14.05.2019 جہاں نما

بیجنگ کی جوابی کارروائی کے بعد چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ میں شدت

صدر ڈونل ٹرمپ کے چینی مصنوعات پر امریکی محصولات کے خلاف جوابی کارروائی نہ کرنے کے انتباہ کی پروا نہ کرتے ہوئے چین نے پیرکے روز 60 ارب ڈالر مالیت کی امریکی در آمدات پر ٹیکس لگا دیا ۔ بیجنگ کے اس اقدام کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی جنگ میں شدت پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے اپنے کالموں میں خاص جگہ دی ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا تحریر کرتا ہے کہ چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ چین کسی بھی ملک کے دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔وزارت نے کہا کہ ہم اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ چین کے اس اقدام  کے بعد پہلی جون سے500 سے زیادہ امریکی مصنوعات پر محصولات نافذ ہو جائیں گی۔ اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے متعدد ٹوئٹس میں چینی صدر شی جن پنگ اور اپنے دیگر چینی دوستوں کو خبر دار کیا تھا کہ اگر وہ تجارتی معاہدے پر اتفاق نہیں کرتے تو ان کے ملک کو بد ترین نقصان ہوگا کیونکہ کمپنیاں چین کو چھوڑ کر دوسرے ممالک چلی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ کے پاس اچھا معاہدہ تھا جو تقریباً مکمل ہو چکا تھا لیکن آپ پیچھے ہٹ گئے۔ چین کو جوابی کارروائی نہیں کرنا چاہئے اس سے اس کا ہی نقصان ہوگا۔خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے چینی در آمدات پر 200 ارب ڈالر کی محصولات کا اضافہ کیا ہے جس کا جواز یہ دیا گیا ہے کہ چین رواں ماہ کے اوائل میں کئے گئے اعلان سے انحراف کر چکا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی صارفین کو ٹیکس کی ادائیگی کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے۔ اس کے بر خلاف وہائٹ ہاؤس کے معاشی مشیر لیری کدوکا خیال ہے کہ امریکی صارفین اور تاجروں دونوں کو محصولات دینی پڑیں گی۔ ادھر چین نے کہا ہے کہ امریکی پالیسیوں کے باعث عالمی تجارتی تنظیم کے وجود کو ہی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

خلیج میں سعودی آئل ٹینکرز تخریبی کارروائی کا بنے شکار

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ خلیج میں اس کے دو آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ایشین ایج لکھتا ہے کہ ایران کے  ساتھ بڑھتی کشیدگی کے پیش نظرامریکی وزیر خارجہ مائک پامپیو اپنا ماسکو کا دورہ منسوخ کر کے برسلز کے لئے روانہ ہو گئے جہاں وہ ایران کے ساتھ تنازعہ کے موضوع پر یوروپی یونین کے رہنماؤں کے ساتھ تبادلۂ خیال کریں گے۔ ادھر ایران نے سعودی ٹینکروں پر حملے کی تفتیش کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیر ملکی عناصر کی جانب سے بحری سلامتی میں خلل ڈالنے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔

سعودی عرب  نے جو علاقہ میں ایران کا پرانا حریف ہے، سبوتاژ کی کوشش کی مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے ذرائع نے کہا کہ اس مجرمانہ حرکت سے بحری سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اتوار کے روز کہا کہ بحریۂ عرب میں خلیج عمان کے علاقہ میں چار تجارتی جہازوں کو مبینہ طور پر سبو تاژ کرنے کی کوشش کی گئی تا ہم حکام نے اس بارے میں نہ ہی تفصیلات بتائیں اور نہ ہی کسی پر اس حملے کا شبہ ظاہر کیا۔ سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفلیح نے کہا کہ ان کے دو ٹینکروں کو کافی نقصان پہنچا ہے تا ہم کسی جانی نقصان یا تیل رسنے کی خبر نہیں ہے۔ متحدہ عرب امارات کے امور خارجہ کے وزیر مملکت انور گرگاش نے کہا کہ ان کا ملک جان بوجھ کر کی جانے والی اس حرکت کی تحقیقات کرےگا۔ اسی دوران برطانیہ نے متنبہ کیا کہ ایسی حرکتوں سے خلیج میں لڑائی چھڑ سکتی ہے۔ کیونکہ علاقہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ اسوقت ہمیں امن بنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہئے جس سے ایران نیو کلیائی اسلحے تیار کرنے پر مجبور ہو جائے۔ کیونکہ اگر ایران ایک نیو کلیائی طاقت بن گیا تو علاقے کے دوسرے ممالک بھی یہ طاقت حاصل کرنا چاہیں گے۔ ہنٹ نے یہ بیان برسلز میں دیا جہاں وہ یوروپی یونین کے وزراء خارجہ کی میٹنگ میں شرکت کرنے کے لئے گئے ہوئے ہیں۔

سری لنکا میں مسجدوں پر حملوں کے بعد ملک گیر کرفیو نافذ،سوشل میڈیا پر بھی پابندی عائد

