سرحد کی نگرانی کرنے والی خلا سے جھانکنی نگاہ

گزشتہ بدھ کو ایک ایسا راڈار امیجنگ سیٹلائٹ   لانچ کیا گیا ہے جو خلاء سے زمین پر ہونے والی انسانی سرگرمیوں کی اطلاعات فراہم کرے گا۔ اس سیٹلائٹ سے خاص طور پر ہمہ وقت سرحد پر ہونے والی سرگرمیوں کے علاوہ موسم کے تغیر و تبدل پربھی  نگاہ رکھی جائے گی۔ اس 615 کلوگرام وزن کے سیٹلائٹ کی مدت کار تقریبا 5 سال ہے۔

اس سیٹلائٹ سے خاص طور پر سرحد پر ہونے والی سرگرمیوں پر نگاہ رکھی جائے گی تاکہ دراندازوں کی کارکردگی پوری طرح نظر میں رہے اور دہشت گردوں کی کارروائیوں کی تفصیلات سے باخبر رہا جاسکے۔

ہماری روایتی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ سے بھی زمینی سرگرمیوں کی تصویریں لی جاتی رہی ہیں لیکن ان میں کمی یہ تھی کہ رات کی تاریکی اور بادلوں کی وجہ سے چھائی سیاہی میں، اس کی کارکردگی محدود ہوجاتی تھی اور بعض اوقات یہ کار آمد ثابت نہیں ہوتے تھے۔

یہ نیا سیٹلائٹ آر آئی  ایس اے ٹی ۔2 بی راڈار امیجنگ سیٹلائٹ ہے جس میں راڈار کے ذریعہ سینسر کو ہمیشہ متحرک رکھا جاتا ہے اور جس کے ذریعہ ہر قسم کے حالات میں خلا سے زمین پر نگاہ رکھی جاسکتی ہے اور یہاں کی تصویریں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ موسم اور رات دن کے تغیرات کا اس سیٹلائٹ کی کارکردگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ آر آئی اے ایس۔2 بی میں نصب سینتھیٹک اپرچر   زمین پر ہونے والی چھوٹی سے چھوٹی سرگرمیوں اور چھوٹے سےچھوٹے ساز و سامان پر بھی کافی صاف نگاہ رکھ سکتی ہے۔

آر آئی اے ایس۔2 بی سیٹلائٹ کے علاوہ اب پی ایس ایل وی۔سی 46 ، جو ہمارا  سیٹلائٹ لانچ وہیکل ہے، اس میں بھی کافی کارآمد اور اہم تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ اس میں کم خرچ والے ہندوستانی پروسیسر، جس کو وکرم پروسیسر کے نام سے جانا جاتا ہے، کو نصب کیا جارہا ہے جس کے ذریعہ اسرو  کے چیئرمین ڈاکٹر کے سیون کے بقول، ہمارے لانچ وہیکل میں نہایت انقلابی نوعیت کی تبدیلیاں آجائیں گی۔ وکرم پروسیسر کو چنڈی گڑھ کے سیمی کنڈکٹر کمپلکس میں ڈیولپ کیا گیا ہے اور اب اسے اسرو کے لانچ وہیکل میں استعمال کیا جائے گا۔

آر آئی اے ایس سیٹلائٹ سیریز ، اسرو کے ذریعہ بنایا گیا پہلا سیٹلائٹ ہے جسے ہر موسم اور ہر حالات میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اب سے پہلے والے سیٹلائٹ میں جو سینسر استعمال کئے جاتے تھے، وہ تاریکی یا موسم کی خرابی جیسے حالات میں کار آمد ثابت نہیں ہوتے تھے۔ اس لحاظ سے یہ نیا سیٹلائٹ ہمارے حفاظتی دستوں کے لئے نہایت کارآمد ثابت ہوگا۔ اسے ریلیف ایجنسیاں بھی قدرتی آفات سے پیدا شدہ حال صورتحال میں اپنے مقصد کے لئے استعمال کریں گی۔ اس سیٹلائٹ کے ذریعہ چھوٹی سے چھوٹی تعمیرات اور نئے بنکرس کو بھی باآسانی نشانے پر لیا جاسکتا ہے۔

