13.05.2019 جہاں نما

چھٹے انتخابی مرحلے میں ووٹنگ کا کُل اوسط 63 فیصد، دہلی میں نستباً کم پولنگ، بنگال ، اترپردیش اور جھارکھنڈ میں پرتشدد واقعات

آج اخبارات نے کل اتوار کے روز لوک سبھا انتخابات کے چھٹے مگر نہایت اہم مرحلے کی ووٹنگ کی خبر کو  اپنے صفحۂ اول پر مختلف شہ سرخیوں کے تحت شائع کیا ہے۔ روزنامہ اسٹیٹس مین اس حوالے سے رقمطراز ہے کہ یہ مرحلہ اس لحاظ سے بے حد اہم تھا کہ اس میں کئی جماعتوں کے اہم رہنماؤں کی قسمت داؤں پر تھی جن میں سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، مرکزی وزراء مینکا گاندھی ، رادھا موہن سنگھ، ہرش وردھن اور نریندر سنگھ نیز کانگریس کے دگ وجے سنگھ، جیوتر ادتیہ سندھیا اور شیلا دکشت وغیرہ شامل ہیں۔ دہلی میں یہ تین رخی مقابلہ بی جے پی ، عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے درمیان تھا۔ اخبار انتخابی کمیشن کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اس تازہ مرحلے میں چھ ریاستوں اور دہلی کی 59 نشستوں کے لئے ووٹ ڈالے گئے جن کا اوسط 63 اعشاریہ پانچ فیصد تھا مگر 2014 کے عام انتخابات کے مقابلے میں دہلی میں ووٹنگ پانچ فی صد کم رہی جس سے کمیشن کو مایوسی کا سامنا رہا کیونکہ اس نے عوام کو ووٹنگ کی طرف راغب کرنے کے لئے نسبتاً زیادہ بڑے پیمانے پر انتظامات کئے تھے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ کچھ دیگر ریاستوں میں بھی پولنگ 2014 کے مقابلے میں نسبتاً کم رہی جس میں ہریانہ میں چار فیصد ، اور مغربی بنگال میں پانچ فیصد کی کمی پائی گئی۔ اس کے برخلاف مدھیہ پردیش میں تین فیصد اور بہار میں ایک اعشاریہ ایک پانچ فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ مرحلہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل رہا کیونکہ اس میں صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند، کانگریس سربراہ راہل گاندھی، یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی ، دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال اور وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ اخبار کے مطابق اس تازہ مرحلے کی تکمیل کے بعد 543 نشستوں کی لوک سبھا کے انتخاب کا 89 فیصد مکمل ہوگیا ہے۔ پولنگ کا ساتواں اور آخری مرحلہ19 مئی کو ہوگا جس کے تحت بقیہ 59 حلقوں کے لئے رائے دہی ہوگی۔ چھٹے مرحلے میں پولنگ کم و بیش پر امن رہی سوائے مغربی بنگال، اترپردیش اور جھارکھنڈ کے جہاں سے تشدد کے کئی واقعات کی اطلاع ملی ہے۔ اخبار انتخابی کمیشن کے حوالے سے مزید لکھتا ہے کہ اس مرحلے میں ایم وی ایم کی خرابیوں کی نسبتاً کم شکایات موصول ہوئی ہیں۔

حزب اختلاف کا اجلاس اب 23 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد

انتخابات کی خبروں کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے روزنامہ ہندو نے خبر دی ہے کہ حزب اختلاف کے رہنما اب شاید 23 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد اپنا اجلاس منعقد کریں گے۔ آندھراپردیش کے وزیر اعلیٰ اور ٹی ڈی پی کے سربرہ این چندرا بابو نائیڈو نے 21 مئی کو اس اجلاس کے انعقاد کی تجویز پیش کی تھی مگر ترنمول کانگریس میں اعلیٰ ذرائع کے مطابق مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ہی اس طرح کی میٹنگس کا انعقاد ہونا چاہئے کیونکہ اس وقت اہم ضرورت ووٹوں کی گنتی پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ خصوصاًووٹوں کی گنتی سے متعلق ایجنٹوں کی مناسب تربیت زیادہ اہم ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ کچھ اسی طرح کے اشارے بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی اور سماج وادی رہنما اکھلیش سنگھ یادو نے بھی دیئے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی سے قبل 21 مئی کو حزب اختلاف کا اجلاس بلانے سے پہلے چندرا بابو نائیڈو نے 19 مئی کو تمام رہنماؤں سے ذاتی طورپر دوبدو ملاقات کا منصوبہ بھی تیار کیا تھا۔ اخبار آخر میں رقمطراز ہے کہ اس تازہ پیش رفت سے غیر این ڈی اے جماعتوں کے 21 مئی کو اجلاس اور 19 مئی کو ان پارٹیوں کے رہنماؤں سے چندرا بابو کی دوبدو ملاقاتوں پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

