16.04.2019 جہاں نما

1۔ انتخابی کمیشن  کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرسخت فیصلہ

   انتخابی مہمات اور اس سے متعلق دیگر خبروں کے پس منظر میں آج اخبارات نے انتخابی کمیشن کے احکامات کی خبروں کو مختلف شہ سرخیوں کے تحت شائع کیا ہے، جن کے تحت اترپردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ، بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی، مرکزی وزیر مینکا گاندھی اور سماج وادی پارٹی رہنما اعظم خاں کی مختلف مدتوں کے لئے انتخابی مہم پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز لکھتا ہے کہ ان رہنماؤں نے انتخابات سے متعلق اپنی تقاریر میں مذہب اور ذات پات کا حوالہ دے کر انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی تھی۔ انتخابی کمیشن نے یہ حکم اس وقت جاری کیا ہے جب عدالت عظمیٰ نے اس سلسلے میں اس کے ڈھیلے ڈھالے رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کیا اس کو اتنے بھی اختیارات حاصل نہیں ہیں کہ وہ ہدایات جاری کرنے کے علاوہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے سلسلے میں کوئی کارروائی بھی نہ کرسکے، جس کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ پر تین دن کے لئے اور مایاوتی پر دو دن کے لئے پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس کا اطلاق منگل کو صبح چھ بجے سے ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ اعظم خاں پر 72 گھنٹے کے لئے اور مینکا گاندھی پر 48 گھنٹے کے لئے پابندی کی گئی ہے۔ اس دوران یہ رہنما کسی بھی انتخابی ریلی سے خطاب نہیں کرسکیں گے۔ اخبار آگے رقم طراز ہے کہ عدالت عظمیٰ نے انتخابی کمیشن کو یہ حکم مفاد عامہ کی ایک عرضداشت کی سماعت کے دوران دیا جو متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک ہندوستانی شہری اور یوگا ٹیچر نے داخل کی تھی۔ آدتیہ ناتھ، مایاوتی اور مینکا گاندھی پر انتخابی ریلی کے دوران مذہب اور ذات پات کے استعمال کے لئے ضابطہ اخلاق اور عدالت عظمیٰ کے ایک سابقہ حکم کی خلاف ورزی کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ اعظم خاں پر بی جے پی امیدوار جیہ پردا کے خلاف قابل اعتراض اور خلافِ تہذیب الفاظ استعمال کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان احکامات کے تحت ان رہنماؤں پر روڈشو، ریلیوں، عوامی جلسے، جلوسوں میں شرکت، انٹرویو دینے اور الیکٹرانک و پرنٹ نیز سوشل میڈیا پر بیان دینے یا رائے زنی کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اخبار کے مطابق ان انتخابات کے دوران کسی وزیر اعلیٰ سمیت دیگر رہنماؤں پر پہلی بار اس قسم کی پابندی عائد کی گئی ہے۔قابل غور ہے کہ عدالت عظمیٰ نے ان پانچ نوٹسوں کا جائزہ بھی لیا تھا جو انتخابی کمیشن نےپیر کے روز تک جاری کئے تھے۔نہ ہی آدتیہ ناتھ نے اور نہ مایا وتی نے ان نوٹسوں کا جواب دیا تھا جس پر عدالت نے کمیشن سے معلوم کیاتھا کہ ان رہنماؤں کی خاموشی پر اس نے کیا کارروائی کی ہے؟

اسی اخبار نے ایک اور خبر میں مطلع کیا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے انتخابی کمیشن سے اس کے سابقہ حکم پر نظر ثانی کے لئے کہا ہے جس کے تحت نریندر مودی کی حیات پر مبنی فلم پر پابندی کی گئی تھی۔ اس حکم کے خلاف فلم کے پروڈیوسر نے عدالت سے رجوع کیا تھا اور کہا تھا کہ انتخابی پینل نے پوری فلم کے بجائے صرف پرومو دیکھ کر ہی پابندی کا فیصلہ کیا تھا۔ اس دلیل کے بعد عدالت عظمیٰ نے کمیشن سے کہا ہے کہ پوری فلم دیکھنے کے بعد اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

 

2۔ رافیل پر رائے زنی کے لئے عدالت عظمیٰ نے راہل گاندھی سے طلب کی وضاحت

عام انتخابات سے متعلق ایک اور خبر میں روزنامہ ایشین ایج لکھتا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے تمام سیاسی رہنماؤں کو ہدایت دی ہے کہ وہ میڈیا پر یا عوامی اجلاسوں کے دوران اپنی سیاسی تقاریر میں عدالت کے نظریات،مشاہدات یا نتائج کا حوالہ اس وقت تک نہ دیں جب تک عدالت ان کو ریکارڈ پر نہ لائے۔ اخبار رقمطراز ہے کہ عدالت عظمیٰ نے یہ ہدایات بی جے پی ایم پی میناکشی لیکھی کی توہین عدالت سے متعلق ایک عرضداشت پر سماعت کے دوران جاری کیں۔ میناکشی نے کہا کہ 10 اپریل کو رافیل سے متعلق عدالت عظمیٰ  کے حکم کو راہل گاندھی نے توڑ مروڑ کر پیش کیا تھا اور وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق قابل اعتراض بات کہی تھی۔ عدالت نے راہل گاندھی سے حلف نامے کے ذریعے پیر تک اپنی وضاحت داخل کرنے کے لئے کہا ہے ۔ اس مقدمے کی سماعت 23 اپریل کو ہوگی۔ میناکشی کے وکیل نے دلیل دی ہے کہ رافیل سے متعلق عدالت کے فیصلے کے حوالے سے راہل گاندھی نے ایسی رائے زنی کی تھی جو عدالت کے ریکارڈ میں نہیں ہے۔ اخبار ،کانگریس کے سینئر رہنما کپل سبل کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ توہین عدالت سے متعلق عرض داشت کا جواب داخل کر دیا جائے گا۔

