12.03.2019جہاں نما

کشمیر میں سلامتی افواج کے ذریعہ پلوامہ دہشت گرد حملے کا اہم سازشی ہلاک

۔ ہندستان کی سلامتی افواج نے 14 فروری کو پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر حملے کے اہم سازشی کو ہلاک کر کے جیش محمد کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے تمام اخبارات نے اس اہم خبر کو نمایاں سرخیوں کے تحت شائع کیا ہے۔ روزنامہ ٹری بیون لکھتا ہے کہ سلامتی افواج کے سینئر حکام نے اس کا اعلان کرتے ہوئے بتایاکہ حملے کے اہم سازشی مدثر خاں کے ساتھ ہی ایک پاکستانی شہری کامران کو بھی اتوار کے روز پلوامہ میں شدید جھڑپ کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔ اخبار ،فوج کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل کنور جیت سنگھ ڈھلوں کی ایک مشترکہ اخباری بات چیت کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ 25 سالہ مدثر جیش کا اہم رکن تھا جس نے پلوامہ حملے میں مدد کی تھی۔ جبکہ کامران جیش کا آپریشنل چیف تھا۔ نیز یہ کہ پلوامہ حملے کے بعد21 دن کے اندر جیش محمد کے 18 ملٹنٹوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے چھ ملٹنٹ اہم کمانڈر تھے ،8پاکستانی شہری تھے جبکہ 10 مقامی تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ جیسے دیگر دہشت گرد گروپ بھی فوج کے نشانے پر ہیں۔

 

مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دینے کے سلسلے میں ابھی تک چین کا موقف غیر واضح

۔ چین نے اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ آیا وہ اقوام متحدہ میں مسعود اظہر کے تعلق سے اپنے موقف میں کوئی تبدیلی کرے گا۔روزنامہ ہندو نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ سلامتی کاؤنسل کمیٹی کی میٹنگ بدھ کے روز ہوگی جس میں جیش محمد کے سر غنہ مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دینے یا نہ دینے پر رائے شماری ہوگی۔ اس میٹنگ میں چین کے موقف پر ایک سوال کے جواب میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لوکھانگ نے کہا کہ سلامتی کاؤنسل اپنے فیصلے سطحی بنیاد پر نہیں کرتی ہے۔ انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ابھی تک مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کے معاملے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ واضح ہو کہ چین نے تین بار تکنیکی بنیادوں پر اس فیصلے میں روکاوٹ ڈالی ہے اس بار کی کوشش امریکہ،فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں کی جا رہی ہے۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ لو کھانگ نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ چین مسعود اظہر کے معاملے میں تفصیلی بحث چاہتا ہے ۔ ان کے ہی الفاظ میں صرف ذمہ دارانہ اور سنجیدہ بحث و مباحثوں سے ہی مسائل کا دیر پا حل نکالا جا سکتا ہے۔

 

سکریٹری خارجہ کا دورہ امریکہ:‘‘پاکستان کو دہشت گردی کا خاتمہ کرنا پڑے گا’’۔پامپیو ،گوکھلے بات چیت

۔ دہشت گردی اور پاکستان کے ہی تعلق سے روزنامہ ایشین ایج نے خبر دی ہے کہ ہندوستان نے گذشتہ ماہ پلوامہ دہشت گردانہ حملے سے پیدا صورت حال  کے بعد امریکہ کی زبردست حمایت کا شکریہ ادا کیا ہے جبکہ دونوں ممالک نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے اور اپنی سر زمین پر دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی سے دستبردار ہو نا پڑے گا۔اخبار خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے کے موجودہ دورۂ امریکہ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ اپنے امریکی ہم منصب مائک پومپیو کے ساتھ واشنگٹن میں ملاقات کے دوران ہندوستان نےامریکہ سے یہ درخواست بھی کی کہ ہندوستان پر حملے کے لئے پاکستان کے ذریعہ ایف16 جنگجو طیارے کے استعمال کی بھی جانچ کی جائے۔واضح ہو کہ 27 فروری کو پاکستانی فضائیہ نے ہندوستان کے خلاف کشمیر میں میزائلوں سے لیس ایف16 کا استعمال کیا تھا۔

 

پاکستان کی جانب کنٹرول لائن پر سخت نگرانی،پاکستانی فضائیہ اور بری فوج کو کیا گیا مستعد

۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک خبر کے مطابق بالا کوٹ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہندوستانی فضائیہ کے ذریعہ بمباری کے دو ہفتے بعد پاکستانی فضائیہ کنٹرول لائن کی سخت نگرانی کر رہی ہے اور اس نے مشرقی محاذ پر ایف16 جنگجو طیاروں کا پورا اسکواڈ رن تعینات کر دیا ہے۔ اخبار سرکاری ذرائع کے حوالے سے رقم طراز ہے کہ نہ صرف ہندوستان کے ساتھ ملحق پاکستانی سرحد پر پاکستانی فضائی حدود کی پابندیاں جاری ہیں بلکہ راولپنڈی صدر دفاتر کی 10 کور اور سیالکوٹ سے پاکستانی فوج کی خصوصی بریگیڈ کو جموں و کشمیری میں کنٹرول لائن پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس بات کی تصدیق کر لی گئی ہے کہ امریکہ اور اردن سے حاصل کردہ ایف16 طیاروں کو سندھ میں حیدر آباد سے لے کر شمالی علاقوں میں اسکردو تک سخت نگرانی پر تعینات کر دیا گیا ہے۔مزید یہ کہ پلوامہ حملے کے فوراً بعد ہی پاکستانی فوج نے رڈار اور ایئر ڈیفنس سسٹم کو بھی کنٹرول لائن پر تعینات کر دیا تھا کیونکہ پاکستان کو اسی طرح کی جوابی کارروائی کا اندیشہ ہے جیسی ہندوستان نے جیش محمد کے ذریعہ اڑی میں دہشت گردانہ حملے کے بعد 2016 میں کی تھی۔اخبار کا کہنا ہے کہ دوسری جانب ہندوستان بھی کسی ہنگامی صورت حال کا جواب دینے کو پوری طرح تیار ہے مگر ذرائع  نےہندوستان کے ذریعہ کسی بھی طرح کی تعیناتی کی تفصیل نہیں ہے۔

 

ایرانی صدر کادورۂ عراق:دونوں ممالک کے درمیان متعدد معاہدوں پر دستخط

۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک اور خبر کے مطابق ایران اور عراق نے پیر کے روز متعدد ابتدائی تجارتی معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ عراقی حکام کے مطابق ایران کے صدر حسن روحانی اس وقت عراق کے پہلے دورے پر ہیں۔ ان کے اس دورے کا مقصد ایران پر امریکہ کی تازہ پابندیوں کے پس منظر میں عراق کے ساتھ تجارتی تعلقات نیز تہران حکومت کے اثر و رسوخ میں اضافہ کرنا ہے۔اخبار آگے رقمطراز ہے کہ ان معاہدوں میں دونوں پڑوسیوں کے درمیان ریل رابطے کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کو الگ تھلگ کرنے کی امریکی کوششوں کے باوجود ایران کا عراق میں اب بھی کافی اثر و رسوخ ہے۔ایرانی صدر حسن روحانی اور عراقی وزیر اعظم عادل مہدی کے درمیان ملاقات میں مفاہمت کی کئی دستاویزات پر دستخط کئے گئے جن میں تیل،تجارت،صحت اور عراق کے تیل کے شہر بصرہ کو ایران کی سرحدی شہر شیلم چیہہ کو جوڑنے والی ریلوے لائن کا منصوبہ شامل ہے۔اخبار آگے لکھتا ہےکہ دونوں رہنماؤں نے تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لئے ویزا کے ضابطوں کو آسان بنانےسےبھی اتفاق کیا ۔ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کےمطابق سفری ویزا کےلئے کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ اپنے اس دورےمیں صدر روحانی شیعوں کے مقدس شہر کربلا اور نجف کا بھی دورہ کریں گے۔

 

بریگزٹ کے سلسلے میں یوروپی یونین کے ساتھ مے کی بات چیت میں تعطل ،پارلیمان میں ووٹنگ کے دوران مے کی شکست کےآثار

۔ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کو اس وقت ایک اور جھٹکا لگا جب آخری وقت میں یوروپی یونین نے بریگزٹ کے سلسلے میں رعایت دینے سے انکار کر دیا۔ جس کے بعد سے پارلیمنٹ میں ان کی ہزیمت کے  لئےآثار نمایاں ہو رہے ہیں۔روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ اب جب کہ 29 مارچ کو یوروپی یونین سے برطانیہ کی علاحدگی کے لئے 17 دن باقی رہ گئے ہیں ابھی تک اس سلسلے میں کوئی توثیق شدہ معاہدہ نہیں ہو سکا ہے اور لندن میں سیاسی تعطل دور کرنے کے لئے بلاک  کے ساتھ بات چیت میں روکاوٹ آ گئی ہے۔ اخبار ٹریزا کے ترجمان کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ یوروپی یونین کے ساتھ بات چیت میں تعطل کے باوجود پارلیمنٹ میں بقول ان کے ‘‘با معنی’’ ووٹنگ ہوگی۔ دوسری جانب یوروپی کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس ہفتے بریگزٹ پر کسی اہم فیصلے کا انحصار برطانوی پارلیمنٹ پر ہے۔اخبار مزید لکھتا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ واضح نہیں ہے جبکہ بیشتر سفارت کاروں اور سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ بریگزٹ سے اگلی نسلوں کے لئے برطانیہ کی خوشحالی طے ہوگی۔ واضح ہو کہ اس سے قبل 15 جنوری کو پارلیمنٹ اس معاہدے  کو230 ووٹ سے شکست ہوئی تھی جس کے بعد ٹریزا کو آئرلینڈ کے سلسلے میں تبدیلیوں کے لئے برسلز جانا پڑا تھا۔