عمران کے بیانات سے افغانستان کے تمام حلقے برہم

وزیراعظم پاکستان جب تک برسراقتدار نہیں آئے تھے، تو اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ان کی سیاسی سرگرمیاں اکثر تنازعہ کا باعث بنتی رہیں۔ اکثر تو ایسا بھی ہوتا تھا کہ حکومت کے خلاف کسی سوال پر اپنی تحریک شروع کرتے وقت وہ ایسے طریقے بھی اختیار کرتے تھے جو جمہوری اصولوں کے منافی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیاسی بیان بازی کرتے وقت بھی وہ جمہوری قدروں کو نظر انداز کردیتے تھے۔ دہشت گردی کے حوالے سے تو ان کا رویہ کچھ ایسا تھا کہ گویا وہ پاکستان کے اندر سرگرم دہشت گردوں کے وجود سے ہی انکار کرتے تھے۔ اندرون پاکستان جو دہشت گردانہ حملے ہوتے تھے تو اس کی ایک ہی وجہ وہ بتاتے تھے کہ چونکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے رہا ہے، اس لئے یہ حملے ہوتے ہیں جس سے یہ تاثر ابھرتا تھا کہ وہ دہشت گردوں کے حامی ہیں۔ انہی سب باتوں کی وجہ سے انہیں طالبان خان کا نام بھی دیا گیا تھا۔

بہرحال اب وہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور اب ان سے سب کو یہی امید تھی اور یہ امید بے جا نہیں تھی کہ وہ سیاسی بیانات دیتے وقت احتیاط برتیں گے۔ بہرحال یہ بات ساری دنیا جاتی ہے اور یقیناً عمران خان بھی جانتے ہیں کہ پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں پر ہندوستان اور افغانستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے تعلق سے یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ ان گروپوں کی حمایت کرتی ہیں جو ان میں ملوث ہوتے ہیں۔ حامد کرزئی حکومت سے لیکر موجودہ اشرف غنی کی حکومت نے متعدد بار پاکستان سے شکایت کی ہے کہ پاکستانی ایجنسیوں کے تعاون سے ہی طالبان، افغانستان میں حملہ کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اب جبکہ قطر میں امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے مابین، افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں بات چیت چل رہی ہے، اس کے بارے میں طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہورہی ہیں۔ ان مذاکرات کے حوالے سے طالبان کی منطق شروع سے ہی یہ رہی کہ افغانستان کی موجودہ آئینی طور پر منتخب حکومت امریکہ کی کٹھ پتلی حکومت ہے۔ اس لئے وہ اس سے کسی طرح کی بات چیت نہیں کریں گے۔ البتہ خود امریکہ سے بات چیت سے کرنے میں انہیں کوئی قباحت نہیں ہے۔ سو وہ بات چیت ہورہی ہے۔ بہرحال یہ طالبان اور افغانستان کا معاملہ ہے۔ کم از کم عمران خان کو ایسا بیان نہیں دینا چاہیے جس سے یہ تاثر ملے کہ وہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہے ہیں لیکن انہوں نے حالیہ دنوں میں ایک بار نہیں بلکہ متعدد بار یہ کہا ہے کہ افغانستان میں ان مذاکرات کے دوران ایک عبوری حکومت قائم ہونی چاہیے۔ اپریل کے پہلے ہفتے میں صوبہ خیبر پختون خوا کی ایک ریلی میں انہوں نے اپنی وہ بات دہرائی کہ ان کا برادرانہ مشورہ ہے کہ افغانستان میں ایک عبوری حکومت قائم ہو جو طالبان سے قیام امن سے متعلق بات چیت کرے۔ ان کے اس بیان پر افغانستان کی وزارت خارجہ نے سخت احتجاج کیا تھا اور پاکستان کے سفارت کار کو طلب کرکے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان کی خود مختاری کا احترام کرے اور اس طرح کی باتوں سے احتراز کرے۔ عمران خان نے اسی طرح کی باتیں پاکستان کے انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون سے ایک انٹرویو کے درمیان بھی کہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اشرف غنی حکومت بات چیت میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ یہ انٹرویو انہوں نے مارچ کے مہینہ میں دیا تھا۔ اسی مہینہ میں انہوں نے باجور میں ایک بیان دیا تھا جس میں یہ کہا تھا کہ افغانستان میں ایک اچھی حکومت برسراقتدار آنے والی ہے۔ فروری کے مہینہ میں افغانستان نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ایک خط لکھا تھا جس میں انتہاپسند گروپ اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک طے شدہ میٹنگ کے سوال پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ کشیدگی اتنی بڑھی کہ افغانستان نے اپنے سفیر کو پاکستان سے واپس بلالیا تھا لیکن عمران خان اپنی بیان بازی سے باز نہیں آئے۔ بہرحال ان کے حالیہ بیان سے نہ صرف حکومت افغانستان برہم ہے بلکہ پاکستان کی بیشتر سیاسی پارٹیاں اور حلقے اس بات سے ناراض ہیں کہ اس ملک کے اندرونی معاملات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ عبوری حکومت کی بات اس لئے کہی جارہی ہے کہ اس میں طالبان کو بھی شامل کیا جائے لیکن اس گروپ کو پورے طور پر پاکستان کنٹرول کرتا ہے گویا اس طور پر پاکستان افغانستان کے اندرونی معاملات پر اثرانداز ہونا چاہتا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان کا خیال ہے کہ اگر افغانستان میں کمزور حکومت ہوگی تو پاکستان مضبوط ہوگا۔ اسی لئے وہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں اس کی پسند کی حکومت قائم ہو۔ افغانستان کے بیشتر سیاسی حلقے یہ محسوس کررہے ہیں کہ طالبان حکومت کے زوال کے بعد سے اب تک جو کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں، انہیں برقرار رکھنے کے لئے ان عناصر کی بیخ کنی ضروری ہے جو افغانستان کو غیر مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔ اس پس منظر میں عمران خان کے حالیہ بیانات مستحکم افغانستان کے حق میں نظر نہیں آتے۔