13.03.2019 جہاں نما

۔ امریکہ  کے ساتھ امن مذاکرات کے باوجود افغانستان میں طالبان کے حملوں میں شدت، تازہ ترین حملے میں پوری افغان فوجی کمپنی کا صفایا

۔ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے باوجود، افغانستان میں طالبان کے حملے جاری ہیں، اسی سلسلے کا تازہ حملہ افغان نیشنل آرمی پر کیا گیا۔ اس حوالے سے عالمی خبروں کے لئے مخصوص صفحے پر شائع خبر میں روزنامہ ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے کہ طالبان نے مبینہ طور پر بدغیس (Badghis) صوبے میں 16 فوجیوں کو قتل کردیا اور 40 کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ شمال مغرب میں واقع یہ صوبہ ترکمانسان کی سرحد کے قریب ہے۔ واضح ہو کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا ہے جب قطر میں امریکی سفارت کاروں کے ساتھ طالبان کے مذاکرات تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکے ہیں۔ اخبار بدغیس صوبے کی کاؤنسل کے سربراہ عبدالعزیز بیگ کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ تازہ ترین حملہ، شورش پسندوں کی ایک ہفتے طویل مہم میں مہلک ترین ہے جس کے دوران بالا مرغاب (Bala Murghab) ضلع میں 70  فوجیوں کو ہلاک، زخمی یا قبضے میں لیا گیا تھا۔ ان تمام حملوں کے نتیجے میں ضلع تباہ حالی کے نزدیک پہنچ چکا ہے۔ اخبار کے مطابق اس سے 10 روز قبل 20 طالبان شورش پسندوں نے ہلمند صوبے میں افغان فوجی کیمپ میں گھس کر تقریباً 40 فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا۔ پیر کے روز بھی سمن گان، سرِ پُل، بلخ، قندوز اور ہلمند صوبوں میں طالبان کے چھوٹے چھوٹے حملوں میں سلامتی دستوں کے 13 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ صرف پچھلے ہفتے ہی ایسے حملوں میں 120 فوجی، پولیس افسران اور سرکاری فوج کے حامی ارکان ہلاک ہوئے تھے۔

۔ مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دینے کے لئے 24 گھنٹے کا وقت باقی، ہندوستان نے تیز کی سفارتی مہم

۔ اب جبکہ اقوام متحدہ سلامتی کاؤنسل میں پانچ مستقل اور 10 غیر مستقل ارکان کے ذریعہ جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے سلسلے میں اعتراض داخل کرنے کے لئے 24 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں، ہندوستان نے نیویارک، واشنگٹن، بیجنگ اور دنیا کے دیگر ممالک کے دارالحکومتوں میں اپنی سفارتی مہم تیز کردی ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ ہندوستان کی وزارت خارجہ چین کی جانب سے جواب کی منتظر ہے اور اس کے موقف میں تبدیلی پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔ حالانکہ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لوکھانگ (Lu kang) کا پیر کے روز دیا گیا بیان حوصلہ افزا نہیں ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ چین نے ایک ذمہ دارانہ طرز عمل اپنایا ہوا ہے اور وہ اقوام متحدہ سلامتی کاؤنسل کی قرارداد کے ضابطوں اور طریقہ کار پر عمل پیرا ہے۔ لوکھانگ کے الفاظ میں ایک ذمہ دارانہ بحث و مباحثے کے ذریعہ ہی کسی ذمہ دارانہ حل پر پہنچا جاسکتا ہے۔ اخبار ذرائع کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اگر چین کے موقف میں کوئی تبدیلی واقع ہوتی ہے تو اس کا اظہار اسلام آباد کے ذریعہ ہوگا۔ ذرائع کے بقول اگر چین فہرست کے عمل کی حمایت کرتا ہے تو اس بات کے واضح امکانات ہیں کہ وہ اسلام آباد حکومت سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا سہرا اپنے سر باندھنے کے لئے کہے گا۔ ذرائع نے مزید کہا  ہے کہ انڈونیشیا کی زیر قیادت 1267 پابندی کمیٹی نیویارک کے سہ پہر 3 بجے تک انتظار کرے گی اور اگر کسی رکن ملک نے اس سلسلے میں کوئی وضاحت طلب نہیں کی تو اظہر مسعود کو بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں خود بخود شامل سمجھا جائے گا۔ اخبار کے مطابق اس صورت میں اظہر پر سفری پابندیاں نافذ ہوجائیں گی اور اس کے اثاثے منجمد کرلئے جائیں گے نیز اس کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ مزید برآں اس شمولیت سے سیاسی علامت بھی ظاہر ہوگی کہ اب چین، دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے پاکستان کی حمایت جاری نہیں رکھ سکے گا اور ہندوستان کے اس موقف کو تقویت ملے گی کہ پاکستان ہی دہشت گردی کا محور ہے۔ واضح ہوکہ گزشتہ کئی برسوں سے چین مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دینے کی راہ میں روڑا بنا ہوا ہے۔

