14.03.2019جہاں نما

مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دینے کے معاملے میں چین نے پھر اٹکایا روڑا۔

‘‘چین پھر بنا مسعود اظہر کا محافظ’’، ‘‘جیش محمد کے سرغنہ کو دیوارِ چین کی پشت پناہی حاصل’’، ‘‘مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد مشتہر کرنے میں چین پھر بنا روڑا’’ یہ اور اس طرح کی دیگر سرخیاں ہیں جو ملک کے اخبارات نے اقوام متحدہ سلامتی کاؤنسل میں جیش محمد کے سرغنہ کو بین الاقوامی دہشت گرد مشتہر کرنے کے سلسلےمیں پیش کی گئی تازہ تحریک کو چین کے ذریعے بلاک کرنے کی خبروں پر تحریر کی ہیں۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز لکھتا ہے کہ چین کے ذریعے تکنیکی بنیادوں پر اس تحریک کی حمایت نہ کرنے پر ہندوستان نے زبردست مایوسی کا اظہار کیا ہے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک بار پھر روکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔ اخبار وزارت خارجہ کے ایک بیان کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ ہندوستان نے اس تحریک کی ناکامی کے پس پشت سلامتی کاؤنسل کے کسی رکن کا نام تو نہیں لیا ہے مگر اس معاملے سے واقف لوگوں نے تصدیق کی ہے چین اس تحریک کی کامیابی کی راہ میں روڑا اٹکایا ہے۔ بیان کے مطابق ہندوستان نے ان ارکان کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے یہ تحریک پیش کی تھی۔ مزید برآں اس ناکامی کی وجہ سے بین الاقوامی برادری، ممنوعہ اور سرگرم تنظیم جیش محمد کے سرغنہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکی ہے جس نے 14فروری 2019 کو جموں وکشمیر میں دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ لیکن اس کے باوجود نئی دہلی حکومت اُن دہشت گرد رہنماؤں کے خلاف تمام دستیاب طریقہ کاروں کو آزماتی رہے گی جو ہندوستانی عوام کے خلاف گھناؤنے جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان کو کیفر کردار تک پہونچاکر ہی دم لے گی۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ مسعود اظہر کے خلاف تازہ ترین تحریک فرانس نے پیش کی تھی اور برطانیہ اور امریکہ نے اس کی حمایت کی تھی۔ یہ چوتھی بار ہے جب چین نے مسعود اظہر کے خلاف تحریک کو ناکام بنایا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات خراب کرنا نہیں چاہتا ہے۔

سلامتی کاؤنسل میں اظہر کے خلاف تجویز کو پاکستان کے ایما پر چوتھی بار چین نےبنایا ناکام

اسی حوالے سے اخبار انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ پاکستان کے ایما پر چین نے چوتھی بار مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دینے کی ہندوستانی کو شش میں روڑا اٹکایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ تحریک اگلے چھ ماہ کے لئے ٹھنڈے بستے میں چلی گئی ہے جس کے بعد اگر اس کو دوبارہ پیش کیا گیا تو بیجنگ پھر اس کو ناکام بناسکتا ہے۔ یا ہوسکتا ہے کہ اپنا اعتراض واپس لے لے۔ اگلے نوماہ میں رکن ممالک کو اس پر روک لگانے کے لئے کمیٹی کو معلومات فراہم کرنا ہونگی۔ اخبار ذرائع کے ساتھ خصوصی گفتگو کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اس بار کی تجویز کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں 13 ممالک نے حصہ لیا جو اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ فرانس، برطانیہ امریکہ اور جرمنی کے علاوہ اس میں پولینڈ، بلجیم، اٹلی، بنگلہ دیش، مالدیپ، بھوٹان استوائی گمنی  ، جاپان اور آسٹریلیا بھی شامل تھے اس سے ہندوستان کی تجویز کو زبردست حمایت کا اظہار ہوتا ہے۔ لیکن اخبار کے مطابق چین نے جو پاکستان کو اپنا سدابہار دوست اور دوست آہن سمجھتا ہے، امریکہ،فرانس ، برطانیہ ، روس اور ہندوستان کی جانب سے پڑنے والے دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا ہے۔

