12-04-2019 جہاں نما

لوک سبھاانتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ مکمل، پولنگ کا فیصد مغربی بنگال میں سب سے زیادہ جب کہ بہار میں سب سے کم

دلّی سے شائع ہونے والے آج کے سبھی اخباروں میں کل لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ کی خبروں کو اپنی شہ سرخیوں میں جگہ دی ہے۔ روزنامہ ٹریبیون کے مطابق سب سے زیادہ پولنگ بنگال میں جبکہ سب سے کم  پولنگ بہار میں ریکارڈ کی گئی۔ اخبار نے لکھا ہے کہ جمہوریت کے اس جشن میں کل انتخابات کے پہلے مرحلے کئی مرکزی وزیروں اور اہم لیڈروں سمیت 1239 امیدواروں کی سیاسی قسمت ای وی ایم میں بند ہوگئی ہے۔ کل 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی 91 لوک سبھا سیٹوں پر ووٹ ڈالے گئے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق  پولنگ کم وبیش پُرامن رہی۔ بائیں بازو کی انتہاپسندی سے متاثرہ علاقوں میں بھی لوگ نے نکسلیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ کمیشن کے مطابق چھتیس گڑھ میں 56 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ خاص بات یہ ہے کہ چھتیس گڑھ کے شیام گری میں، جہاں منگل کو ایک دھماکے میں بی جے پی کے ایم ایل اے سمیت  پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے، ووٹروں نے پورے جوش وخروش سے اس جشن میں حصہ لیا اور یہاں 77فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ خبر کے مطابق بہار میں، جہاں 4 لوک سبھا حلقوں کیلئے ووٹ ڈالے گئے، سب سے کم یعنی 50فیصد پولنگ درج کی گئی۔ دوسری جانب مغربی بنگال میں، جہاں دو سیٹوں کیلئے انتخاب ہوا ، سب سے زیادہ 81فیصد پولنگ درج کی گئی ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے علاوہ آندھراپردیش، اروناچل پردیش، سکم کی اسمبلی سیٹوں کیلئے جبکہ اڈیشہ کی کچھ اسمبلی سیٹوں کیلئے بھی اس مرحلے میں پولنگ ہوئی۔ کمیشن کے مطابق تشدد کے اِکاّ دُکاّ واقعات بھی درج کیے گئے ہیں اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بھی  کہیں کہیں خرابی آنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان تمام روکاوٹوں کے باوجود پولنگ بہت کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئی۔

 

وکی لیکس کے بانی جویلن اسانج لندن میں گرفتار

روزنامہ ہندو نے وِکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی لندن میں گرفتاری کی خبر کو صفحہ اول پر شائع کیا ہے۔ خبر کے مطابق  ایکواڈور حکومت کے ذریعے اسانج کو دی گئی پناہ واپس لیے جانے کے بعد منگل کو انہیں لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے سے برطانوی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسانج کو خفیہ معلومات منظرعام پر لانے کے اب تک کے سب سے بڑے واقعے میں  امریکہ کے حوالے کیے جانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ جولین اسانج نے تقریبا سات سال پہلے ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لے لی تھی۔

امریکی استغاثہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسانج پر سرکاری کمپیوٹر تک رسائی حاصل کرنے اور خفیہ معلومات عام کرنے کے لیے 2010 میں فوج کے خفیہ محکمہ کی تجزیہ کار چیلسی میننگ کے ساتھ سازش کرنے کی فرد جرم عائد کی ہے۔

 

نتن یاہواسرائیل میں پھر دائیں بازو کی حکومت تشکیل دینے کے لیے  تیار

روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نتن یاہوجمعرات کو اسرائیلی انتخابات میں اعتدال پسند اتحاد کے سخت چیلنج کے باوجود جیت حاصل کرنے کے بعد دائیں بازو کی حکومت تشکیل دینے کے لیے کوشاں ہیں۔منگل کے روز ہوئی پولنگ میں 69 سالہ نتن یاہو پر بدعنوانی کے الزامات کے باوجود لوگوں نے ان کے حق میں ووٹ دیا ہے اور وہ اپنے عہدے پر برقرار رہتے ہوئے اس سال ملک کے سب سے طویل عرصے تک وزارت عظمی کے عہدے پر فائز رہنے والے لیڈر بن جائیں گے۔ البتہ  بدعنوانی کے الزامات اتحادی حکومت تشکیل دینے سے متعلق نتن یاہو کے دیگر پارٹیوں کے ساتھ مذاکرات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ خبر کے مطابق تجزیہ کاروں کو امید ہے کہ ان سے اتحاد کرنے والے بدعنوانی سے متعلق ان سے کوئی عہد لے سکتے ہیں۔

جناب نتن یاہو کی موجودہ حکومت کو اسرائیل کی تاریخ میں اب تک کی سب سے شدید دائیں بازو کی حکومت سمجھا جاتا ہے اور امید ہے کہ یہ حکومت اپنے اسی رویے پر قائم رہے گی۔نتن یاہو نے اپنی چناؤمہم  کے دوران صرف چند دن پہلے ہی اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں میں اضافہ کریں گے۔لیکوڈ پارٹی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ نتن یاہو دائیں بازو کی حکومت تشکیل دیں گے اور وہ قومی کیمپ کے ساجھیداروں کے ساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت کرچکے ہیں۔نتن یاہو نے اپنی پورے چناؤ مہم کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ  اپنے مضبوط رشتوں کو اجاگر کیا تھا، جنہوں نے امریکی پالیسی کوکھل کر اسرائیل کے حق میں تبدیل کیا ہے۔

