21.05.2019 جہاں نما

شیئر بازار میں2013 کے بعد سب سے بڑی اچھال،سینسکس میں1422 پوائنٹس کا اضافہ،روپے میں بھی دو ماہ کی سب سے بڑی مضبوطی

۔ ایگزٹ پول میں این ڈی اے کو اکثریت ملنے کے آثار کے بعد پیر کے روز شیئر بازار میں زبر دست اچھال آئی۔اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ہندوستان ٹائمز تحریر کرتا ہے کہ سینسکس 1422پوائنٹ کی بڑھت کے ساتھ 39,352 اعشاریہ چھہ سات پر بند ہوا۔اس سے پہلے سینسکس میں 10 ستمبر2013 کو 727 اعشاریہ صفر تین کی بڑھت درج کی گئی تھی۔نفٹی میں بھی دس سال کا یہ سب سے بڑا اضافہ تھا۔ یہ421 اعشاریہ ایک صفر پوائنٹ بڑھ کر 11828 اعشاریہ دو پانچ کی رکارڈ سطح پر بند ہوا۔ صرف شیئر بازار میں ہی  نہیں بلکہ روپے میں بھی دو ماہ میں سب سے بڑی 48 پیسے کی مضبوطی دیکھنے کو ملی۔کل ایک ڈالر کی قیمت 69 اعشاریہ سات چار روپے درج کی گئی جبکہ جمعہ کے روز اس کی قیمت 70 روپے 22 پیسے تھی۔ بینکوں سمیت 66 شیئروں نے 52 ہفتوں کی اونچائی چھوئی۔ ایچ ڈی ایف سی ،آئی سی آئی سی آئی ،کوٹک مہندرا،ڈی سی بی،فیڈرل بینک،بجاج فائنانس،ایس آر ایف،ٹائٹن اور پی وی آر کے شیئر 52 ہفتوں کی اونچائی پر رہے۔

 

حکمت عملی پر تبادلۂ خیال کے لئے این ڈی اے رہنماؤں کی آج میٹنگ،نائڈو کی بھی اتحاد پر تبادلۂ خیال کے لئے ممتا سے ملاقات

۔ ایگزٹ پول کی پیش گوئی کے بعد این ڈی اے کے اعلیٰ رہنما حکمت عملی طے کرنے کے لئے آج نئی دہلی میں ملاقات کر رہے ہیں۔ اس خبر کو بیشتر اخبارات نے  شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ایشین ایج لکھتا ہے کہ ایگزٹ پول کی پیش گوئی سے حوصلہ پا کر بی جے پی نے اتحادیوں کی آج ایک میٹنگ بلائی ہے۔ میٹنگ کے بعد بی جے پی صدر امت شاہ نے ایک ڈنر کا اہتمام کیا ہے۔ امید ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی دونوں موقعوں پر موجود رہیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ تمام ایگزٹ پول نے دوسری مدت کے لئے بھی نریندر مودی کی قیادت  میں این ڈی اے کو حکومت کی پیش گوئی کی ہے ،بی جے پی 23 مئی کو نتائج کے اعلان ہونے کے بعد اگلے روز یعنی 24 مئی کو اپنے ارکان پارلیمنٹ کی میٹنگ طلب کر سکتی ہے۔ بی جے پی بار بار یہ بات کہتی رہی ہےکہ وہ اس باربھی زبر دست اکثریت حاصل کرے گی ۔ادھر مرکزی وزیر نتن گڈکری نے ناگپور میں آر ایس ایس لیڈر بھیا جی جوشی سے ملاقات کی ہے۔ قابل ذکر ہےکہ آر ایس ایس بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ایگزٹ پول کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق امید ہے کہ جے ڈی یو سر براہ اور بہا رکے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، شیو سینا  سر براہ اودھو ٹھاکرے اور لوک جنگ شکتی پارٹی کے صدر رام ولاس پاسوان آج کی میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ شروع ہونے سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے اعلیٰ رہنما پارٹی صدر دفتر میں ملاقات کریں گے۔ اسی دوران بی جے ڈی نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر این ڈی اے نے حکومت تشکیل کی تو وہ اس میں شامل ہو سکتی ہے۔ ایگزٹ پول کے مطابق بی جے پی کو اوڈیشہ میں کافی فائدہ ہونے والا ہے۔اسی دوران آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ اور ٹی ڈی پی سر براہ چندر بابو نائیڈو نے کولکاتہ میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے ملاقات کی۔ ترنمول کانگریس کے ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے معلق پارلیمنٹ کی صورت میں غیر بی جے پی حکومت کی تشکیل دینے کے سوال پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ میں طے کیا گیا کہ نتائج کے اعلان کے بعد معلق پارلیمنٹ کی صورت میں مہا گٹھ بندھن کے دوسرے رہنماؤں کے ساتھ اس موضوع پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