 

3۔ ایغور مسلمانوں کی نجی تفصیلات کے لئے چین کر رہا ہے آرٹی فیشیل انٹلی جنس کا استعمال،بین الاقوامی سطح پر مذمت

چین کے مغربی  علاقے میں نسلی مسلمانوں کے خلاف چین کی حکومت کی سخت کارروائیوں پر بین الاقوامی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ان کارروائیوں میں ایک ملین نسلی مسلمانوں کی حراستی کیمپوں میں نظر بندی بھی شامل ہے۔روزنامہ ہند و اس حوالے سے رقمطراز ہے کہ تازہ ترین صورتحال کے پس منظر میں دستاویزات اور انٹر ویوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی حکام ایغور مسلمانوں پر نگاہ رکھنے اور ان کو کنٹرول کرنے کے لئے جدید ترین نظام کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کسی حکومت کے ذریعہ ٹکنا لوجی کے استعمال کی پہلی مثال سامنے آئی ہے جس کے تحت نسلی نجی تفصیلات کے لئے آر ٹی فیشیل انٹلی جنس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔اس طرح چین وہ پہلا ملک ہے جو اپنے عوام پر نگرانی کے لئے اگلی نسل کی ٹکنا لوجی کا استعمال کر رہا ہے۔ نیو یارک ٹائمز نے بھی چہرے کی شناخت اور دیگر تفصیلات سے متعلق ان اعداد و شمار کا جائزہ لیا ہے جن کو پولس، سر کاری دستاویزات اور اشتہاری مواد میں استعمال کیا جا رہا ہے۔اخبار کے مطابق چینی حکام چہرے کی شناخت اور ڈی این اے ریکارڈ کرنے والی ٹکنا لوجی کا استعمال نہ صرف شنجیانگ بلکہ ہینگ زہاؤ اور وین زہاؤجیسے خوشحال شہروں نیز ساحلی صوبے فیو جیان میں بھی کر رہے ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو اس جدید ترین ٹکنا لوجی کی مدد سے رنگ و نسل کی بنیاد پر لوگوں کی جماعت بندی اب نسبتاً آسان ہو گئی ہے۔

 

پاکستان کے لئے آئی ایم ایف کے امدادی پیکج میں تاخیر متوقع

روزنامہ اسٹیٹس مین پاکستان کے حوالے سے اپنی خبر میں لکھتا ہے کہ معاشی بحران سے دو چار پاکستان کے لئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی اعانتی امداد میں تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ عالمی ادارہ پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ نہ صرف سی پی ای سی پروجیکٹوں کے تعلق سے شفافیت برتے بلکہ اس کی بھی ضمانت دے کہ آئی ایم ایف سے ملنے والی امداد کا استعمال چین کے قرضہ جات کی ادائیگی کے لئے نہیں کیا جائےگا۔واضح ہو کہ پاکستان نے ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نکلنے کے لئے مالیاتی فنڈ سے 8بلین ڈالر امداد کی درخواست کی تھی اور اس مالی سال کے دوران چین کی فراخدلانہ مدد سے اس نے دوست ممالک سے 9اعشاریہ ایک بلین ڈالر مالی امدادی پیکج  بھی حاصل کئے ہیں۔ اخبار پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر کے ایک بیان کے حوالے سے لکھتا ہے کہ عالمی بینک گروپ کی موسم بہا رکی میٹنگ کے بعد آئی ایم ایف کا ایک وفد اسلام آباد کا دورہ کرے گااور اس ماہ کے آخر میں ایک معاہدے پر دستخط بھی متوقع ہیں۔ اس گروپ میں مالیاتی فنڈ بھی شامل ہے۔ پاکستانی روزنامے ڈان کے مطابق اعانتی پیکج کو حتمی شکل دینے کے لئے آئی ایم ایف وفد کےد ورے میں تاخیرہو سکتی ہے کیونکہ طرفین معاہدے کے تفصیلات کو آخری شکل دینے  کے لئے سر گرم مذاکرات کر رہے ہیں۔ اب یہ دورہ اپریل کے بجائے مئی میں متوقع ہے۔اخبار پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت سے واقف ایک عہدیدار کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ پاکستان اب بھی جون سے قبل اس معاہدے کی تکمیل کی توقع کر رہاہے۔ تا ہم اس معاہدے کی راہ میں جو روکاوٹیں حائل ہیں ان میں بازار کو طے کرنے والے ایکسچینج ریٹس اور چین سے حاصل کردہ قرضہ جات کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔جن کو اسلام آباد حکومت فراہم کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔

 

قطر میں طالبان-امریکہ امن مذاکرات کے اگلے دور میں خواتین کی شمولیت کا فیصلہ

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے ایک خبر میں مطلع کیا ہے کہ اس ماہ کے دوران قطر میں طالبان وفد اور امریکی عہدیداروں کے درمیان افغانستان میں قیام امن سے متعلق جو مذاکرات ہوں گے ان میں پہلی بار خواتین کو شامل کیا جائے گا۔ اخبار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ طالبان خواتین کے حقوق کے تئیں سخت اور تنگ نظر رویئے کے لئے بد نام رہے ہیں اس لئے اس اقدام سے ان مذاکرات میں خواتین کی شمولیت کے مطالبے کی تکمیل کا اظہار ہوتا ہے جس کا مقصد 17 سالہ طویل جنگ کا خاتمہ ہے۔ اخبار نے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حوالے سے طالبان وفد میں خواتین کی شمولیت کی تصدیق کر دی ہے لیکن ترجمان نے ان خواتین کے ناموں کا حوالہ نہیں دیا ہے ۔