16.05.2019 جہاں نما

۔ مغربی بنگال میں بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان زبانی جنگ تیز، انتخابی کمیشن نے ایک دن پہلے

۔ کولکاتہ میں بی جے پی صدر امت شاہ کے روڈ شو کے دوران تشدد کے بعد انتخابی کمیشن نے کل ایک بڑا فیصلہ سنایا۔ کمیشن نے مغربی بنگال کی 9 لوک سبھا سیٹوں پر مقررہ وقت سے 19 گھنٹے پہلے ہی انتخابی مہم بند کرنے کا حکم دیا۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالےسے روزنامہ دی ہندوستان ٹائمز تحریر کرتا ہے کہ کمیشن نے نہ صرف انتخابی مہم روکنے کا حکم دیا بلکہ آرٹیکل 324 کے تحت حاصل اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے داخلہ سکریٹری آتری بھٹا چاریہ اور اے ڈی جی (سی آئی ڈی) راجیو کمار کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا۔ قابل ذکر ہے کہ تشدد کے دوران شرپسندوں نے سماجی مصلح ایشور چند ودیا ساگر کے مجمسہ کو بھی توڑ دیا۔ یہ مجمسہ انہیں کے قائم کردہ تعلیمی ادارے میں نصب تھا۔ ودیا ساگر کو مغربی بنگال میں کافی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے جب انتخابی کمیشن نے کسی بھی ریاست میں چناؤ مہم کو مقررہ وقت سے پہلے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی دوران وزیراعظم نریندرمودی نے مغربی بنگال کے بشیر ہاٹ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ دیدی کے غنڈے تباہی پر اترا ٓئے ہیں، لیکن لوگ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ آپ کا یہی حوصلہ ممتا دیدی کے اس ظالم اقتدار کو ایک دن جڑ سے اکھاڑ دے گا۔ انھوں نے کہا کہ ممتا اقتدار کے نشے میں جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔ ادھر وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے انتخابی کمیشن کے فیصلہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن جانبداری سے کام لے رہا ہے۔ کمیشن کا یہ فیصلہ غیر جمہوری اور غیر آئینی ہے، جو بی جے پی کے اشارے پر اٹھایا گیا ہے۔کل رات ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انتخابی کمیشن نے اپنا اعتبار کھو دیا ہے اور وہ ایک سیاسی جماعت کے اشارے پر کام کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کی عزت کرتی ہیں، لیکن کمیشن کی جانبداری پر وہ خاموش نہیں رہ سکتیں۔

۔ کیرل میں مانسون 6 جون تک پہنچے گا، محکمہ موسمیات کی پیش گوئی

۔ محکمۂ موسمیات نے کہا ہے کہ کیرل میں مانسون تھوڑا تاخیر سے 6 جون تک پہنچے گا۔ ریاست میں عام طور پر  مانسون پہلی جون تک پہنچ جاتا ہے۔اس خبر کو بیشتر اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندو تحریر کرتا ہے کہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی نجی ادارے اسکائی میٹ  کی پیش گوئی سے ملتی جلتی ہے، جس نے کیرل میں 4 جون تک مانسون کے پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ نے کہا کہ بحرۂ عرب میں ہوا اور نمی کو دیکھتے ہوئے یہ تاریخ طے کی گئی ہے، حالانکہ یہ چاردن آگے پیچھے بھی ہوسکتا ہے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق 2005 سے اب تک صرف ایک بار ایسا ہوا ہے کہ اس کی پیش گوئی بہت صحیح ثبات نہیں ہوئی اور یہ سال تھا2015  کا۔ محکمہ کے مطابق مانسون کے تاخیر سے پہنچنے کا اوسط بارش سے کوئی راست تعلق نہیں ہے۔2018 میں تن دن پہلے 29 مئی کو مانسون کیرل پہنچا تھا، لیکن پورے مانسون کے دوران ملک بھر میں اوسط سے کم بارش ہوئی تھی، اسی طرح 2017 میں یہ 30 مئی کو پہنچا تھا، لیکن 95 فیصد بارش ہوئی تھی۔

