17.03.2019جہاں نما

 مغربی بنگال میں انتخابی مہم ختم، لیکن زبانی جنگ جاری

لوک سبھا کےلئے انتخابات کا ساتواں مرحلہ باقی ہے اور اس درمیان مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اور وزیر اعظم نریندرمودی کے درمیان زبانی جنگ شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ آج اخبارات نے اس حوالے سے خبروں کو صفحۂ اوّل پر شائع کیا ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز لکھتا ہے کہ مغربی بنگال میں لوک سبھا کی نو نشستوں کے لیے کل انتخابی مہم تین دل قبل ہی ختم ہوگئی، کیونکہ کولکاتہ میں ترنمول کانگریس اور بی  جے پی کے حامیوں کے درمیان امت شاہ کے ایک روڈ کے دوران جھڑپوں کے بعد انتخابی کمیشن نے ایک غیر معمولی حکم کے تحت انتخابی مہم تین دن قبل ہی ختم کردی تھی۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ جمعرات کے روز کولکاتہ میں بھیڑ نے ودیاساگرکالج پر حملہ کردیاتھا، جس میں بنگالی نشاۃِ ثانیہ کے علمبردار ایشور چند ودیا ساگر کے مجسمے کو نقصان پہنچا تھا، جس کے بعد وزیزاعظم نریندرمودی اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے درمیان زبانی جنگ چھڑ گئی تھی، دونوں ہی رہنما ایک دوسرے کے کارکنوں پر اس حملے کا الزام لگا رہے ہیں۔

ڈونل ٹرمپ نے پوائنٹس پر مبنی نئے گرین کارڈ نظام کا پیش کیا خاکہ

اخبارات کی دوسری اہم خبروں میں ایک اور خبر بھی اہمیت کی حامل ہے، جس میں امریکہ کےلئے پوائنٹس پر مبنی نئے گرین کارڈ سسٹم سے مطلع کیا ہے۔ روزنامہ ہندو لکھتا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونل ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ گرین کارڈ جاری کرنے کے سلسلے میں ایک نئے نظام کی تجویز پیش کریں گے، جس کے تحت کنبہ پر مبنی گرین کارڈ کی تعداد میں ڈرامائی طور پر کمی کی جائے گی اور اس کی جگہ پوائنٹس پر مبنی نظام کا آغاز کیا جائے گا، اس نئے نظام کے تحت دوسرے عوامل کے ساتھ ساتھ تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت اور انگریزی زبان پر دسترس کو بھی اہمیت دی جائے گی۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ صدر ٹرمپ  نےاس نئے خاکے کا اعلان روزگارڈن کے اجتماع میں کیا، جس میں انتظامیہ سے متعلق سینئر اہلکار اور ریپبلکن کے بااثر افراد نے شرکت کی تھی، ان کے اس نئے نظام کا مقصد سرحدی سلامتی کو مستحکم کرنا اور تارکین وطن سے متعلق ضابطوں کو سخت کرنا ہے۔ اخبار کے مطابق اعلان سے قبل ہی امریکی ذرائع ابلاغ میں اس نئے نظام سے متعلق خبریں گردش کرنے لگی تھیں، جس میں کنبہ پر مبنی گرین کارڈس کی تعداد کے برخلاف پیشہ ورانہ مہارت پر مبنی پوائنٹس کی بنیاد پر جاری کیے جانے والے گرین کارڈس کی تعداد میں ڈرامائی اضافہ کیے جانے کا منصوبہ شامل ہے، تاہم دونوں زمروں میں جاری کیے جانے والے گرین کارڈس کی مجموعی تعداد 2017 میں جاری  کیے گئے کارڈس کی تعداد کے مساوی یعنی ایک اعشاریہ ایک ملین رہے گی۔اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس وقت امریکہ جانے والے افراد کی 12فیصد کو مہارت کی بنیاد پر جبکہ 66 فیصد کو کنبے کی بنیاد پر ویزا جاری کیے جاتے ہیں، اس نئی تجویز میں مہارت پر مبنی گرین کارڈس کی تعداد میں 57 فیصد کا اضافہ ہوجائے گا، جس کے تحت امریکہ جانے کے خواہش مندافراد کو ان کی تعلیم، تجربے، عمر اور انگریزی زبان میں دسترس کے حساب سے پوائنٹس دئے جائیں گے، جہاں تک عمر کا تعلق ہے تو نوجوان افراد کو زیادہ پوائنٹس حاصل ہوں گے۔ نئے تارکین وطن کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ امریکہ میں خود کفالت کرسکیں گے اور ان کو سماجیات سے متعلق ایک امتحان بھی پاس کرنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے ایک نئے ’’تعمیر ِامریکہ‘‘ ویزا کا بھی اعلان کیا، جس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ اخبار نے   خیال ظاہر کیا ہے کہ اگر ان تجاویز کو قانونی شکل مل جاتی ہے تو اس کا اثر خصوصاً ان ہندوستانیوں پر پڑے گا، جو امریکی تارکین وطن نظام کے تحت وہاں جانا چاہتے ہیں۔ واضح ہو کہ 2018 کے مالی سال میں پیشہ وارانہ مہارت کی بنیاد پر بڑی تعداد میں ایچ ون بی ویزا ہندوستانیوں کو دیا گیا تھا، جس کا فیصد 70 سے زیادہ تھا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ کیا اس نئے نظام سے امریکہ میں بسنے والے ہندوستانیوں کو آسانی ہوگی،کیونکہ افراد کنبہ خصوصاً عمردراز والدین کو وہاں لے جانے کا عمل زیادہ پیچیدہ ہوسکتا ہے۔

