15.05.2019 جہاں نما

بھارت نے کہا،  ایران سے خام تیل درآمد کرنے کے بارے میں عام انتخابات کے بعد ہی ہوگا فیصلہ

1۔ بھارت نے کہا ہے کہ ملک میں عام انتخابات کے بعد ہی ایران سے خام تیل درآمد کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے اپنے کالموں میں خاص جگہ دی ہے۔ روزنامہ دی ہندو اسے شہ سرخی بناتے ہوئے تحریر کرتا ہے کہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے کل نئی دہلی میں اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف سے ملاقات کے دوران یہ بات  کہی جو ان دنوں ہندوستان کے دورے پر ہیں۔ یہ بات چیت 2 مئی کو امریکہ کی جانب سے ایران سے تیل خریدنے کی چھوٹ ختم کئے جانے کے تناظر میں ہوئی۔ چھوٹ ختم ہونے کے بعد ایران نے اعلان کیا تھا کہ اب وہ 2015 میں کئے گئے نیوکلیائی معاہدے کا پابند نہیں رہے گا جس کے بعد سے خلیج فارس میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بات چیت سے واقف ایک ذریعہ نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی پہل پر نئی دہلی کا دورہ کیا ہے تاکہ وہ خلیج میں بڑھتی کشیدگی کے بارے میں بھارت کو آگاہ کرسکیں۔ جناب ظریف نے بھارت اور ترکمانستان میں ہوئی اپنی بات چیت کو شاندار قرار دیا۔ محترمہ سشما سوراج کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک ٹوئٹ میں جناب ظریف نے کہا کہ وہ ملک جو ہمارے پڑوس میں ہیں وہ امن، استحکام، تعاون اور کنکٹی وٹی کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں ایران سب سے دیرپا اور محفوظ پارٹنر ہے۔ اس تک پڑوسیوں کی رسائی بھی بہت آسان ہے۔ اس سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ نے خلیج میں موجودہ کشیدگی کے لئے امریکہ کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔ بھارت کے ساتھ توانائی کی تجارت کے بارے میں انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ نئی دہلی اور تہران نے تیل کی سپلائی جاری رکھنے کے لئے ایک منصوبہ تیار کررکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی اور معاشی تعاون جاری رکھنے کے لئے دونوں ملکوں نے ایک خاص معاشی نظام تیار کیا ہے تاہم بھارت نے ابھی تک کسی ایسے منصوبے کا اعلان نہیں کیا ہے۔

مغربی ایشیا میں امریکی فوجیں تعینات کرنے کے منصوبے کی صدر ٹرمپ نے کی تردید

2۔  صدر ڈونل ٹرمپ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ امریکہ مغربی ایشیا میں ایک لاکھ بیس ہزار فوجیوں کی تعیناتی کے منصوبے بنارہا ہے۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا تو وہ وہاں اس سے زیادہ فوجی تعینات کردیں گے۔اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ہندوستان ٹائمز تحریر کرتا ہے کہ نیویارک ٹائمز نے سب سے پہلے یہ اطلاع دی تھی کہ امریکہ مغربی ایشیا میں اتنے فوجیوں کو بھیجنے کا منصوبہ بنارہا ہے، جتنے 2003 میں عراق میں تعینات کئے گئے تھے۔ اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ابھی ہم نے ایسا کوئی منصوبہ نہیں بنایا ہے اور امید ہے کہ ہمیں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن اگر ہمیں مجبور کیا گیا تواس سے بھی زیادہ فوجیں وہاں جاسکتی ہیں۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا تھا کہ اگر کچھ ہوا تو تہران کے لئے بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی فوجوں کی تعیناتی کا منصوبہ تیار کرنے کا حکم قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے دیا تھا اور جس میٹنگ میں یہ حکم صادر کیا گیا تھا، اس مین دوسروں کے علاوہ وزیر دفاع پیٹرک شناہن، جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرمین جوزف ڈلفورڈ، سی آئی اے ڈائرکٹر گینا ہیسپیل اور نیشنل انٹلی جنس  کے ڈائرکٹر ڈین کوٹس نے بھی شرکت کی تھی۔ اسی دوران ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنئی نے کہا ہے کہ بڑھتی کشیدگی کے باوجود امریکہ کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ہوگی۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق جناب خامنئی نے کہا کہ ان کا ملک نیوکلیائی معاہدے پر امریکہ سے کوئی بات نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے صرف مزاحمت کا راستہ چنا ہے۔ ادھر روس کے شہر سوچی میں امریکی وزیر خارجہ مائک پامپیو نے کہا کہ امریکہ بھی جنگ نہیں چاہتا تاہم انہوں نے تہران پر دباؤ بنائے رکھنے کا عہد کیا۔

