15.04.2019 جہاں نما

پچاس فیصد پیپر ٹریل کی تصدیق کے لئے حزب اختلاف نے عدالت عظمی سے رجوع کا کیا فیصلہ

آج اخبارات نے جن اہم خبروں کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے، ان میں 50 فیصد وی وی پیٹ کی تصدیق کے لئے حزب اختلاف کے ذریعے عدالت عظمی سے رجوع کی خبر سرفہرست ہے۔ روزنامہ ہندو لکھتا ہے کہ حزب اختلاف کے تمام رہنما اس فیصلے پر متفق ہوگئے ہیں کہ ای وی ایمس (EVMs) کی 50 فیصد وی وی پیٹ کی تصدیق کے لئے عدالت عظمی سے رجوع کیا جائے کیونکہ انتخابی کمیشن نے ان کے مطالبے کو بار بار مسترد کیا ہے اور اس نے اس پر کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا ہے۔ اخبار نئی دہلی میں ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں آندھرا پردیش کے وزیر اعلی اور ٹی ڈی پی کے رہنما چندر شیکھر بابو نائیڈو کے بیان کے حوالے سے لکھتا ہے کہ اتوار کے روز ای وی ایم کی خراب کارکردگی کے سلسلے میں جو اجلاس ہوا تھا اس میں 21 جماعتوں نے اس مطالبے سے اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رائے دہندگان کا اعتماد ای وی ایمس کی کارکردگی کو بہتر بناکر ہی جیتا جاسکتا ہے۔ تلنگانہ میں 25 لاکھ رائے دہندگان کے نام انتخابی فہرستوں سے ہٹائے جانے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیااس سلسلے میں انتخابی کمیشن کی معذرت کافی ہے؟ کانگریس رہنما ابھیشیک منو سنگھوی نے اس معاملے پر کہا کہ لاکھوں رائے دہندگان کے نام بغیر کسی تصدیق کے فہرستوں سے خارج کردیئے گئے ہیں، اسی لئے اب یہ اور بھی ضروری ہوگیا ہے کہ وی وی پیٹ پیپر ٹریل (Trail) کی کم از کم 50 فیصد تعداد کو گنا جائے۔ واضح ہو کہ گزشتہ ہفتے عدالت نے انتخابی کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ وی وی پیٹ سلپس (Slips)  کو ای وی ایم سے میچ کرنے کے لئے اسمبلی حلقے میں اتفاقی بوتھوں کی تعداد کو ایک سے بڑھاکر پانچ کیا جائے تاکہ رائے دہندگان کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے۔

 

ہندوستان میں پاکستان کے تئیں فکر کو بدلنے کی ضرورت: پاکستانی سفارت کار

پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ لوک سبھا انتخابات کے بعد ہندوستان کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع ہوجائے گی۔ روزنامہ اسٹیٹس مین پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود کے حوالے سے لکھتا ہے کہ مسلسل باہمی مذاکرات سے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی تشویشات کو سمجھنے، تنازعات کو حل کرنے اور پائیدار امن و استحکام اور سلامتی کے قیام میں بے حد مدد ملے گی۔ ایک خبررساں ایجنسی کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستان کے نئے خارجہ سکریٹری نے ہندوستان میں پاکستان کے تئیں مثبت فکر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس فکر سے پرامن اور تعاون پر مبنی اچھے پڑوسیوں کے تعلقات کے قیام میں مدد ملے گی نیز یہ کہ سفارت کاری اور مذاکرات، تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے ناگزیر ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس قسم کا بیان پاکستان کے بالا کوٹ علاقے میں دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ پر ہندوستان کی کارروائی کے چھ ہفتے بعد دیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں پیدا تلخی کی وجہ سے جنگ کا اندیشہ پیدا ہوگیا تھا اور امریکہ و چین جیسے ممالک نے اس کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ خیال رہے کہ نئی دہلی میں پاکستان کے ایلچی کے فرائض کی انجادم دہی کے بعد سہیل محمود اتوار کے روز اسلام آباد روانہ ہوگئے جہاں وہ منگل کے روز نیا عہدہ سنبھالیں گے۔

 

پاکستان، سونے کی خریدو فروخت کا ریکارڈ کرے تیار، اور سونے و زیورات کی نقد خریدو فروخت پر لگائے پابندی: ایف اے ٹی ایف