کرتار پور راہداری پر مذاکرات: کرتارپور صاحب تک بناویزا سکھ یاتریوں کی رسائی کے لئے ہندوستان خواہشمند، خالصتان حامی پروپیگنڈے کے خلاف بھی اُٹھائی آواز

اٹاری میں کرتارپور صاحب راہداری پروجیکٹ کے سلسلے میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت میں نئی دہلی کے ذریعے حکومت پاکستان سے ہندوستانی سکھ یاتریوں کے لئے بناویزا آمدورفت  کی درخواست متوقع ہے تاکہ وہ بلاروکاوٹ تاریخی کرتارپور صاحب گرودوارے کی زیارت کرسکیں۔ نیز یہ کہ وہ کرتارپور صاحب کے مقدس مقام کو خالصتان پروپیگنڈے کے لئے استعمال نہ کرے۔ روزنامہ ایشین ایج  اس سلسلے میں رقمطراز ہے کہ اس پروجیکٹ پر اتفاق رائے کے تین ماہ بعد یہ بات چیت زبردست کشیدگی کے درمیان ہورہی ہے جس کی وجہ جیش محمد کے ذریعے پلوامہ حملے کے بعد بالاکوٹ میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہندوستانی فضائیہ کا غیرفوجی حملہ ہے۔ اس سال گرونانک دیو صاحب کے 550 ویں یوم پیدائش کے موقع پر ہندوستان سکھ یاتریوں کو کرتارپور صاحب بھیجنا چاہتا ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ مذاکرات کے دوران نئی دہلی حکومت متوقع طور پر اسلام آباد پر یہ بھی واضح کرسکتی ہے کہ ہندوستانی سکھ یاتریوں کو خالصتان حامی عناصر ہراساں نہ کریں۔ کیونکہ خبروں کے مطابق گزشتہ برس ہندوستانی یاتریوں کو اس وقت خالصتان حامی بینرس دکھائے گئے تھے جب وہ سکھوں کے دو مذہبی مقامات کے لئے سفر میں تھے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ نئی دہلی نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ اس میٹنگ کے موقع پر ہی راہداری کو جوڑنے کے سلسلے میں تکنیکی سطح کی بات چیت بھی کی جائے۔

سال 2020 کیلئے پاکستان کو امریکی امداد برائے نام

روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے بجٹ 2020 میں اپنے حلیف ممالک کے لئے فوجی اور لاجسٹک امداد کو نصف کردیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی جانب سے بہت کم امداد ملے گی۔ اخبار لکھتا ہے کہ 2019 کے بجٹ میں کولیشن سپورٹ فنڈ 900 ملین ڈالر تھا اب اس میں 50 فیصد تخفیف کرکے 450 ملین ڈالر کردیاگیا ہے۔ جنوبی ایشیا امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تخفیف کا مطلب ہے کہ پاکستان کو امداد برائے نام رہ گئی ہے۔

چین میں سالانہ اجلاسوں کے دوران شی کی بی آر آئی پیش قدمی پر تنقید

ایشین ایج  کی ایک اور خبر کے مطابق چین کے سالانہ سیاسی اجلاسوں میں  صدر شی کی پسندیدہ بی آر آئی پیش قدمی پر تنقید کی گئی ہے۔ روزنامہ ہانگ کانگ کے اخبارساؤتھ چائنا پوسٹ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ چین کے ایک جماعتی سیاسی نظام میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ چین کی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس اور نیشنل پیوپلز کانفرنس کے سالانہ اجلاس 3مارچ کو شروع ہوئے تھے اور 15 مارچ تک جاری رہیں گے۔ مشاورتی کانفرنس، قومی سطح کا ایک مشاورتی ادارہ ہے جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زائد نامزد مندوبین شامل ہیں جبکہ دوہزار سے زائد قانون سازوں پر مشتمل نیشنل پیوپلز کانفرنس کو ایک ایسی کٹھ پتلی پارلیمنٹ سمجھا جاتا ہے جو چین کی برسراقتدار  کمیونسٹ پارٹی کے ضابطوں اورقوانین کے آگے ہمیشہ سر جھکا دیتی ہے۔ اخبار کے مطابق چین میں اختلاف رائے اور عدم اتفاق رائے بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔ ان حالیہ اجلاسوں میں تنقید اور وہ بھی شی کی بی آر آئی کے خلاف دیکھنے میں آئی جس کا بجٹ مبینہ طور پر ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔

بوئنگ 737 میکس پر پابندی کا معاملہ: سلامتی و حفاظتی اقدامات کو ترجیح: ٹائمز آف انڈیا کا اداریہ

ایتھوپین ایئرلائنس کے بوئنگ 737 میکس طیارے کو جو حادثہ پیش آیا تھا اس کے بعد طیارے میں حفاظت اور سلامتی سے متعلق متعدد سوالات اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور ہندوستان سمیت متعدد ممالک نے اس پر پابندی لگادی تھی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے اس پر اپنے اداریے میں تحریر کیا ہے کہ اس طیارے میں مناسب ردوبدل اور حفاظت سے متعلق بہتر اقدامات تک پابندی کے لئے ہندوستان کا فیصلہ قابل جواز ہے۔ شبہ ہے کہ ایم سی اے ایس نامی خودکارنظام سے پائلٹوں کی کم واقفیت اس طرح کے حادثات کی وجہ بنتی ہے۔ اب تمام دنیا کی نگاہیں بوئنگ پر مرکوز ہیں کہ وہ سافٹ ویئر کے سلسلے میں  کیا ضروری اقدامات کرتی ہے۔ اخبار اپنے اداریے میں آگے رقمطراز ہے کہ ڈی جی سی اے نے اس سلسلے میں پیش قدمی کرتے ہوئے میکس طیاروں کے لئے پائلٹوں اور کو پائلٹوں کے لئے بالترتیب ایک ہزار اور 500 گھنٹے کی پرواز کے تجربے کی جو پابندی لگائی ہے اس پر ماہرین نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حادثوں کے لئے پرواز کے تجربے کے مقابلے میں خراب تربیت زیادہ ذمہ دار ہے۔ خود صدر ٹرمپ نے بھی اپنے ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ چونکہ طیاروں کی بناوٹ میں روز افزوں ترقی ہورہی ہے اس لئے ان کو اڑانا بھی پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ چونکہ تکنیکی طور پر جدید ترین طیاروں کی شمولیت ناگزیر ہے اس لئے انتہائی شدید تربیت بھی ضروری ہوگئی ہے۔ اخبار اعداد وشمار کے حوالے سے لکھتا ہے کہ پائلٹوں کی مدد کے لئے آن بورڈ کمپیوٹروں کی جدیدکاری کے ساتھ طیاروں کی حفاظت اور سلامتی کا سوال بھی اٹھتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے ساتھ ساتھ عمدہ تربیت بھی لازمی کردی جائے۔ اخبار نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ بی 737 میکس طیاروں میں جو تکنیکی خامیاں ہیں ان کو جلد دور کرلیا جائیگا۔

برطانیہ میں مے کا بریگزٹ معاہدہ ایک بار پھر مسترد

‘‘مے کا بریگزٹ معاہدہ ایک بار پھر مسترد’’۔ یہ سرخی ہے روزنامہ اسٹیٹس مین کی۔ خبر کے مطابق یوروپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے معاہدے کو ارکان پارلیمنٹ نے پھر مسترد کردیا ہے جس کے بعد اب یہ طے کیا جائے گا کہ علیحدگی کے منصوبے  پر کسی معاہدے کے ساتھ یا پھر بناکسی معاہدے کے عمل درآمد کیاجائے۔ جبکہ بریگزٹ کے لئے 29مارچ کی طے شدہ تاریخ بہت تیزی سے قریب آتی جارہی ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اگر بناکسی معاہدے والے بریگزٹ کو مسترد کردیا جاتا ہے تو ارکان پارلیمان 29 مارچ کی تاریخ میں توسیع کے سلسلے میں ووٹ ڈالیں گے۔ دوسری جانب یوروپی یونین کا کہنا ہے کہ اس نے ساری تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور اب یہ برطانیہ پر منحصر ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا فیصلہ کرتا ہے۔ اخبار کے مطابق اب بجٹ کے ساتھ ساتھ برطانیہ کو اس بات کا بھی اعلان کرنا ہے کہ بناکسی معاہدے کے بریگزٹ  کی صورت میں وہ کیا اقدامات کرے گا۔