سری لنکا میں پیر کے روز مسجدوں پر حملوں اور مسلمانوں کی دکانوں کو نذر آتش کئے جانے کے بعد تمام ملک میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔اس خبر کو تمام اخبارات نے اپنے کالموں میں خاص جگہ دی ہے۔ اس خبر کے حوالے سے دی انڈین ایکسپریس تحریر کرتا ہے کہ ایسٹر سنڈے کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد یہ سب سے سنگین فرقہ وارانہ فسادات تھے۔ بھیڑ کو قابو  میں کرنے کے لئے پولیس کو آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ کرفیو کے نفاذ کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ شمال مغربی صوبے کے مسلم اکثریتی والے علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ بھیڑ نے کل دوسرے روز بھی مسجدوں اور مسلمانوں کی دکانوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور سیکڑوں میں تھے لیکن پولیس اور فوج صرف تماشائی بنی ہوئی تھیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تشدد پر آمادہ لوگوں نے مسجدوں میں آگ لگا دی اور مسلمانوں کی دوکانوں کو نذر آتش کر دیا لیکن پولیس اور فوج نے کچھ نہیں کیا۔ ادھر پولیس ذرائع نے بتایا کہ کچھ جگہوں پر بھیڑ کو تتر بتر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔ذرائع نے بتایا کہ یہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب ایک مقامی دوکاندار کی طرف سے فیس بک پر شائع کئے گئے ایک پیغام کے بعد ملک کے شمال مغربی قصبہ چلاؤ میں مقامی آبادی سے تعلق رکھنے والے مشتعل مسیحی باشندوں نے مسلمانوں کی دوکانوں پر حملے شروع کر دیئے۔ سری لنکا میں 21 اپریل کو گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر شدت پسندوں کی جانب سے کئے جانے والے خود کش حملوں میں258 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس دہشت گردانہ کارروائی کے بعد سے اب تک حالات کشیدہ ہیں۔

ایسٹر حملوں کے مشتبہ افراد کے بھارت کا دورہ کرنے کے کوئی ثبوت نہیں

ہندوستان کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں ایسٹر سنڈے کے دہشت گردانہ حملوں میں شامل مشتبہ افراد کے ہندوستانی شہروں کے حالیہ دنوں میں دورے کرنے کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ پچھلے ہفتے سری لنکا کے فوجی کمانڈر نے کہا تھا کہ ظہران ہاشم نے جو ایسٹر سنڈے حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ ہے، دوسرے ہندوستانی شہروں کے علاوہ تمل ناڈو کا بھی دورہ کیا تھا۔ اس خبر کو روزنامہ دی ہندو نے جلی سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اخبار تحریر کرتا ہے کہ سری لنکا کے اعلیٰ سیکورٹی حکام نے کہا کہ 2018 میں ہاشم اور کچھ دوسرے مشتبہ لوگوں نے بنگلورو،کشمیر اور کیرل کے کچھ حصوں کا دورہ کیا تھا۔ تا ہم ہندوستان کے سرکاری ذرائع نے کہا کہ سری لنکا کے فوجی کمانڈر نے ان کے ساتھ کوئی بھی معلومات ساجھا نہیں کی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ وہ اس معاملہ کی تحقیق کے لئے مزید تفصیلات اکٹھا کر رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ مشتبہ لوگوں کے ہندوستانی شہروں کے دورے سے متعلق باتیں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ تا ہم ہندوستانی ریکارڈ کے مطابق خود کش حملہ آوروں میں سے دو،انصاف ابراہیم اور الہام ابراہیم نے 2012 میں ایک تجارتی ویزے پر بھارت کا دورہ کیا تھا ۔ یہ دونوں سری لنکا کے ایک مشہور تاجر کے بیٹے ہیں۔

بھارت میں انتخابات کے بعد کرتار پورراہداری پر بات چیت کے دوبارہ شروع ہونے کی پاکستان کو امید

اسلام آباد کو امید ہے کہ بھارت میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد کرتارپور راہداری پر معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لئے نئی دہلی کے ساتھ دوبارہ بات چیت شروع ہو گی۔ اس خبر کو روزنامہ دی اسٹیٹسمین نے جلی سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے۔اخبار پاکستانی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کرتا ہے کہ لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلہ کی پولنگ اس ماہ کی 19 تاریخ کو ہوگی اور نتائج کا اعلان 23 مئی کو ہوگا۔ اس کے بعد ہی اس موضوع پر دو طرفہ بات چیت کی امید ہے۔ پاکستان کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ ان کی طرف سے کوئی تاخیر نہیں ہے۔چونکہ بھارت میں اس وقت عام انتخابات ہو رہے ہیں اس لئے نئی دہلی ابھی بات چیت نہیں کرنا چاہتا۔ تا اہم اسلام آباد کو قوی امید ہے کہ انتخابات مکمل ہونے اور نتائج آنے کے بعد نئی دہلی اس موضوع پر دوبارہ بات چیت ضرور شروع کرے گا۔ قابل ذکر ہے کہ اس بارے میں 16 اپریل کو دونوں ملکوں کے درمیان تکنیکی بات چیت ہوئی تھی۔ کرتار پور راہداری سے پاکستان کا گرودوارہ دربار صاحب بھارت میں گروداس پور کے ڈیرہ بابا نانک گرو دوارے سے جڑ جائے گا۔اس راہداری کے شروع ہوجانے کے بعد ہندوستانی عقیدت مند بغیر کسی ویزے کے گرو دوارہ دربار صاحب کے درشن کے لئے پاکستان جا سکیں گے۔