‘‘سونے کے تمام سودوں کی پاکستان جانچ کرے۔ ایف اے ٹی ایف’’ یہ سرخی ہے روزنامہ انڈین ایکسپریس کی۔ خبر کے مطابق دہشت گردی کے لئے رقوم کی فراہمی پر نگاہ رکھنے والے بین الاقوامی ادارے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ، سونے کی تمام منڈیوں کی دستاویزات  کی تیاری اور باقاعدگی سمیت دہشت گردی کے لئے رقوم کی فراہمی کے خلاف نئے اقدامات نافذ کرے۔ اخبار جیو ٹی وی کے حوالے سے لکھتا ہے کہ وزارت خزانہ کو ایف اے ٹی ایف نے تجاویز کی ایک نئی فہرست بھیجی ہے جس میں ملک میں سونے کی تمام منڈیوں کی دستاویزات تیار کرنے اور سونے کی خرید و فروخت کا ریکارڈ تیار کرنے کے لئے کہا گیا ہے نیز یہ کہ نقد لین دین کے ذریعے سونے کی خرید و فروخت پر پابندی لگائی جائے اور اس کے لئے ڈیبٹ یا کریڈٹ کو لازمی قرار دیا جائے۔ اخبار ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے مزید رقمطراز ہے کہ حکومت پاکستان، ممنوعہ جماعتوں اور دہشت گرد تنظیموں کو سونے اور زیورات کی سپلائی پر پابندی کو بھی یقینی بنائے۔ اس ادارے نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں سرگرم تمام ٹرسٹوں اور ان کے بینک کھاتوں کے اعداد و شمار جمع کرے  اور تمام رجسٹرڈ ٹرسٹوں کو ریگولرائز کرے۔ پاکستان کو ان تجاویز پر عمل درآمد کی رپورٹ 15 اپریل تک ایف اے ٹی ایف اور اس کی علاقائی شاخ ایشیا پیسفک گروپ کو پیش کرنا ہوگی۔ ایف اے ٹی ایف مئی میں ہونے والے اپنے اجلاس میں اس رپورٹ کا جائزہ لے گا۔

اسی اخبار نے ایک اور خبر میں تحریر کیا ہے کہ پاکستان پہلے ہی سے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہے کیونکہ اس نے دہشت گردی کے لئے رقوم کی فراہمی کے خلاف غیر تسلی بخش اقدامات کئے تھے۔ ایک حالیہ بیان میں پاکستان کے وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا تھا کہ ہندوستان کے ذریعے لابی انگ (Lobbying) کی وجہ سے پاکستان کو بلیک لسٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس  صورت میں اس کو 10 بلین ڈالر سالانہ کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

 

جولین اسانج سویڈن حکومت سے کرے گا تعاون مگر امریکہ کو حوالگی کی کرے گا مزاحمت

روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی ایک خبر کے مطابق اگر سویڈن کی حکومت جولین اسانج (Julian Assange) کے خلاف زنا بالجبر کا مقدمہ دوبارہ شروع کرتی ہےوہ پوری طرح تعاون کرے  گا لیکن امریکہ حوالگی کی کسی کوشش کی وہ مخالفت کرتا رہے گا۔ وکی لیکس کا بانی اسانج لندن میں زیر حراست ہے۔ اس نے سویڈن کو حوالگی سے بچنے کے لئے ایکویڈور میں برطانوی سفارت میں پناہ لی تھی مگر 2012 میں ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی وجہ سے اس پر مقدمہ چل رہا ہے۔ اس کو جمعرات کے روز سفارت خانے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس نے وکی لیکس  کے ذریعہ بڑی تعداد میں سرکاری دستاویزات کو افشاء کیا تھا جس کی وجہ سے امریکہ بھی اس کی حوالگی پر زور دے رہا ہے۔ واضح ہوکہ آسٹریلوی شہری جولین اسانج سویڈن میں جنسی ہراسانی اور زنا بالجبر کے تمام دعووں کو مسترد کرتا رہا ہے۔ دونوں مقدمات 2015 اور 2017 میں ختم ہوگئے تھے مگر زنا بالجبر کی متاثرہ نے مقدمہ دوبارہ شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔ اخبار کے مطابق اسٹاک ہوم حکومت نے برطانیہ سے حوالگی کے لئے باضابطہ درخواست کی ہے۔ اب برطانوی حکومت کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس درخواست کو امریکہ سے پہلے قبول کرلے یا بعد میں۔

 

اسانج کی گرفتاری سے حق اطلاعات کو کچلے جانے کا اندیشہ: اداریہ ہندو

روزنامہ ہندو نے اسانج کی گرفتاری پر اپنے اداریئے میں تحریر کیا ہے کہ اس گرفتاری سے حقِ اطلاعات کو کچلے جانے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ اس گرفتاری سے پوری دنیا میں آزادی رائے کے حق  یا حق اطلاعات اور کسی ملک کی قومی سلامتی کے درمیان توازن سے متعلق ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اخبار کے مطابق سب سے بڑھ کر یہ سوال بے حد اہم ہے کہ آیا حقیقی طور پر وہ ایک صحافی ہے؟ نیز اس معاملے میں جو کارروائی کی گئی ہے، کیا اس سے آزادیٔ رائے کے حق کو خطرہ درپیش ہوگیا ہے یا یہ حق محدود کردیا گیا ہے؟ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس بحث کی ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکہ میں لبرل ارکان اسانج کے خلاف تحقیقات کا زور و شور سے مطالبہ کررہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس نے امریکہ کے خفیہ دستاویزات کو افشا کیا ہے بلکہ وکی لیکس کا تعلق روس میں ان لوگوں سے ہے جنہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی دستاویزات چراکر اسانج کے حوالے کی تھیں جس کی وجہ سے 2016 کے انتخابات ڈونل ٹرمپ کے حق میں چلے گئے تھے۔ اخبار آخر میں رقمطراز ہے کہ ایسے وقت میں جب مختلف ممالک میں بااثر افراد کی زیر قیادت حکومتیں اور قوم پرستی کا احیا گھریلو سیاست میں سب سے آگے ہیں،مشہور و معروف افشائے راز کے پیروکار کی گرفتاری سے ہر جگہ وسل بلوورس (Whistle Blowers) پر مضر اثرات مرتب ہوں گے جس کے نتیجے میں بذاتِ خود جمہوریت کمزور ہوگی۔