11.04.2019جہاں نما

جلیان والا باغ سانحہ برطانوی حکومت کیلئے شرمناک: ٹریسامے کا بیان

برطانوی وزیراعظم ٹریسامے نے امرتسر کے جلیان والا باغ قتل عام کو برطانوی حکومت کیلئے شرمناک قرار دیا ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کیساتھ شائع کیا ہے، اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی اسٹیٹس مین تحریر کرتا ہے کہ اس قتل عام کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر جاری ایک بیان میں برطانوی وزیراعظم نے اس سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت امرتسر میں جو کچھ بھی ہوا اس پر ہمیں افسوس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1919 کا جلیان والا باغ سانحہ ہندوستان میں برطانوی حکومت کی تاریخ کیلئے ایک شرمناک داغ ہے۔ برطانوی حکومت کے ریکارڈ کے مطابق جلیان والا باغ میں ہوئی فائرنگ میں مرد، خواتین اور بچوں سمیت 379 افراد ہلاک اور تقریباً 1200 زخمی ہوئے تھے۔ ادھر اپوزیشن لیبر پارٹی نے وزیراعظم ٹریسامے سے ہندوستان میں ہوئے اس سانحہ کیلئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے لیڈر جیرمی کاربن نے کہا کہ حکومت کو اس سلسلے میں واضح طور پر معافی مانگنی چاہئے۔ ادھر لیبر پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ پیٹ مک فاڈن   نے کہا کہ آج ہندوستان اور برطانیہ کے تعلقات بہت اچھے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں اس سے معافی نہیں مانگنی چاہئے۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے 2013 میں اس وقت کے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ہندوستان کے دورے پر اس سانحہ کو بے حد شرمناک قرار دیا تھا حالانکہ انہوں نے بھی ٹریسامے کی طرح اس واقعہ پر معافی نہیں مانگی تھی۔

 

چین کے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دیے جانے کی تجویز کی  حمایت کرنے کی امید

اس بات کے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دیئے جانے کی تجویز کی اب چین مخالفت نہیں  کریگا۔ اس بارے میں آئندہ ماہ ووٹنگ ہونے والی ہے۔ اس خبر کو روزنامہ ایشین ایج نے خاص طورپر اپنے کالموں میں جگہ دی ہے۔ معتبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار لکھتا ہے کہ اس سلسلے میں ہندوستان اور چین کی حکومتیں رابطے میں ہیں اور مثبت اشارے مل رہے ہیں کہ آئندہ ماہ مسعود اظہر کے بارے میں سلامتی کونسل میں جب ووٹنگ ہوگی تو چین اس کی مخالفت نہیں کریگا۔ چین کے اس اقدام سے ہند-چین تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ اگر اظہر کو آئندہ ماہ اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے تو اس سے ہندوستان کی پوزیشن کافی بہتر ہوجائے گی اور امید ہے کہ اپنی سرزمین  پر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے پاکستان پر دباؤ بڑھ جائیگا۔ قابل ذکر ہے کہ پچھلے ماہ چین نے اقوام متحدہ میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دیئے جانے کی تجویز کی مخالفت کی تھی جبکہ سلامتی کونسل کے تمام دیگر ارکان نے اس کی حمایت کی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ چین کو اب اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ لگاتار مسعود اظہر کو بچانے سے اس کی شبیہ خراب ہوگی کیونکہ تمام دنیا اس طرح کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا خواہاں ہے۔ بیجنگ کو شاید یہ احساس بھی ہوچلا ہے کہ اگر اس نے اس معاملہ میں اپنے موقف میں تبدیلی نہیں کی تو نئی دہلی کے ساتھ اس کے تعلقات پر منفی اثر پڑسکتا ہے۔

 

مسلح ملیشیاؤں کی اب پاکستان میں ضرورت نہیں: عمران خان کا بیان

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے عہد کیا ہے کہ وہ ملک کو ان تمام دہشت گردوں سے چھٹکارا دلادیں گے جنہیں فوج نے پیدا کیا اور ان کی سرپرستی کی ہے۔ ان دہشت گردوں میں وہ بھی شامل ہیں جو جموں وکشمیر میں دہشت گردانہ حملے کرتے رہتے ہیں۔ اس خبر کو روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے جلی سرخی کیساتھ شائع کیا ہے۔ اخبار تحریر کرتا ہے کہ منگل کے روز اسلام آباد میں غیر ملکی صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ  بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باہر سے کتنا دباؤ ہے یہ سب بھول جائیے لیکن ہاں ہم نے اپنے ملک کے مستقبل کیلئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم کسی بھی مسلح ملیٹنٹ کو کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان ملیٹنٹوں میں وہ گروپ بھی شامل ہیں جو جموں وکشمیر میں حملے کرنے میں ملوث ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستانی فوج نے 1980 میں ان ملیٹنٹوں کو پیدا کیا تھا جب ان کا ملک اور امریکہ افغانستان میں سوویت افواج کے خلاف شورش پسندوں کی حمایت کررہا تھا۔ لیکن اب ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملیٹنٹوں کے خلاف کارروائی کو فوج اور آئی ایس آئی کی پوری حمایت حاصل ہے۔