گوادر کے ہوٹل پر ملٹنٹوں کے حملے کے بعد پرل کانٹی ننٹل کی تلاش جاری، سنیچر کے روز ہوئے اس حملے میں پانچ افراد ہلاک

پاکستانی ساحلی شہر گوادر میں سنیچر کے روز ایک لگژری ہوٹل پرل کانٹی ننٹل پر علیحدگی پسند وں کے حملے کے بعد سلامتی افواج نے اس ہوٹل کی تلاشی لی ہے۔ جس میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ان میں سکیورٹی گارڈ اور ہوٹل کے عملے کے افراد شامل ہیں۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے حکام کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ کم از کم چار ملیٹنٹ اس حملے میں ملوث تھے اور ان میں سے کوئی بھی ملیٹنٹ ہلاک یا گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔ سینئر پولیس عہدیدار راؤ منیر احمد ضیاء نے رائٹرس کو بتایا ہے کہ اب تک چار میں سے تین منزلوں کی تلاشی لی جاچکی ہے اور اب سلامتی دستے اوپری منزل کی تلاشی لے رہے ہیں۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ ایک بیان میں شورش پسند گروپ بلوچستان لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ چین اور دیگر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے خلاف تھا کیونکہ وہ صوبے کے قدرتی وسائل کے استحصال کے خلاف لڑ رہا ہے۔خیال رہے کہ ایران اور افغانستان کی سرحدوں سے متصل بلوچستان، پاکستان کا غریب ترین صوبہ ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ صوبہ قدرتی گیس اور متعدد معدنیات سے مالا مال ہے۔ علیحدگی پسند کئی دہائیوں سے وفاقی حکومت کے خلاف لڑرہے ہیں، گیس اور نقل و حمل کے نظام پر بمباری کررہے ہیں اور حفاظتی چوکیوں پر چھاپے مارے رہے ہیں۔ یہاں متعدد جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اسلامی ملیٹنٹ بھی سرگرم ہیں۔ اخبار نے آگے وضاحت کی ہے کہ بحیرۂ عرب پر واقع گوادر انتہائی اہم بندرگاہ ہے جس کو چین، اپنے بیلٹ اور روڈ بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹ کے تحت، 60 بلین ڈالر کی چین-پاکستان معاشی راہداری کے ایک حصے کے طور پر فروغ دے رہا ہے اور علیحدگی پسند اس ترقیاتی منصوبوں کے خلاف سرگرم ہیں اور انہوں نے ان کو بلاک کرنے کا عزم کیا ہوا ہے، جبکہ پاکستان نے چین سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی سرمایہ کاری اور چینی کارکنوں کو تحفظ  فراہم کرے گا۔ اخبار کے مطابق پاکستان کے ا س سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں اس سال کئی حملے کئے گئے ہیں اور گزشتہ ماہ ہی بس پر ایک حملے میں 14 افراد ہلاک کردیئے گئے تھے۔

چھ بلین ڈالر کے اعانتی پیکیج کے لئے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق رائے