سعودی عرب کی تیل کی بڑی پائپ لائن پر ڈرون سے حملہ

3۔ سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس کی تیل کی ایک پائپ لائن پر ڈرون سے حملے کئے گئے ہیں۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ دی ایشین ایج تحریر کرتا ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی ہے اور کہا ہے کہ حملہ سعودی عرب کے لئے ایک پیغام ہے۔ پائپ لائن پر حملہ کی ذمہ داری لینے کے فوراً بعد ملک کی دوسری جگہوں پر بھی ڈرون سے حملے کرکے توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے بعد مغری ایشیا میں سلامتی کی صورتحال کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بیچ اس ہفتہ کے اوائل میں بھی خلیج میں سعودی عرب کے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یمن کے حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یمن کی سرحد سے سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر ڈرون سے متعدد حملے کئے۔ باغیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ  پریس کو بتایا کہ یہ حملے سعودی عرب کو یہ پیغام دینے کے لئے کئے گئے ہیں کہ وہ ان کے خلاف اپنی جارحیت بند کردے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب یمن کے عوام کے خلاف روزانہ جرم کررہے ہیں جسے انہیں اب بند کردینا چاہیے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزیر تیل خالدین عبدالعزیز الفالح نے بتایا کہ یہ واقعہ منگل کے روز صبح کے وقت پیش آیا جب ڈرونز نے ملک کے مشرقی علاقے سے مغربی علاقے کو جانے والی پائپ لائنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کے نتیجہ میں اسٹیشن نمبر آٹھ میں آگ بھڑک اٹھی جس پر قابو پالیا گیا ہے۔ سعودی کمپنی آرامکو نے اس واقعہ کے بعد پائپ لائن میں تیل کی فراہمی بند کردی ہے اور نقصانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ تاہم وزیر تیل کا کہنا ہے کہ تیل کی پیداوار اور برآمدات کا عمل متاثر نہیں ہوا ہے۔

سری لنکا میں جاری تشدد میں ایک شخص ہلاک، دوکانیں اور گاڑیاں نذر آتش

4۔ سری لنکا میں منگل کے روز مسجدوں اور مسلمانوں کی دوکانوں اور گاڑیوں پر حملوں کے دوران ایک شخص ہلاک ہوگیا جس کے بعد تمام ملک میں ایک بار پھر کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔اس خبر کو بھی تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس اس خبر کے حوالے سے تحریر کرتا ہے کہ اس سے پہلے پیر کے روز تشدد کے بعد ملک بھر میں کرفیو لگا دیا گیا تھا لیکن منگل کے روز شمال مغربی صوبے کو چھوڑکر تمام علاقوں میں کرفیو میں چھوٹ  دی گئی تھی جہاں ہجوم نے ایک شخص کو چھرا مارکر ہلاک کردیا تھا۔ اس کے علاوہ وہاں مسجدوں اور مسلمانوں کی دوکانوں اور گاڑیوں کو بھی کافی نقصان پہنچایا گیا۔ منگل کے روز شام کو تشدد روکنے کے لئے پولیس نے تمام ملک میں رات کے کرفیو کا اعلان کردیا۔ حکومت نے پرتشدد تصادم کے بعد سوشل میڈیا پر بھی دوبارہ پابندی عائد کردی ہے۔ اس سے پہلے ٹوئٹر پر پابندی نہیں تھی لیکن اب اس پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

پاکستان کے شہر کوئٹہ  میں ہوئے بم دھماکے میں چار پولیس اہلکار ہلاک، متعدد زخمی

5۔ پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بم دھماکے میں پولیس کے کم از کم چار اہلکار ہلاک اور گیارہ افراد زخمی ہوگئے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندوستان ٹائمز تحریر کرتا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں پولیس کے دو اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس کے سینئر افسر عبدالرزاق چیما نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس حملے کی ذمہ داری پاکستان طالبان نے قبول کی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ بم ایک موٹر بائک میں چھپاکر رکھا گیا تھا جو ایک مسجد کے قریب کھڑی تھی۔ دہشت گردوں نے ڈیٹونیٹر سے اس بم کو اڑا دیا جس کے نتیجے میں مسجد پر  تعینات پولیس اہلکاروں میں سے چار کی موت ہوگئی۔

اس سے دو روز قبل بلوچ علیحدگی پسندوں نے گوادر میں ایک ہوٹل پر حملہ کیاتھا جس میں ایک فوجی سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے اور تمام دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔

ادھر امریکہ نے ایک پاکستانی کمپنی سمیت متعدد اداروں پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی پابندیوں کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ حساس ٹکنالوجی ان کے ہاتھ نہ لگے جو امریکی سلامتی یا امریکی شہریوں کےلئے خطرہ بن جائے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی انڈین ایکسپریس تحریر کرتا ہے کہ ایک پاکستانی کمپنی سمیت 12 کمپنیوں کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے جس میں انہیں محدود آئٹم کی مبینہ تجارت کے لئے مخصوص لائنس کی ضرورت ہوتی ہے۔

چار نئی کمپنیوں نے جو چین اور ہانگ کانگ میں ہیں، ایسی امریکی اشیا کو حاصل کرنے کی کوشش کی تھی جو ایران کے فوجی پروگرام کے لئے مدد گار ثابت ہوسکتی تھیں جو امریکی ایکسپورٹ کنٹرول کی خلاف ورزی ہے۔تاہم  پاکستانی کمپنی کے نام اور اس کے محل و قوع کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