20.05.2019 جہاں نما

ایگزٹ پولس میں مودی کو دوسری مدتِ کار کی پیش گوئی، بی جے پی شمالی اور مغربی ہندوستان میں اپنی طاقت رکھے گی برقرار، مغربی بنگال میں بھی اس کو حاصل ہوگی نمایاں کامیابی، آخری مرحلےمیں 64 اعشاریہ دو تین فیصد پولنگ

1۔آج ملک کے تمام اخبارات نے لوک سبھا انتخابات 2019 کی ساتویں اور آخری مرحلے کی پولنگ کے بعد ایگزٹ پولس  کی پیش گوئیوں کو مختلف لیکن نمایاں سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ ہندو ’’ایگزیٹ پولس میں مودی کو دوسری مدت کار’’کی سرخی کے تحت اپنی خبر میں لکھتا ہے کہ تمام ایگزٹ پولس میں وزیراعظم نریندر مودی کے لئے دوسری مدتِ کار کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ان تمام جائزوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اترپردیش میں مودی کی بی جے پی کو جھٹکا لگ سکتا ہے جہاں 2014 کے عام انتخابات میں اس نے 80 میں سے 71 نشستیں حاصل کی تھیں۔ اس کے باوجود پارٹی کا دعوی ہے کہ وہ شمالی اور مغربی ہندوستان میں اپنی طاقت برقرار رکھے گی اور مغربی بنگال میں اس کو نمایاں کامیابی ملے گی۔ اخبار ان جائزوں کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کو 242 اور 365 کے درمیان نشستیں حاصل ہونے کی امید ہے اور کانگریس کی زیر قیادت یو پی اے کو 77 سے 164 سیٹیں مل سکتی ہیں جبکہ ان محاذوں سے الگ جماعتوں کو جن میں سماج وادی اور بہوجن سماج وادی پارٹیاں نیز راشٹریہ لوک دل شامل ہیں، 69 سے 125 نشستیں مل سکتی ہیں۔ واضح ہو کہ ان تینوں پارٹیوں کے اتحاد نے اترپردیش میں دونوں محاذوں کے خلاف سخت مزاحمت کی تھی۔

اخبار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ہندوستان میں ایگزٹ پولس کے ذریعہ غلط پیش گوئیوں کی زبردست تاریخ رہی ہے۔ کانگریس ڈاٹا اینالیٹکس ڈپارٹمنٹ کے چیئرپرسن پروین چکرورتی کی ٹوئیٹر پوسٹ کے مطابق 2014 کے بعد سے ایگزٹ پولس میں بڑی ریاستوں میں تمام جماعتوں کے لئے 80 فیصد پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔ واضح ہو کہ اوپینئن پولس   کے مقابلے میں ایگزٹ پولس زیادہ صحیح مانےجاتےہیں۔ حالیہ برسوں میں ہندوستان میں ہی نہیں، دنیا بھر میں ان پولس کی ساکھ کو حقیقی نتائج آنے کے بعد دھچکا لگا ہے۔ انتخابات کے تعلق سے ایک اور خبر میں اخبار نے مطلع کیا ہے کہ اتوار کے روز سات ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ایک علاقے کے 59 حلقوں کےلئے آخری مرحلے کی پولنگ کے بعد سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں کی قسمت ای وی ایمس میں سربمہر ہوگئی۔ اس مرحلے میں 64 اعشاریہ دو تین فیصد ووت ڈالے گئے جبکہ 2014 میں یہ فیصد 64 اعشاریہ چھ چار تھا۔ ساتویں مرحلے کی اس پولنگ میں تشدد کے اکا دکا واقعات کی بھی اطلاع ملی ہے۔ شمالی کولکاتا میں چند دیسی بم پھینکے جانے کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ بھات پاڑا میں صورتحال اس وقت خراب ہوگئی جب بی جے پی اور ترنمول کانگریس حامی ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ اسلام پور سے بھی بمباری اور تشدد کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