ہندوستان میں راڈار ایمیجنگ کے ذریعہ فصلوں کے بارے میں بھی اندازے لگائے جاتے ہیں۔ چونکہ  ہندوستان کی سب سے اہم فصل، خریف، جس کا زمانہ مئی سے ستمبر تک پر محیط ہوتا ہے اور یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جب آسمان پر عام طور پر بادل چھائے رہتے ہیں جس کی وجہ سے راڈار ایمیجنگ کے ذریعہ صحیح تصویر سامنے نہیں آپاتی ہے ، اس لئے فصل کے سلسلے میں صحیح اندازہ لگانے میں دشواری آتی ہے۔ اس لحاظ سے آر آئی اے ایس۔2 بی کافی کارآمد ثابت ہوگا۔

آر آئی اے ایس۔2 بی گزشتہ دس برسوں میں ہندوستان کی جانب سے بنایا گیا تیسرا راڈار ایمیجنگ  سیٹلائٹ ہے۔ واضح ہو کہ آر آئی اے ایس یعنی اس سلسلے کا پہلا سیٹلائٹ اب بھی تکمیل کے مرحلے میں ہے لیکن 2008 کے ممبئی پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد اسرو نے فیصلہ کیا کہ پہلے آر آئی اے ایس پر کام شروع کیا جائے کیونکہ اس وقت تک آر آئی اے ایس۔1 میں نصب کیا جانے والا سینتھیٹک اپرچر راڈار پر کام مکمل نہیں ہوا تھا۔

آر آئی اے ایس۔2 بی میں اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کا ایکس۔ بینڈ سینسر استعمال ہورہا ہے ۔ اس لئے آر آئی اے ایس۔2، 2009 میں لانچ ہوا اور آر آئی اے ایس۔1 سال 2012 میں لانچ کیا گیا۔ یہ دونوں سیٹلائٹ اب اپنی معینہ مدت کار ختم کرچکے ہیں۔ اس لئے اب یہ آر آئی اے ایس۔2 بی ان کی جگہ اپنا کام انجام دے گا۔

اسرو نے منصوبہ بنایا ہے کہ وہ آنے والے مہینوں میں اور بھی کئی راڈار ایمی جنگ سیٹلائٹ لانچ کرے گا۔ 2019 کے اواخر تک ایسی مزید چار پانچ سیٹلائٹس لاؤنچ کرنے کی تیاری ہے۔ حالیہ کامیاب لانچ پروگرام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا پی ایس ایل وی راکٹ کس قدر بااختیار اور کار آمد ہے جسے اسرو نے بنایا تھا۔ پی ایس ایل وی سسٹم کے تحت داغا جانے والاا پی ایس ایل وی۔ سی 46 چودہویں فلائٹ تھی جسے مقامی طور پر ہی کامیابی سے ہمکنار کیا گیا تھا ۔ اب تک جو 48 سیٹلائٹ لانچ کئے گئے ہیں ان میں صرف دوکو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ تمام پی ایس ایل وی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور کامیابی حاصل کی ہے۔

پی ایس ایل وی۔سی 39 کی ناکامی کی وجہ سے آئی آر این ایس ایس۔ 14 سیٹلائٹ کو کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ ہندوستان نے 2008 میں چندریان۔1 کے ذریعہ  چاند پر قدم رکھنے کا مشن شروع کیا اور 2013 میں مریخ کے مشن کے تحت نیا سفر شروع کیا۔

ہندوستان کے چاند پر پہنچنے کے دوسرے مشن چندرایان۔2  کو اسی جولائی میں لانچ کرنے کی تیاری ہے اور یہ یقیناً ایک تاریخ ساز کارنامہ قرار پائے گا۔