تیل پائپ لائن پر حملے کےلئے سعودی عرب نے ایران پر لگایا الزام، ایران کیخلاف سرجیکل اسٹرائک

کےلئے امریکہ پرزور

یمنی باغیوں کے ذریعے کیے گے ڈرون حملے کا الزام، سعودی عرب نے ایران پر عائد کیا ہے، جس میں ایک اہم پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ شاہی محل کے قریبی اخبار نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران پر سرجیکل اسٹرائک کرے، جس کے بعد خلیج میں تعطل پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اخبار کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا،، جب ایران کی جانب سے مبینہ دھمکی کے بعد امریکہ نے خطے میں جنگی بحری جہاز اور بمبار روانہ کردیئے تھے۔ واضح ہو کہ اتوار کے روز ایک حملے میں متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقے میں چار ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور جمعرات کو ڈرون حملےمیں سعودی پائپ لائن دکو نقصان پہنچا تھا۔ ایران حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول  کی تھی۔ اخبار اس کشیدگی کا پس منظر بیان کرتے ہوئے آگے رقمطراز ہے کہ اس بحران کی جڑیں امریکہ کے اس فیصلے سے منسلک ہیں جس میں اس نے 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان نیو کلیائی معاہدے سے علیحدگی اختیارلی کرلی تھی اور ایران پر سخت پابندیاں عائد کردی تھیں، نتیجتاً آخرالذکر کی معیشت خستہ حالی کا شکار ہوگئی ہے۔ جمعرات کے روز اپنے ٹوکیو دورے میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا تھا کہ ان کے ملک کو امریکہ کی ناقابل قبول پابندیوں کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے، جبکہ ابھی تک اس نے زبردست ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ اخبار سعودی عرب کے نائب وزیر خزانہ شہزادہ خالد بن ولید کے ایک ٹوئیٹ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ سعودی آرام کوکے دو پمپنگ اسٹیشنوں پر ڈرون حملوں سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ملی ٹنٹ ایک ایسا ہتھیار ہیں، جن کو ایران اس خطے میں اپنے توسیعی عزائم کو نافذ کرنے کےلئے استعمال کررہا ہے۔

سمندر میں ایرانی میزائل کی تصاویر امریکہ کے لیے باعث تشویش

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی  کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے امریکی اہلکاروں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایران کی جانب سے دھمکی کے بعد امریکہ نے اپنی تنبیہ میں جو اضافہ کیا ہے، اس کی بنیاد وہ تصاویر ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کےنیم فوجی دستوں نے خلیج فارس میں چھوٹی چھوٹی کشتیوں پر میزائل نصب کیے ہیں۔ سیارچوں سے لی گئی تصاویر میں پرزے جوڑ کر تیار میزائلوں کو دکھایا گیا ہے، جس سے یہ اندیشہ پیدا ہوگیا ہے کہ اسلامی پاسداران انقلاب ان کو امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کے خلاف استعمال کرسکتے ہیں۔ مزید برآں خفیہ اطلاعات اس بات کی بھی مظہر ہیں کہ تجارتی بحری جہازوں پر حملے ہوسکتے ہیں اور ایران  سے تعلق رکھنے والے عرب ملیشیا کے ذریعے بھی امریکہ پر حملے ممکن ہیں۔ اخبار ٹرمپ کے شدت پسند قومی مشیر اور وزیر خارجہ مائک پامپئو کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ان تصاویر سے یہ اشارے بھی ملتے ہیں کہ ایران، امریکی افواج پر حملے کی تیاری کررہا ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ میں شامل دیگر سینئر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے یہ اقدامات دفاعی بھی ہوسکتے ہیں۔