2020کے صدارتی انتخابات کے لئے بیڈن نے شروع کی اپنی مہم، کہا ٹرمپ ڈیوائڈر ان چیف

2۔ روزنامہ ایشین ایج کی ایک خبر کے مطابق سابق امریکی نائب صدر جو بیڈن  نے الزام لگایا ہے کہ امریکی عوام کے درمیان نسل پرستی، نفرت اور تلخی کے فروغ کے ذریعے صدر ڈونل ٹرمپ نے امریکہ کو تقسیم کردیا ہے۔ 2020 میں صدارتی انتخاب کے لئے فلاڈلفیا سے اپنی مہم کا آغاز کرتے ہوئے جوبیڈن نے ٹرمپ کو ‘‘ڈوائڈر ان چیف’’ قرار دیا اور کہا کہ وہ قوم کی روح کو بحال کریں گے، درمیانے طبقے کی تعمیر نو کریں گے اور امریکہ کو متحد کریں گے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ اس موقعے پر انہوں نے :ٹرمپ کو شکست دو’’ کی بلند بانگ اپیل کی جبکہ ان کے لاکھوں راسخ حامی ‘‘جو’ مطلوب ہیں’’ کا نعرہ لگا رہے تھے۔ اپنی تقریر میں جو بیڈن نے واضح کیا ہے کہ صدارتی مہم کے آغاز کے لئے فلاڈلفیا کا انتخاب انہوں نے اس وجہ سے کیا ہے کہ یہاں سے امریکہ کی جمہوریت کا آغاز ہوا تھا۔ اخبار ان کی تقریر کے حوالے سے آگے لکھتا ہےکہ صدر ٹرمپ پر امریکیوں کے درمیان خوف و دہشت پھیلانے اور نسلی بنیاد پر ان کو تقسیم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بیڈن نے کہا کہ امریکہ کی جمہوریت اور قوم کو سخت  خطرہ لاحق ہے، ملک کی سیاست میں رخنے پڑچکے ہیں اور امریکی صدر ڈیوائڈر ان چیف ہیں۔

 

چین کے مفادات کے خلاف حد سے زیادہ تباہ کن اقدامات سے پرہیز کرے امریکہ: وانگ یی کی تنبیہ

3۔ چین  کے اعلی سفارت کار وانگ یی نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو سے کہا ہے کہ چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے وہ حد سے زیادہ تباہ کن اقدامات نہ کریں۔ نیز یہ کہ دونوں ممالک کو باہمی تعاون سے فائدہ پہنچے گا جبکہ تنازعات  نقصان کی وجہ بن سکتے ہیں۔ روز نامہ اسٹیٹس مین کے مطابق چند روز قبل صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکیٹیو آرڈر پر دستخط کئے تھے جس کے تحت غیر ملک میں تیار ٹیلی کام آلات کو نصب کرنے سے امریکی کمپنیوں کو روک دیا گیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد بظاہر امریکی نیٹ ورک سے وا وے   کو باہر کردینا ہے۔ اس کے بعد ہی اسٹیٹ کاؤنسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے ٹیلی فون پر پامپیو سے بات چیت کے دوران یہ تنبیہ کی ہے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ بیجنگ نے اس حکم کے خلاف جوابی کارروائی کی بھی وارننگ دی ہے جس میں چین کی اس سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی پر پابندی لگادی گئی ہے۔ نیز یہ کہ امریکہ نے حال ہی میں ایسے اقدامات کئے ہیں اور منفی بیانات دیئے ہیں جن سے چین کے مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  چین ان تمام اقدامات کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ ان اقدامات میں سیاسی اقدامات کے تحت چین کی کمپنیوں کے کام کاج کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے۔ اخبار وانگ یی کے حوالے سے آگے لکھتا ہےکہ چین ہمیشہ ہی معاشی اور تجارتی اختلافات کو مذاکرات اور مشاورت کے ذریعہ حل کرنے کا خواہش مند رہا ہے جو مساویانہ بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی وانگ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا ملک مشرق وسطی میں نیوکلیائی عدم توسیع اور امن و استحکام کو فروغ  دینے کے لئے پرعزم ہے۔

 

ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کےلئے قومی سلامتی مشیر کی تعیناتی پاکستان کے زیر غور