 

امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مسعود اظہر کے معاملے پر چین کو متنبہ کیا

ٹائمز آف انڈیا کی ایک خبر کے مطابق پاکستان میں قائم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر پر بین الاقوامی پابندی عائد کرنے کی مہم اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں مزید تیز ہوگئی ہے۔امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے، جنہوں نے اظہر پرپابندی عائد کرنے کی قرارداد پیش کی تھی، چین پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی ایک ، دو ،چھ، سات کمیٹی کے ذریعے تجویز کردہ پابندی پر اپنی طرف سے تکنیکی رکاوٹ ختم کرےورنہ اس معاملے پر کونسل میں ایک اور قرار داد پیش کی جاسکتی ہے۔

خبر کے مطابق اگرچہ اس معاملے پر مذاکرات ابھی جاری ہیں،ایک مغربی سفارتی ذرائع نے کہا ہے کہ  بیجنگ کو 23 اپریل تک کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ اپنی جانب سے رکاوٹ کو ختم کردے تاکہ اظہر کو باضابطہ طور پر دہشت گرد قرار دیا جاسکے۔اگر ایسا نہیں ہوا تو اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اظہر پر پابندی عائد کرنے کے لیے ایک، دو، چھ، سات کمیٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے تجویز پیش کی جاسکتی ہے۔پندرہ رکنی سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان ایک متوازی قرار داد تقسیم کی گئی ہے۔لیکن باضابطہ طور پر اسے پیش نہیں کیا گیا ہے تاکہ چین کو اپنے موقف پر نظر ثانی کے لیے آمادہ کرنے کے بارے میں غیر سرکاری طور پر تبادلہ خیال کیاجاسکے۔

 

سوڈان کی فوج نے صدر عمر البشیرکو معزول کرکے حراست میں لیا

سوڈان میں صدر عمر البشیرکی حکومت کا مسلح افواج کے ذریعہ تختہ پلٹے جانے کے بعد انہیں عہدے سے برطرف کرکے گرفتار کرلیا گیا ہے۔روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق سوڈان کے وزیر دفاع عود محمد احمد ابن عوف نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک خطاب میں دوسال تک ملک میں فوجی حکومت کے بعدصدارتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ 75 سالہ صدر البشیر کو ایک محفوظ مقام پر رکھا گیا ہے اور اب ایک فوجی کونسل ملک کا نظم ونسق سنبھالے گی۔البتہ انہوں نے یہ نہیں واضح کیا ہے کہ حکومت کا سربراہ کون ہوگا۔وزیر دفاع نے اپنے اس خطاب میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے، ملک بھر میں جنگ بندی اور آئین معطل کیے جانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوڈان کی فضائی حدود کو 24 گھنٹے تک کے لیے بند کیا جاتا ہے اور ملک کی سرحدیں بھی اگلے نوٹس تک بند رہیں گی۔

البتہ بشیر کے خلاف احتجاج کرنے والے سوڈانی پیشہ وروں کی ایسوسی ایشن نے، جو اہم گروپ ہے، وزیر دفاع کے منصوبوں کو مسترد کردیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ وزارت دفاع کے باہر دھرنا دیں۔ سوڈانی ذرائع نے کہا ہے کہ عمر البشیر کو صدارتی رہائش گاہ میں سخت پہرے میں رکھا گیا ہے۔ملک کی اہم اپوزیشن امہ پارٹی کے سربراہ صادق المہدی کے ایک بیٹے نے الحدث ٹی وی کو بتایا کہ عمر البشیر کو دہشت گرد اخوان المسلمین گروپ کے لیڈروں کے ساتھ رکھا گیا ہے۔

بشیر کو ہیگ کی بین الاقوامی عدالت نے بھی قصوروار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کررکھا ہے۔ عدالت نے بشیر کو 2003  میں سوڈان کے دار فر خطے میں شورش کے دوران قتل عام کا ملزم قرار دیا ہے۔اس قتل عام میں تقریبا تین لاکھ افراد مارے گئے تھے۔

 

برطانیہ جلیاں والا باغ قتل عام کے لیے معافی مانگے اور ‘کوہ نور’ واپس کرے: پاکستان کا مطالبہ

روزنامہ ایشین ایج کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ ‘کوہ نور’ ہیرا واپس کرے، جو لاہور میوزیم کی ملکیت ہے۔پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بدھ کے روز برطانوی وزیر اعظم تھریسامئے کے ذریعے دیے گئے بیان پر اپنے ٹوئٹراکاؤنٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ برطانوی وزیراعظم نے بدھ کے روز اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ برطانوی فوجوں نے 1919 میں جلیاں والا باغ میں قتل عام کیا تھا، البتہ انہوں نے معافی نہیں مانگی۔ فواد چودھری نے کہا ہے کہ برطانیہ کو جلیاں والا باغ قتل عام پر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے معافی مانگنی چاہیے۔اس واقعے میں برطانوی فوجیوں نے غیرمسلح مظاہرین پر اندھادھند گولیاں چلائی تھیں اور درجنوں افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

برطانوی وزیراعظم تھریسامئے نے کہا ہے کہ ہمیں جو کچھ ماضی میں ہوا اس پر بہت افسوس ہے۔ انہوں نے یہ بات جلیاں والا باغ سانحے کی 100 ویں برسی کے موقع پر کی۔