پاکستان میں ہزارا شیعوں کا درد

پاکستان میں  دہشت گردی کے کئی رنگ اور کئی روپ ہیں۔ پاکستانی فوج اور ایجنسیوں نے بھلے ہی کچھ خاص وقتوں اور خاص حالات میں پڑوسی ملکوں افغانستان اور ہندوستان کے خلاف دہشت گرد گروپوں کو پروان چڑھایا اور مسلسل ان گروپوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی لیکن یہ سلسلہ صرف پڑوسی ملکوں میں کی جانے والی مہم جوئیوں تک محدود نہیں رہا۔ جس بڑے  پیمانے پر عسکریت پسندی کی جانب پاکستان کے ایک بڑے حلقے کو راغب کیا گیا اور جس طرح مذہبی انتہاپسندی کے کندھے پر سوار ہوکر مسلکی منافرت بھی فروغ پاتی رہی، اس نے بالآخر ایک ایسے تناور درخت کی شکل اختیار کرلی جس کی شاخوں تک کو کاٹنا پاکستان کے بس کی بات نہیں لگتی۔ سو دہشت گردی کا ایک روپ مسلکی منافرت کی بنیاد پر ہونے والی قتل و غارت گری بھی ہے۔ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسی تنظیمیں پاکستان میں پہلے ہی سے پھل پھول رہی ہیں۔ یہ شیعہ فرقہ کے مسلمانوں کو کھلم کھلا غیر مسلم حتیٰ کہ کافر بھی قرار دیتی ہیں۔ پاکستان میں مسلکی بنیاد پر آئے دن قتل اور بمباری کی خبریں آتی رہی ہیں۔ ایک رجحان ایسا بھی دیکھنے میں آیا کہ عین جمعہ کے روز جب نمازیوں کی بھیڑ ہوتی ہے، مسجدوں پر حملے ہوتے تھے تاکہ بیک وقت زیادہ سے زیادہ لوگ لقمہ اجل بن سکیں۔ خیر یہ کہانی بہت لمبی ہے۔ مسلکی بنیاد پر جو تنظیمیں پاکستان میں کام کرتی رہی ہیں، ان میں سے کچھ کو ممنوعہ تو قرار دیا گیا لیکن وہ نام بدل کر دوسرے ناموں سے سرگرم ہوگئیں۔ بعض جماعتوں نے تو نئے ناموں سے گزشتہ انتخابات میں حصہ بھی لیا ۔جنہیں الیکشن کمیشن سے کسی وجہ سے اجازت نہیں ملی انہوں نے بھی آزاد امیدوار کی حیثیت سے گنجائش پیدا کرلی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کے متعلقہ ادارے یا تو ان پر کڑی نظر نہیں رکھتے یا سرے سے وہ چاہتے ہی نہیں  کہ انہیں قابو میں کیا جائے۔

بہرحال صوبہ بلوچستان کے کوئٹہ شہر اور اس کے آس پاس ہزارا شیعوں کی کچھ بستیاں ہیں جو ہمیشہ دہشت گردوں کے نشانے پر رہتی ہیں۔ چونکہ نسلی اعتبار سے وہ عام آبادی سے قدرے مختلف نظر آتے ہیں اس لئے انہیں آسانی سے پہنچان لیاجاتا ہے اور اکثر وہ تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ جو زائرین بسوں کے ذریعہ ایران جاتے ہیں اور وہاں سے واپس آتے ہیں، تو ان بسوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور بعض بسوں سے ہزارا نسل کے لوگوں کو باہر نکال کر مارا جاتا ہے۔ چند سال قبل تواتر کے ساتھ ہزارا آبادی کے علاقوں میں حملے ہوئے اور ایک ساتھ سو یا اس سے بھی زیادہ لوگ ہلاک ہوئے لیکن یہ حملے رکے نہیں ہیں۔ چنانچہ چند روز قبل کوئٹہ کے قریب ہزارا گنج پھل اور سبزیوں کی منڈی میں آئی ایس یعنی داعش کا زبردست حملہ ہوا ،جس میں 21 افراد ہلاک اور 60 کے قریب زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں ہزارا فرقہ کے لوگ زیادہ تھے جن میں دو بچے بھی تھے۔ اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کے کچھ اہلکار بھی تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری آئی ایس نے لی ہے اور اس نے اپنی اس جواں مردی کا کریڈٹ یہ کہہ کر لیا ہے کہ اس کے نشانہ پر شیعہ فرقہ کے لوگ تھے۔ جواب نہیں اس جواں مردی اور قوت ایمانی کا کہ انہوں نے نہتھوں کا خون بہاکر اپنی بہادری کا ثبوت دیا۔ صرف اتنا ہی نہیں اسلامک اسٹیٹ خوراسان چیپٹر نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ اس نے کوئٹہ میں 70 ہزارا شیعوں اور پاکستانی سپاہیوں کو مارا اور زخمی کیا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی حکام مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ پاکستان میں آئی ایس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ اب اسے ستم ظریفی نہیں تو اور کیا کہا جائے گا کہ پاکستان میں وہ آئی ایس کے وجود ہی سے انکار کررہے ہیں۔ لیکن کیا حقیقت سے انکار کرکے وہ اس بات کو بھی جھٹلا سکتے ہیں کہ ہزارا باشندوں پر آئے دن حملے ہوتے ہیں؟ اگر آئی ایس نہیں تو کوئی اور گروپ تو ہوگا جو اس کا ذمہ دارہ ہوگا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حملے رکتے کیوں نہیں؟ وزیراعظم عمران خان اس بات کا اعلان تو کررہے ہیں کہ یہ بات پاکستان کے حق میں ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے لیکن کارروائی کہیں ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ پاکستان کی سرزمین سے پڑوسی ملکوں میں ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی کی بات کی جائے یا خود اندورن پاکستان ہونے والے حملوں کی، صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی!!