۔ حافظ سعید کا برادر نسبتی نفرت آمیز تقاریر کے الزام میں ہوا گرفتار

۔ پاکستان میں دہشت گرد تنظیم جماعت الدعوہ کے سرغنہ حافظ محمد سعید کے برادر نسبتی عبدالرحمٰن مکّی کو نفرت آمیز تقاریر کرنے اور حکومت کے خلاف بیان بازی کرنے کیلئے گرفتار کرلیا گیاہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے اپنے کالموں میں خاص جگہ دی ہے۔ اس خبر کے خوالے سے روزنامہ دی انڈین ایکسپریس پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کرتا ہے کہ جماعت الدعوہ کے سیاسی اور بین الاقوامی معاملات کے شعبہ کے سربراہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے انچارج مکّی کو غیر قانونی تنظیموں کے خلاف کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ پاکستانی پنجاب کی پولیس ترجمان نبیلا غزنفر نے مکّی کی گرفتاری کی تصدیق کردی ہے، لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ مکی کو کن الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق مکّی کو گجرانوالا شہر میں نفرت آمیز تقاریر کرنے اور فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی ہدایات پر عملدرآمد کو تنقید کا نشانہ بنانے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کیلئے اقدامات نہ کرنے پر اپنے رکن ممالک کے علاوہ دیگر ممالک کے بارے میں بھی تجاویز مرتب کرتی ہے، تاہم اس بین الاقوامی فورس کو پابندیاں عائد کرنے کے اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ امریکہ کی وزارت خزانہ نے حافظ سعید کو پہلے ہی عالمی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ وہ اس وقت سخت سیکورٹی کے درمیان خاموشی کے ساتھ لاہور میں اپنے مکان میں رہ رہا ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اسے اس سال مارچ سے جماعت الدعوہ کے صدر دفتر میں داخل ہونے اور تقریر کرنے کی اجازت نہیں ملی ہے۔ حکومت کی جانب سے ممنوعہ تنظیموں کے خلاف کارروائی شروع ہونے کے بعد ہی جماعت الدعوہ اور اس کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت کی قیادت روپوش ہوگئی تھی۔ واضح رہے کہ پاکستانی وزارت داخلہ نے رواں سال 21 فروری کو دونوں تنظیموں جماعت الدعوہ اور فلاحی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کردی تھی۔

۔ چین کے بجائے ایسے ملکوں کے ساتھ تجارت کریں، جہاں ٹیکس نہ کے برابر ہو، ٹرمپ کا مشورہ

۔ صدر امریکہ ڈونل ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ چین کے بجائے ایسے ملکوں کے ساتھ تجارت کریں، جہاں محصولات نہ کے برابر ہیں۔ اپنے متعدد ٹوئیٹس   میں انھوں نے کہا کہ دوسرے ممالک ہم سے بات چیت کررہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ تجارت کی جائے۔ اس خبر کو روزنامہ ٹائمزآف انڈیا نے اپنے کالموں میں خاص جگہ دی ہے۔ اخبار تحریر کرتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے چین کے ساتھ تجارتی جنگ چھیڑ رکھی ہے اور اپنے ملک کیلئے وہ مقام حاصل کرنا چاہتا ہے جسے بقول ان کے سابق صدور بارک اوبامہ اور جارج بش نے کھودیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس جنگ میں صدر ٹرمپ چین کو ہر حال میں ہتھیار ڈالنے کیلئے مجبور کرنا چاہتے ہیں، اگر چہ موجودہ صورتحال سے امریکیوں کو کچھ پریشانی ضرور ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین کے پاس صرف دو  متبادل ہیں یا تو وہ تجارتی عدم توازن سے متعلق امریکی مطالبہ کو مان لے اور امریکی مصنوعات خریدنا شروع کردے یا پھراپنی معیشت کو تباہ کرنے کیلئے تیار ہوجائے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کو کوئی مسئلہ در پیش نہیں ہوگا اور وہ ہر حال میں ترقی کرے گا، اگر چہ بہت سے ماہرین اقتصادیات اور ریپبلکن قانون سازوں نے متنبہ کیا ہے کہ اس طرح کے سخت اقدامات سے امریکہ کو بھی نقصان پہنے گا، لیکن صدر ٹرمپ سننے کو تیار نہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے وہ مصنوعات سازی اور روزگار امریکہ واپس آسکیں گےجنہیں چین نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران چھین لیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئیٹ میں اپنے ہم وطنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا سامان اندرون ملک ہی تیار کریں، جہاں کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ صدر شی کا بہت احترام کرتے ہیں، لیکن جیسا کہ میں نے ان سے پہلے بھی بارہا کہا کہ امریکہ کے ساتھ چین کا تجارتی توازن ٹھیک نہیں ہے، اس لیے انہیں اسے متوازن بنانا ہی ہوگا۔ ٹرمپ کے ساتھیوں اور مشیروں کا خیال ہے کہ وہ چین کے ساتھ اس تجارتی جنگ میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