4۔ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نےعالمی خبروں کے لئے مخصوص صفحے پر ایک خبر شائع کی ہے جس کے مطابق پاکستان میں عمران خاں حکومت بہت سرگرمی سے  قومی سلامتی کے مشیر کی تعیناتی پر غور کررہی ہے تاکہ ہندوستان کے ساتھ سفارتی سطح پر مذاکرات بحال کئے جاسکیں اور ان اختلافات کو حل کیا جاسکے جو، ان دو نیوکلیائی ممالک کے درمیان امن مذاکرات میں سد راہ بنے ہوئے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ گزشتہ برس اگست میں مسند اقتدار سنبھالنے کے بعد عمران خاں مختلف متنازعہ امور پر امن مذاکرات بحال کرنے کےلئے ہندوستان سے بار بار رابطہ قائم کرچکے ہیں لیکن ہندوستان بھی واضح کرچکا ہے کہ دہشت گردی اور مذاکرات شانہ بشانہ نہیں چل سکتے ہیں۔ پاکستان کے ایک سینئر اہلکار نے نام نہ طاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ حکومت کسی سبکدوش فوجی اہلکار کو قومی سلامتی کا مشیر متعین کرسکتی ہے۔ اس سلسلے میں کئی نام زیر غور ہیں مگر ابھی تک کسی نام پر فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔ اخبار پاکستان کے روزنامہ ایکسپریس ٹریبون کے حوالے سے لکھتا ہے کہ اس ممکنہ تعیناتی کا مقصد بیک چینل ڈپلومیسی کو بحال کرنا ہے تاکہ فوری حل کے متقاضی  متنازعہ امور کو طے کیا جاسکے کیونکہ ماضی میں بھی دونوں ممالک قومی سلامتی مشیر کے توسط سے اس بیک چینل ڈپلومیسی کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ اب چونکہ ہندوستان میں انتخابات کا عمل مکمل ہوچکا ہے اس لئے پاکستان، ہندوستان کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کے متبادل تلاش کررہا ہے۔ گزشتہ ماہ غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ اگر وزیراعظم نریندر مودی دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کے امکانات مزید روشن ہوجائیں گے۔ واضح ہو کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اس وقت کشیدہ ہوگئے تھے جب پاکستان میں قائم جیش محمد کے خودکش بمبار نے 14 فروری کو جموں و کشمیر کے پلوامہ ضلع میں سی آر پی ایف قافلے پر حملہ کردیا تھا۔ اس حملے میں 40 سپاہی ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی خبار کی ایک اور خبر کے مطابق بلوچستان کے ایک لگژری ہوٹل پر سخت دہشت گردانہ حملے کے کافی دن بعد پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ سی پی ای سی کے تحت پروجیکٹوں اور ان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کے تحفظ کے لئے پاکستان نے ڈویژن سائز کا ایک اور خصوصی دستہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 50 بلین ڈالر کے چین۔ پاکستان معاشی راہدری پروجیکٹ کو دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے آئی ایس آئی کے ڈائرکٹر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستانی فوج’ پروجیکٹ کی سلامتی کے لئے پرعزم ہے نیز یہ کہ فوج اس پروجیکٹ کے تحفظ کے لئے پہلے ہی ایک یونٹ تشکیل دے چکی ہے۔ اس سے قبل کی اطلاعات شاہد ہیں کہ اس مقصد سے 9 ہزار فوجیوں اور 6 ہزار نیم فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک اسپیشل سکیورٹی ڈویژن تشکیل دیا جاچکا ہے۔

 

جنگ کے خلاف سعودی عر ب اور ایران کا بیان، گیند دوسرے فریق کے پالے میں: ریاض

5۔ جنگ کے خلاف ‘‘سعودی عرب اور ایران کا بیان، گیند دوسرے فریق کے پالے میں: ریاض’’۔ یہ سرخی ہے روزنامہ انڈین ایکسپریس کی۔ خبر کے مطابق سعودی عرب نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ علاقے میں وہ ایران سے جنگ نہیں چاہتا مگر اس کے ساتھ ہی گزشتہ ہفتے سعودی تیل اثاثوں پر حملوں کے تناظر میں اس نے کہا کہ وہ پوری قوت سے جواب دینے کےلئے تیار ہے اور اب گیند دوسرے فریق کے پالے میں ہے۔ واضح ہو کہ منگل کے روز تیل کے دو پمپنگ اسٹیشنوں پر ڈرون حملوں کے لئے سعودی عرب نے ایران پر الزام عائد کیا تھا۔ ان حملوں کی ذمہ داری ایران سے منسلک یمنی کے حوثی گروپ نے قبول کی تھی۔ ایران نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے جبکہ اسلامی جمہوریہ اور واشنگٹن کے درمیان پابندیوں کےسلسلے میں تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے اور امریکہ نے خطے میں اپنی فوجیں بھیج دی ہیں جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ سعودی عرب کے شاہ سلمان نے 30 مئی کو مکہ مکرمہ میں خلیج اور عرب ممالک کی ایک میٹنگ بلائی ہے جس میں ممکنہ جنگ کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم نے میجر جنرل حسین سلامی کے بیان کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا مگر اس کے ساتھ ہی وہ جنگ سے خوفزدہ بھی نہیں ہے۔