 

لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلہ کی ووٹنگ آج

پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے انتخاب کے پہلے مرحلے کی پولنگ آج ہورہی ہے۔آل انڈیا ریڈیو کے مطابق  18 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام دو علاقوں کے 91پارلیمانی حلقوں کیلئے ووٹ ڈالے جائیں گے۔اس مرحلہ میں کل 142 ملین ووٹر ایک لاکھ 70 ہزار 664 بوتھوں پر 1279امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ زیادہ تر حلقوں میں پولنگ آج صبح سات بجے شروع ہوئی ۔ البتہ بائیں بازو کی انتہاپسندی سے متاثرہ علاقوں اور شمال مشرقی ریاستوں میں پولنگ کے اوقات الگ ہیں۔

پارلیمانی انتخابات 7 مرحلوں میں ہوں گے اور نتائج کا اعلان 23 مئی کو کیا جائے گا۔

 

اسرائیل میں نیتن یاہو کے ریکارڈ پانچویں بار وزیراعظم بننے کے امکانات روشن

اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات میں لیکوڈ پارٹی کی زبردست سبقت سے نیتن یاہو کے پانچویں بار وزیراعظم بننے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے اپنے کالموں میں خاص جگہ دی ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندو تحریر کرتا ہے کہ 69سالہ وزیراعظم کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے باوجود انہیں یہ کامیابی ملی ہے۔ 120نشستوں والی پارلیمنٹ میں وزیراعظم نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اس کی اتحادیوں نے اب تک 65 سیٹیں حاصل کی ہیں۔ ایگزٹ پول کے بعد نیتن یاہو اور ان کے حریف فوج کے سابق سربراہ بینی گینٹز  دونوں نے جیت کا دعویٰ کیا تھا لیکن بدھ کی شام میں بلواینڈ وہائٹ لیڈر بینی نے شکست تسلیم کرلی۔ انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو کی کامیابی سے ان کے امن منصوبے کو بہتر موقع ملے گا۔ ادھر وزیراعظم نریندر مودی نے بھی جناب نیتن یاہو کو ان کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔

 

خاشقجی کے کنبہ نے سعودی حکومت کیساتھ تصفیہ کی خبروں کوکیا خارج

ان خبروں کے بعدکہ مقتول صحافی جمال خاشقجی کے بیٹوں نے سعودی حکومت سے پیسے لیکر معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی ہے، ان کے کنبہ نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ عدالت کے باہر  تصفیہ کیلئے سعودی حکام سے ان کی کوئی بات چیت چل رہی ہے۔ اس خبر کو روزنامہ انڈین ایکسپریس نے جلی سرخی کیساتھ شائع کیا ہے۔ اخبار تحریر کرتا ہے کہ صالح خاشقجی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک بیان پوسٹ کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت مقدمہ چل رہا ہے اور تصفیہ کیلئے کوئی بات چیت نہ پہلے ہوئی ہے اور نہ اب ہورہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ واشنگٹن پوسٹ نے پہلی اپریل کو خبر دی تھی کہ سعودی حکومت نے صالح سمیت خاشقجی کے بچوں کو قیمتی مکانات دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں ہزاروں ڈالر ماہانہ بھی دیئے جارہے ہیں۔ جمال خاشقجی واشنگٹن پوسٹ کیلئے کام کرتے تھے۔ وہ سعودی حکومت کے سخت ناقد تھے۔ انہیں اکتوبر میں استنبول میں سعودی قونصل خانہ میں ہلاک کردیا گیا تھا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر الزام ہے کہ انہوں نے  خاشقجی کے قتل کی سازش رچی تھی۔ شروع میں ریاض نے کہا تھا کہ اسے خاشقجی کے بارے میں کچھ پتہ نہیں لیکن بعد میں اس نے تسلیم کیا کہ کچھ بدمعاشوں نے خاشقجی کو ہلاک کیا ہے۔