انڈین ایکسپریس کی ہی ایک اور خبر کے مطابق پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان تین سال کے لئے چھ بلین ڈالر کے اعانتی پیکیج پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق عملے کی سطح پر کئے گئے اس معاہدے کی باضابطہ منظوری واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے بورڈ آف ڈائرکٹرس کے ذریعے دی جائے گی۔ پاکستان میں آئی ایم ایف کے مشن چیف ارنسٹو ریمی ریز ریگو کے ایک اخباری بیان کے حوالے سے اخبار آگے رقمطراز ہے کہ طرفین کے درمیان پاکستان کی ان معاشی پالیسیوں پر اتفاق رائے ہوا ہے جن کی اعانت چھ بلین ڈالر کے 39 مہینوں پر محیط ایکسٹینڈیڈ فنڈایگریمنٹ کے ذریعے کی جائے گی۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے کے لئے مذاکرات 29 اپریل کو شروع ہوئے تھے اور توقع تھی کہ اس پر 7 مئی کو دستخط ہوجائیں گے مگر کچھ تاخیر کے بعدا س کو 10 مئی کو ہی حتمی شکل دی جاسکی تھی۔ اس میں مزید تاخیر کا ایک اور سبب فنڈ کی کچھ سخت شراط پر وزیر اعظم عمران خاں کا اعتراض بھی تھا اور اس طرح اتوار کے روز اس پر دستخط ہوسکے۔ اس سے قبل حکومت پاکستان بھی آئی ایم ایف کی متوقع سخت شرائط پر اعتراض کرچکی تھی۔ اخبار کی یاد دہانی کے مطابق 2018 میں وزارت خزانہ نے اعانتی پیکج کے لئے اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے رابطہ قائم کیا تھا جب عمران خاں حکومت بر سر اقتدار آئی تھی کیونکہ ملک کوزبردست مالی خسارے اور معاشی سست روی کا سامنا تھا۔

چین تجارتی معاہدہ ابھی کرے ورنہ 2020 کے بعد معاہدہ ہوجائے گا سخت ترین: ٹرمپ

چین اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی ایک خبر کی سرخی ہے‘‘ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل ابھی ورنہ 2020 کے بعد یہ ہوگا اور بھی سخت تر’’۔ اخبار عالمی صفحے پر شائع اپنی خبر میں صدر ڈونل ٹرمپ کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ چین کو امریکہ کے ساتھ ابھی تجارتی معاہدہ طے کرلینا چاہئے ورنہ ان کے دوسرے دور صدارت میں یہ اور بد ترین شکل اختیار کرلے گا۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس معاہدے پر دوروزہ مذاکرات جمعے کے روز کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے۔ چین کے اعلیٰ مذاکرات کار کے مطابق طرفین اب بیجنگ میں ملاقات کریں گے جس کے لئے ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں ہوئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکہ کو خبر دار کیا کہ چین اپنے اہم اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا ۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے چین پر تجارتی مذاکرات کے دوران تجارت میں اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگایا تھا ا و راس کی تجارت پر نئے تادیبی محصولات کا حکم جاری کردیا تھا۔ 200 بلین ڈالر مالیت کے ان اضافی محصولات کا نفاذ جمعے کے روز سے ہی ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے اس اقدام میں شدت پیدا کرتے ہوئے بقیہ تمام درآمدات پر بھی محصولات میں اضافہ کردیا تھا جن کی مالیت 300 بلین ڈالر ہے۔ اس کے جواب میں چین نے بھی امریکی سامان پر 110 بلین ڈالر کے محصولات عائد کردیئے ہیں جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تلخی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

مسلم مخالف حملوں کے بعد سری لنکا کے شہر میں کرفیو

سری لنکا کے تازہ ترین حالات کے حوالے سے روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے مطلع کیا ہے کہ ایسٹر کے موقع پر چرچوں اور ہوٹلوں پر حملوں کے بعد تازہ ترین کشیدگی کے پس منظر میں راجدھانی کولمبو سے تقریباً 80 کلو میٹر دور شمالی قصبے چیلا میں تشدد کے واقعات کے بعد سری لنکا کی پولیس نے کرفیو لگا دیا ہے۔ اس کے علاوہ مشتعل ہجوم نے مسلمانوں کے تجارتی مراکز پر بھی حملہ کردیا جس کو روکنے کے لئے فوج کو ہوا میں گولیاں چلانا پڑیں۔پر تشدد واقعات کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب کیتھولک اکثریت والے اس شہر میں ایک فیس بک پوسٹ کو غلطی سے عیسائیوں کے خلاف دھمکی تصور کرلیا گیا۔ پولیس ترجمان  گنا سیکراکے مطابق آج پیر کو شام تک کرفیو اٹھالیا جائے گا۔ اخبار آگے رقمطراز ہے ایسٹر حملوں کے اہم مشتبہ سازشی ظہران ہاشم سے تعلق رکھنے والے سعودی عرب میں تعلیم یافتہ اس محقق کو گرفتار کرلیا گیا ہے جس نے فیس بک پر پوسٹ تحریر کی تھی۔