 

جنگ ہونے پر ایران کا خاتمہ ہو جائےگا:ٹرمپ کی دھمکی

۔ امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو اس کا خاتمہ یقینی ہے۔اس خبر کو تمام اخبار ات نے اپنے کالموں میں خاص جگہ دی ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا تحریر کرتا ہے کہ پیرکے روز بغداد میں امریکی سفارتخانے کے پاس ایک راکٹ گرنے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا کہ اگر جنگ شروع ہوئی تو ایران پوری طرح تباہ ہو جائے گا۔ پیر کو بغداد میں امریکی سفارتخانے سے کچھ دور ایک کٹوشا راکٹ آ کر گرا تھا۔ تا ہم اس میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ عراقی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ راکٹ مشرقی بغداد سے داغا گیا ہے جو ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں کا گڑھ ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ایران امریکہ کو دھمکانے کی کوشش نہ کرے۔ ادھرایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹرمپ کا جواب دیتے ہوئے ٹویٹر پر لکھا کہ امریکہ کو بھی ایران کو دھمکانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ا یرانیوں نے ہر جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور تمام جارح طاقتیں شکست خوردہ ہو کر گئی ہیں۔ آخر میں انہوں نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ وہ دوسروں کی عزت کرنا سیکھیں یہ کافی کام آتا ہے۔

 

فائننشیل ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے باہر ہونے کے لئے پاکستان کو زبردست سفارتی کوششوں کی ضرورت

۔ پاکستان کے ایک سینئر سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے باہر نکلنا ہے تو اسے بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنے کے لئے سفارتی کوششیں تیز کرنی پڑیں گی۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی اسٹیٹس مین تحریر کرتا ہے کہ پاکستانی اہلکار کا یہ بیان چین کے جنوبی شہر گوانزاہو  میں فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس کے ایشیا۔پیسفک گروپ کی دو روزہ میٹنگ کے بعد آیا۔اس میٹنگ میں اسلام آباد نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت کے خلاف پاکستانی کوششوں کا دفاع کیا۔اس اہلکار نے جو اس میٹنگ میں شریک تھا، روزنامہ ڈان کو بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کے مکمل اجلاس اور اس کے ورکنگ گروپوں کی میٹنگیں فلوریڈا کےاورلینڈو میں 16 سے 21 جون کے درمیان ہوں گی اور یہ میٹنگیں پاکستان کے  گرے لسٹ سے باہر ہونے یا بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے کے لئے کافی ہوں گی۔ اور لینڈو میں ہونے والا ایف اے ٹی ایف کامکمل اجلاس پاکستان کا مستقبل طے کرے گا اگر چہ اس کا باقاعدہ اعلان پیرس میں 13 سے 23 اکتوبر کے درمیان ہونے والے مکمل اجلاس میں کیا جائےگا۔اس لئے آئندہ چار ہفتوں کے دوران پاکستان کو اپنی سفارتی کوششیں تیز کرنی ہوں گی۔ ڈان رپورٹ کے مطابق گرے لسٹ سے باہر نکلنے کے لئے پاکستان کو 15سے16 ووٹوں کی ضرورت ہے جبکہ بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کے لئے اسے کم از کم تین ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔

 

یمن کی پریشانیاں،روزنامہ ہندو کا اداریہ

۔ یمن میں سعودی عرب کے تازہ ترین فضائی حملوں سے جنگ بندی سے قبل کی صورت حال پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس موضوع پر روزنامہ ہندو نے آج اپنا اداریہ تحریر کیا ہے۔ اداریہ کے مطابق دسمبر2018 میں ہوئی جنگ بندی کے تحت حوثی باغی یمن کی تین بندر گاہوں سے واپس ہو رہے تھے ۔اسی دوران انہوں نے ایک سعودی پائپ لائن پر ڈرون سے حملہ کر دیا۔ اس کے جواب میں سعودی عرب نے یمن کی راجدھانی صنعاء پر حملہ کر دیا جس میں چھ شہری مارے گئے ۔اب اس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ وہاں جنگ بندی سے قبل کی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔اگر یمن میں لڑائی تیز ہوئی تو مغربی ایشیا میں امن کو مزید خطرہ لاحق ہو جائے گا کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے ہی کشیدگی موجود ہے۔ڈرون حملہ کے بعد سعودی عرب نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کیونکہ تہران مبینہ طور پر حوثیوں کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم ایران اور حوثیوں دونوں نے اس کی تردید کی تھی۔ یمن میں اس وقت  قحط جیسی صورت حال ہے یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ جنگ بندی کے باوجود سعودی عرب نے یمن پر اپنے حملے بند نہیں کئے تھے۔ بڑے دکھ کی بات یہ ہے کہ ان دونوں کےد رمیان یمن کے شہری پس رہے ہیں۔ دسمبر میں جو جنگ بندی ہوئی وہ حدیدہ کے ساحلی شہر میں ہوئی تھی۔ لیکن پچھلے ہفتہ حوثیو ں نے اس جنگ بندی سے خود کو الگ کر لیا۔ حوثیوں کو بین الاقوامی ثالثی کے تحت حکومت کے ساتھ بات چیت جاری رکھنی چاہئے۔ انہیں علاقائی سیاست سے دور رہ کر حکومت کے ساتھ اختلافات دور کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھنا چاہئے۔ جبکہ سعودی عرب کو یمن میں مداخلت کرنا بند کر دینا چاہئے۔

تاجکستان کی جیل میں فساد کے دوران داعش کے ارکان سمیت 32 افراد ہلاک

۔ تاجکستان کی ایک جیل میں اتوار کے روز فساد کے دوران داعش کے 24 ارکان اور تین محافظوں سمیت کم از کم 32 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس خبر کو روزنامہ انڈین ایکسپریس نے جلی سرخی کےساتھ شائع کیا ہے ۔ تاجکستان کی وزارت عدل کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار تحریر کرتا ہے کہ اتوار کی شام ہوئے جھگڑے میں پانچ قیدی اور تین محافظ مارے گئے لیکن بعد میں فساد بڑھ جانے کے بعد سیکورٹی فورسز نے اسے قابو میں کرنے کی کوشش کی جس کے دوران مزید لوگ ہلاک ہوئے۔ یہ جیل دارالحکومت دوشامبےسے17 کلو میٹر دوروخدت کے مقام پر ہے ۔ جس میں 1500 قیدی ہیں۔وزارت کے مطابق فساد کرنے والوں نے دوسروں کو خوف زدہ کرنے کے لئے پہلے تین محافظوں  اور پانچ قیدیوں کو چاقو مار کر ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے دوسرے قیدیوں کو یرغمال بنا لیا۔ اس کے جواب میں سیکورٹی فورسزکی جانب سے کی گئی کارروائی میں اس گروپ کے 24 لوگ مارے گئے جبکہ35 دوسروں کو گرفتار کر لیا گیا۔