۔ ایران کے روحانی پیشوا خامنئی کی یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کرنے کی دھمکی

۔ ایران کے روحانی پیشوا آیتہ اللہ خامنئی نے متنبہ کیا ہے کہ ان کے ملک کیلئے  یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ اس سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ ایران امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔ اس خبر کو روزنامہ دی اسٹیٹس مین نے جلی سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اخبار  لکھتا ہے کہ آیتہ اللہ خامنئی کا یہ بیان منگل کے روز یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی اہم آئل پائپ لائنوں پر حملوں کے بعد آیا۔ مغربی ایشیا میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے درمیان یہ ڈرون حملے کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساحل پر اترنے والے آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسی دوران ایران کی دھمکی کے جواب میں امریکہ مغربی ایشیا میں بحری جہاز تعینات کررہا ہے۔ تہران میں منگل کی رات افطار کے بعد لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے آیتہ اللہ خامنئی کہا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہ ایران اور نہ ہی امریکہ کوئی جنگ نہیں چاہتا ۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ جانتا ہے کہ جنگ اس کے حق میں نہیں ہوگی۔ اسی کے ساتھ انھوں نے کہا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔ اسی دوران بدھ کے روز سرکاری اخبار‘ایران’ نے نیوکلیائی پروگرام کے بارے میں جناب خامنئی کا ایک بیان شائع کیا، جس میں کہا گیا کہ اگر نیوکلیائی معاہدہ نہیں ہوا تو تہران 60 دن کے اندر یورنیم کی افزودگی میں اضافہ کردے گا۔ موجودہ معاہدہ کے تحت ابھی صرف تین اعشاریہ چھ فیصد تک کے اضافے کی اجازت ہے۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ افزدگی میں صرف چار دن کے اندر ہی 20 فیصد کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

۔ امریکہ نے عراق میں اپنے سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا دیا حکم

۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر امریکہ نے عراق میں تعینات اپنے تمام غیر ایمرجنسی سفارتی عملے کو وہاں سے نکلنے کا حکم دےد یا ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی اسٹیٹس مین تحریر کرتا ہے کہ امریکی حکومت نے یہ حکم ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں سے امریکی شہریوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر دیا ہے۔ بغداد میں واقع امریکی سفارتخانہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ سفارتخانہ اور اربیل میں واقع قونصل خانہ کے غیر ایمرجنسی ملازمین کو امریکی وزارت خارجہ نے عراق سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائک پامپئو نے ابھی پچھلے ہفتہ عراق کا اچانک دورہ کیا تھا۔ انھوں نے نامہ نگاروں کو کو بتایا تھا کہ ایرانی فوجوں نےا پنی سرگرمی بڑھادی ہے  اسلئے امریکی شہریوں پر حملے کے خطرات کافی بڑھ گئے ہیں۔