۔ پاکستان میں تانبے اور سونے کے ذخائر پر پاکستانی فوج کی نظر

۔ پاکستانی فوج کے حوالے سے روزنامہ ہندو کی خبر کی سرخی ہے ‘‘تانبے اور سونے کی کانوں پر فوج کی نظر’’۔ خبر کے مطابق ایران اور افغانستان کی سرحد پر تانبے اور سونے کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر موجود ہیں جن کی کارن کنی  کو اپنے ہاتھ میں لینے کے لئے پاکستان کی فوج کوشاں ہے۔ یہ ذخائر غیر ملکی کان کنی فرموں کے قانونی داؤ پیچ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ ریکوڈک (Reko Diq) کان وزیراعظم عمران خان کی صلاحیت کا ایک امتحان بن گئی ہے کیونکہ وہ اس کے ذریعہ بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان کو معاشی و اقتصادی بحران سے نکالا جاسکے جبکہ بلوچستان علاقے میں اس پروجیکٹ سے واقف 10 حالیہ اور سابقہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے حکام کا کہنا ہے کہ فوج، اس قومی اثاثے پر نگاہیں جمائے ہوئے ہے۔ اخبار کے مطابق فوج نہ صرف، ان کی  کانکنی کے لئے سرمایہ کاروں کے بارے میں فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہے بلکہ فوج کے زیر کنٹرول انجینئرنگ فرم فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن اس سے متعلق کنسورشیم (Consortium) کا،رُکن بننے کی تیاری میں ہے۔ اخبار بلوچستان حکومت کے ایک عہدیدار کے حوالے سے مزید رقمطراز ہے کہ ذخائر کو جی ایچ کیو نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ادھر پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ شورش زدہ بلوچستان میں سویلین حکام ریکو ڈک کے انچارج ہیں اور عمران خاں کے ساتھ وہ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کریں گے مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوج اور دیگر متعلقہ ادارے بھی اس کے اہم شریک کار ہیں۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ فوج نے اس نیوکلیائی ملک پر تقریباً نصف صدی تک حکومت کی ہے اور اس کو عمران خاں کی موجودہ حکومت پر بھی غالب تصور کیا جاتا ہے۔

۔ تمام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے پاکستان کی امریکہ کو یقین دہانی

۔ روزنامہ اسٹیٹس مین نے ایک خبر کے ذریعہ مطلع کیا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم تمام دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گا اور ہندوستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے تمام اقدامات کرے گا۔ اخبار امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے ٹوئٹ کے حوالے  سے لکھتا ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیر کے روز فون پر یہ یقین دہانی کرائی۔ اسی دن ہندوستان کے خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مائک پامپیو سے ملاقات کی تھی اور پلوامہ حملے کے ذمہ دار افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے اور پاکستان کے ذریعہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف فوری کارروائی کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق وجے گوکھلے اور پامپیو کے درمیان ملاقات میں امریکہ نے پاکستان پر اپنا دباؤ جاری رکھا تھا۔

۔ بریگزٹ کے سلسلے میں ٹریزا مے کو دوسری بار پارلیمانی شکست

۔ بریگزٹ کے حوالے سے روزنامہ ٹری بیون کی خبر ہے کہ برطانوی پارلیمان نےکل منگل کو دوسری بار ٹریزا مے کے یوروپی یونین سے علیحدگی کے معاہدے کو مسترد کردیا جس کے بعد سے ملک کا بدترین سیاسی بحران شدید ہوگیا ہے۔ قانون سازوں نے وزیراعظم مے کے ترمیم شدہ معاہدے کو 242 کے مقابلے میں 391 ووٹ سے شکست دی۔ ان میں کنزرویٹو پارٹی کے وہ 75 ارکان بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی پارٹی کے موقف سے بغاوت کی ہے۔ دوسری جانب لیبر پارٹی کے تین ارکان نے اپنے رہنما کے موقف سے الگ ہٹ کر اس معاہدے کی حمایت میں ووٹ دیئے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ اب بدھ کے روز اس پر ووٹ ڈالے جائیں گے کہ آیا برطانیہ کو بغیر کسی معاہدے کے یوروپی یونین سے علیحدہ ہونا چاہیے یا نہیں۔

۔ امریکی پابندیوں کے سلسلے میں ایران، عراق کی مدد کا خواہاں

۔روزنامہ اسٹیٹس مین کی خبر کے مطابق، ایران کے صدر حسن روحانی نے پڑوسی ملک عراق کے پہلے دورے میں باہمی معاشی تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا ہے جبکہ امریکہ علاقے میں ایران کے غلبے کو کم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اخبار ایفی (Efe) نیوز کے حوالے سے لکھتا ہے کہ سابقہ دشمن عراق کے ساتھ مستحکم تعلقات اب ایران کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہیں اور ایران، امریکہ کی جانب سے عائد کردہ تازہ پابندیوں کے اثرات سے نکلنے کے لئے بغداد حکومت کی جانب   امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ پیر کے روز سے شروع اس سہ روزہ دورے میں حسن روحانی بغداد حکومت کے ساتھ تعلقات میں نرمی برت سکتے ہیں تاکہ ایران سے عراق کو قدرتی گیس کی فراہمی جاری رہے اور تجارت کو فروغ ملے۔

۔ این آر سی معاملے میں عدالت عظمی نے انتخابی کمیشن سے طلب کیا جواب

۔ این آر سی معاملے سے متعلق خبر میں روزنامہ انقلاب لکھتا ہے کہ سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن سے جواب طلب کیا ہے اور پوچھا ہے کہ جن افراد کے نام این آر سی سے ہٹا دیئے گئے لیکن رائے دہندگان کی فہرست میں موجود ہیں، اس سلسلے میں کمیشن وضاحت دے کہ ایسے لوگوں کا کیا ہوگا اور اس سلسلے میں وہ کیا قدم اٹھا رہا ہے۔ عدالت عظمی کی بنچ نے کمیشن کو نوٹس جاری کرکے جوابی حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے۔ عدالت عظمی نے گوپال سیٹھ کی ایک درخواست پر یہ جواب طلب کیا ہے۔ واضح ہوکہ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے کمیشن کے سکریٹری کو ذاتی طور پر پیش ہونے کے لئے کہا تھا جنہوں نے بتایا کہ ووٹر لسٹ اور این آر سی دونوں الگ الگ ہیں اور عرضی گزار نے جھوٹے بیان کی بنیاد پر عرضی دائر کی ہے۔