سری لنکا میں مسلم قائدین نے کی امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل، کہا مسلم مخالف فسادات سے  ملے گی

سری لنکا کے تازہ ترین حالات کے تعلق سے روزنامہ اسٹیٹس مین کی سرخی ہے’’مسلم رہنماؤں کے ذریعے پرامن رہنے کی اپیل، کہا مسلم مخالف حملوں سے انتہا پسندی کو ملے گا فروغ‘‘۔ خبر کے مطابق مسلم سیاسی  قائدین کا کہنا ہے کہ ملک کی مسلم اقلیت کے خلاف حملوں سے مسلمانوں کے اندر موجود انتہا پسند ملی ٹنٹوں کے مقاصد کی تکمیل ہوگی، جو لوگوں کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ ایسٹر کے موقع پر دھماکوں کے بعد ملک گیر فرقہ وارانہ فسادات کے تناظر میں ان قائدین نے بنیاد پرست عناصر سے اپیل ہے کی کہ وہ تشدد سے احتراز کریں۔ واضح ہو کہ مسلم مخالف فسادات میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا اور گھروں، تجارتی اداروں اور مسجدوں کو نقصان پہنچاتھا۔ اخبار ایک سابق وزیر فیریئل  اشرف کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ ملک کے بیشتر مسلمان تشدد کے مخالف ہیں اور مسلم فرقے نے انتہا پسندوں کے خلاف اطلاعات سلامتی افواج کو فراہم کرنے کی رضاکارانہ پیش کش کی ہے۔ اسی دوران اقوام متحدہ نے متعدد مواقع پر سیاسی، مذہبی اور دیگر فرقوں کے قائدین کے ذریعے دیئے گئے ان بیانات کوسراہا ہے، جن میں ایک آواز ہوکر تشدد کی مذمت کی گئی ہے۔

انتہا پسندوں کو تقویت۔ جموںوکشمیر میں جھڑپیں، تین ملی ٹنٹ ہلاک

روزنامہ ٹری بیون کی ایک خبر کے مطابق وادیٔ کشمیر میں تین الگ الگ مقامات پر سلامتی دستوں اور ملی ٹنٹوں کے درمیان مسلح جھڑپوں میں دو فوجی اہلکار، چھ ملی ٹنٹ اور  ایک سویلین ہلاک ہوگئے۔ اخبار لکھتا ہے کہ پہلی جھڑپ کل علی الصبح پلوامہ میں ہوئی، جس میں تین ملی ٹنٹ اورایک جوان ہلاک اور فوج کے دو اہلکار اور ایک سویلین زخمی ہوگئے۔ اس کے چند گھنٹوں بعد شوپیاں میں ہوئی دوسری جھڑپ میں تین ملی ٹنٹ اور ایک سپاہی ہلاک ہوگئے، ان کی شناخت ابھی نہیں ہوسکی ہے۔ تاہم شوپیاں میں ہوئی جھڑپ میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔ پلوامہ میں ہلاک ملی ٹنٹوں کی شناخت جیش کے کمانڈر اور پاکستانی خالد بھائی، پلوامہ کے نصیر احمد پنڈت اور شوپیاں کے عمر میر کے طور پر ہوئی ہے۔ اخبار پولیس کے حوالے سے لکھتا ہے کہ خالد گزشتہ آٹھ برس سے سرگرم تھا اور اس پر 2017 میں لیتھوپورا  حملے میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔

ٹریزامے اوائل جون میں ہوسکتی ہیں مستعفی

۔ برطانیہ میں وزارت عظمیٰ چھوڑنے کے دباؤ کے پس منظر میں وزیر اعظم ٹریزمے کی پارٹی کی ایک بااثر کمیٹی نے اتفاق کیا ہے کہ وہ جون کے اوائل میں مستعفیٰ ہوجائیں گی۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز اپنی خبر میں رقمطراز ہے کہ ان کے استعفیٰ کا فیصلہ مے اور نام نہاد 1922 کمیٹی کے درمیان ایک میٹنگ میں کیا گیا، ان پر دباؤ تھا کہ وہ مستعفی ہوں یا پھر جبری علیحدگی کے نتائج کا سامنا کرنے تیار رہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین گراہم بریڈی کے مطابق ان کے استعفیٰ کا طریقہ کار زیر غور ہے، حالانکہ اس سلسلے میں کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔ نیز یہ کہ وزیراعظم یوروپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کو یقنی بنانے کےلئے پرعزم ہیں۔