عمران حکومت کو سیاسی چیلنج کا سامنا

عمران خان کی حکومت نے بہ مشکل دس ماہ پورے کئے ہیں۔ لیکن اس مختصر سی مدت میں انہیں کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اقتصادی بحران نے پہلے ہی سے عام آدمیوں کی کمر توڑ رکھی ہے اس پر آئی ایم ایف کے بیل آڈٹ پیکج کے باعث عوام پر مزید ٹیکس اور مہنگائی کی مار پڑنے والی ہے۔ عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی ظاہر ہے احتجاج کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ اس احتجاج کو آواز دینے کے لئے سیاسی سر گرمیاں ہی موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ جمہوریت میں عوام کے احساسات اور جذبات کی آئینہ داری سیاسی پارٹیوں اور سیاسی تحریکوں کے ذریعہ ہی ممکن ہوتی ہے۔ سو پاکستان میں عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی کے پیش نظر 11 اپوزیشن پارٹیوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ عنقریب احتجاجی مظاہروں کا سلسلسہ شروع کریں گی۔ اس سلسلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے گذشتہ اتوار کو ایک افطار پارٹی میں یہ اعلان کیا کہ اپوزیشن پارٹیوں سے وسیع پیمانے پر صلاح و مشورہ کرنے کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور اس کے باہر حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ حالانکہ اس بات پر دو رائے ہو سکتی ہے کہ ایسے وقت میں احتجاج کیوں شروع کیا جائے جب ابھی حکومت کو اقتدار میں آئے ایک سال کا عرصہ  بھی پورا نہیں ہوا لیکن دوسری طرف عوام کی بڑھتی ہوئی پریشانیاں ہیں جو سیاسی پارٹیوں کو مجبور کر رہی ہیں کہ وہ یہ سوچیں کہ عوام کے صبر و ضبط کا امتحان کب تک لیا جائے گا۔

نئے سال کا بجٹ آنے والا ہے اس لئے بجا طور پرعوام یہ توقع کرتے ہیں کہ ا ٓنے والے بجٹ میں ان کے لئے کچھ ایسی رعایتوں کاا علان ہو جس کے باعث وہ قدرے راحت کا سانس لے سکیں۔حالانکہ ابھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلسہ شروع نہیں ہوا ہے اور اپوزیشن کی جانب سےصرف اس کا خیال ظاہر کیا گیا ہے لیکن حکومت کے حلقوں میں بیزاری کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔سب سے زیادہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے ایسا کوئی اشارہ بھی ابھی تک نہیں کیا گیا ہے کہ وہ اس مسئلہ پر اپوزیشن پارٹیوں سے تبادلہ خیال کرنا چاہتی ہے یا در پیش مسائل سے نمٹنے میں ان کا تعاون چاہتی ہے۔اپوزیشن کو بد نام کرنے کی کوشش تو یقیناً حکومت کی جانب سے کی جائے گی۔  لیکن پاکستانی میڈیا میں اس بات کا بڑا چرچہ ہے کہ کم از کم احتجاج اور مظاہروں کے خلاف بیان دینے یا مظاہرین کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنے کا عمران خان اوران کے رفقاءکار کو کوئی اخلاقی حق نہیں پہنچتا کیونکہ پچھلی حکومتوں کے خلاف مظاہرے کرنے ،دھرنے پر بیٹھنے اور کینٹرز کے ذریعہ راستوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کے کام میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے ۔ پاکستان کو اس وقت بہت سے چیلنج درپیش ہیں لیکن بجائے اس کے کہ عمران خان کی حکومت کے ذمہ دارا افراد ان امور پر اپوزیشن سے بات چیت اور صلاح و مشورہ کریں اور ان مسائل سے نمٹنے کے طریقے تلاش کرنے کی کوشش کریں، وہ الٹے اپوزیشن کے خلاف اشتعال انگیز بیانات جاری کرتے ہیں۔ ظاہر ہے اس سے اشتعال اور بڑھے گا اور بات چیت کی راہیں دشوار تر ثابت ہوں گی۔

پاکستان کے بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران خان نے اپوزیشن رہنما کی حیثیت سے اپنی سیاسی ذمہ داریاں ٹھیک سے نہیں نبھائیں لیکن کم از کم بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ حکومت کی ذمہ داری مثبت انداز سے نبھائیں۔ عمران خان کے احتجاجی مظاہروں میں اکثر ایسے رویوں کا بھی اظہار ہوتا تھا جو جمہوری قدروں سے ہم آہنگ نہیں ہوتے تھے ۔اب جمہوری طور پر ایک منتخب وزیر اعظم کی حیثیت سے انہیں جمہوری قدروں کا احترام کرنا چاہئے۔ اس سے جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستانی میڈیا میں آج کل اس بات کا بھی بڑا ذکر ہے کہ نئی نسل کی سیاسی شخصیتوں میں بلاول بھٹواور مریم نواز سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔بلاول بھٹو نے گزشتہ انتخابات کے دوران اور بعد ازاں پارلیمنٹ میں بھی اچھی کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسی طرح مریم نواز نے اپنی والدہ مرحومہ کے لئے ایک ضمنی انتخاب کی مہم اپنے طورپر پورے اعتماد کے ساتھ چلائی تھی۔ ہو سکتا ہے پاکستانی سیاست میں آگے چل کر ان کی کارکردگی بہتر اثر مرتب کر سکے ، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ جمہوریت کے فروغ کے لئے اچھی بات ہوگی۔