹ پر ایک بار پھر لکھا ہے کہ ڈیموکریٹس نے سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لئے اگر ان کی طلب کردہ رقوم سے اتفاق نہیں کیا تو اس کے لئے وہ اپنے ایگزیکٹیواختیارات کا استعمال کریں گے۔

 طالبان پر جنگ تھوپی گئی، کسی سمجھوتے پر اتفاق رائےنہیں، امن مذاکرات میں طالبان کا بیان۔

۔ افغانستان میں قیام امن مذاکرات میں طالبان کے  بیان کے حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ  امریکہ اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ جاری مذاکرات کے باوجود  ابھی تک کسی ایسے فیصلے پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے جس کے نتیجے میں امریکہ اور  اس کے اتحادیوں کے خلاف معاندانہ کارروائیوں کا فوری خاتمہ ہوسکے۔ اخبار نے ڈان نیوز ٹی وی پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ان پر جنگ تھوپی گئی ہے چونکہ  دشمن ان پر حملے کررہے ہیں اس لئے مجبوراً وہ بھی ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔ ماسکو مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کا بھی ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے جس کے بعد وہ جنگ اور فوجی دباؤ ختم کرسکتے ۔  نیز یہ کہ طالبان امریکہ کے ساتھ جو بات چیت کررہے ہیں ان کی پیش قدمی ان کی ہی جانب سے ہوئی تھی۔ جب طالبان کو مذاکرات شروع کرنے کے لئے پاکستان کے کردار کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ اس میں  کسی باہری ملک کا کوئی رول نہیں ہے۔

دوسری جانب  امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمےخلیل زاد نے اپنے متعدد  ٹوئٹس میں کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ دوحہ میں چھ روزہ  امن مذاکرات میں امریکہ نے نمایاں پیش رفت کی ہے اور افغانستان کو بین الاقوامی  دہشت گرد گروپوں یا انفرادی دہشت گردوں کا پلیٹ فارم بننے سے روکنے کے لئے طالبان نے جس عہد بستگی کا اظہار کیا ہے وہ تسلی بخش ہے۔اخبار نے واضح کیا ہے تقریباً  نصف افغانستان پر طالبا ن کا کنٹرول ہے اور وہ 2001 میں 11/9 کے دہشت گردانہ حملے کے بعد امریکہ کی زیر قیادت حملے کے وقت سے اب تک زیادہ طاقت حاصل کرچکے ہیں۔

امریکہ کی حمایت یافتہ افواج اسلامک اسٹیٹ کے خلاف  جنگ کے آخری مرحلے میں۔

۔ امریکہ کی حمایت یافتہ  افواج ، اسلامک اسٹیٹ خلافت کے جنگ کے آخری مرحلے  میں’’ یہ سرخی ہے روز نامہ ہندستان ٹائمز کی۔ ایک خبر کے مطابق  امریکہ کی حمایت یافتہ شام کی افواج نے ملک کے مشرقی حصے میں آئی ایس  ملٹنٹوں کے 41 ٹھکانوں پر قبضہ کرلیا ہے اور ان کو تباہ کردیا ہے ۔ اس حملے میں آئی ایس  کا یہ آخری گڑھ تھا۔ اس کے لئے شامی افواج اور آئی ایس ملٹنٹوں کے درمیان شدید جنگ ہوئی ہے۔ اخبار شامی  افواج کے ترجمان مصطفی بالی کے حوا لے سے آگے لکھتا ہے کہ اتوار کے روز باغوز (Baghouz) میں شدید لڑائی ہوئی  اور آئی ایس کے جوابی حملوں کو ناکام بنادیا گیا نیز اس علاقے سے تقریباً 40 ہزار شہریوں کو باہر نکال دیا گیا ہے  جن میں بیشر جہادیوں کے بیوی اور بچے ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے بدھ کے روز پیش گوئی کی تھی کہ اسلامک  اسٹیٹ گروپ کو اگلے ہفتے تک عراق اور شام میں اپنے ٹھکانے چھوڑنا ہوں گے۔ اخبار کے مطابق 2014 میں شام اور عراق کے ایک بڑے حصے میں اس گروپ نے  ایک خود ساختہ خلافت قائم کرلی تھی اور اب اس آخری جنگ کے بعد اس کا خاتمہ ہوجائےگا ۔ حالیہ ہفتوں میں امریکی حکام کا یہ بیان سامنے آیاتھا کہ آئی ایس  کو اس کےزیر قبضہ99 اعشاریہ پانچ فی صد علاقے سے بے دخل کردیا گیا ہے اور اس کے پاس شام میں صرف پانچ کلو میٹر کا علاقہ باقی ہے جہاں یہ جنگجو اکٹھے ہیں۔ جن کی تعداد  400 سے 60 کے قریب ہے ۔ ان میں غیر ملکی اور دیگر شدت پسند بھی شامل ہیں۔ ا سکے علاوہ 500 سے ایک ہزار تک شہری بھی وہاں موجود ہیں۔

 پاکستانی قوم کو تکلیف دہ اصلاحات کی ضرورت، ٓائی ایم ایف اجلاس کے بعد عمران خاں کا بیان۔

۔ اخبار ٹائمز  آف انڈیا کی ایک خبر کے مطابق  پاکستان کے وزیر اعظم عمران خاں نے کہا ہے کہ  ملک پر لدے ہوئے بھاری بھرکم قرضوں کی ادائیگی کے لئے قوم کو تکلیف دہ  اصلاحات کی ضرورت ہے۔ دبئی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ میٹنگ کے بعد دیئے گئے ان کے   بیان سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ ان کی حکومت سرکاری اخراجات میں زبردست تخفیف کرے گی۔ اخبار کے مطابق  اپنے بیان میں مزید زور دیتے ہوئے عمران خاں نے کہا کہ یہ اصلاحات سرجری کی طرح تکلیف دہ تو ہوتی ہیں مگر عارضے کوختم کردیتی ہیں لیکن  اس سلسلہ میں بدترین بات یہ ہوتی ہے کہ حکومت اصلاحات کو مخالفت کے ڈر سے ملتوی کرتی رہتی ہے ۔ کیونکہ مفادپرست عناصر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور نتیجتاً  اصلاحات پرعمل درآمد نہیں ہوپاتا ہے۔

روزنامہ  ایشین ایج نے پاکستان  کے ہی تعلق سے ایک خبر شائع کی ہے جس کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف  ، ان کی دختر مریم اور داماد محمد صفدر نے اکتوبر میں درخواست دی تھی کہ ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (Exit control List) سے نکال دیئے  جائیں مگر حکومت نے اس درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ اخبار جیو نیوز کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ اپنی عرضداشتوں میں ان لوگوں نے دلیل دی تھی کہ پاکستان سے باہر جانے کے ضابطے مجریہ 2010 کا اطلاق  ان پر نہیں ہوتا ہے کیونکہ وہ بدعنوانی ، اختیارات کے بے جا استعمال ، دہشت گردی یا سازش میں ملوث نہیں ہیں۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ شریف کے افرادکنبہ کے نام اس فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ گزشتہ  سال اگست میں کابینہ کی میٹنگ میں کیا گیا تھا جس کی صدارت وزیراعظم عمران خاں نے کی تھی