24.05.2019جہاں نما

۔ مودی کی زیر قیادت بی جے پی کو عظیم الشان فتح، انتخابات میں مودی کی سحر انگیز شخصیت کا جادو عوام کے سر چڑھ کر بولا، راہل گاندھی امیٹھی میں زبردست ہزیمت سے دوچار

۔ آج  ذرائع ابلاغ میں بی جے پی کی زبردست کامیابی کی خبریں گردش میں ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو کی تازہ ترین خبروں کے مطابق بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کو 339 نششیں حاصل ہوچکی ہیں۔ خود بی جے پی نے اپنے دم پر 303 سیٹیں جیتی ہیں۔ دوسری جانب یوپی اے کو 87 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے اور اتنی ہی سیٹوں پر دیگر امید وار کامیاب ہوئے ہیں۔ ملک کے تمام اخبارات نے بھی لوک سبھا انتخابات میں نریندرمودی کی عظیم الشان فتح کی خبر کو مختلف شہ سرخیوں کے ساتھ صفحۂ اوّل کی زینت بنایا ہے۔ روزنامہ اسٹیٹس مین کے مطابق اپنی کرشماتی اور سحر انگیز شخصیت کا جادو جگاتے ہوئے نریندرمودی نے اپنی بھارتی جنتا پارٹی کو 17 ویں لوک سبھا کے لیے زبردست اور شاندار کامیابی سے ہمکنار کرایا ہے۔ ان انتخابات میں دلچسپ اور قابل ذکر بات یہ رہی کہ کانگریس صدر راہل گاندھی کو امیٹھی کی اس نشست پر شرمناک ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ، جو گاندھی خاندان کا  گڑھ سمجھی جاتی تھی۔ اخبار لکھتا ہے کہ ان عام انتخابات میں بی جے پی کے لیے زبردست فتح کا بگل بجاتے ہوئے نریندرمودی نے لگاتار دوسری مدت کےلئے مسند اقتدار تک پہنچنے کا راستہ ہموار کرلیا ہے۔ اس کامیابی کا سہرا ان کی سیاسی دانشمندی نیز قوم پرستی، سلامتی اور ہندتو کے نعروں پر مبنی انتخابی محاذ آرائی کو جاتا ہے۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ جواہر لعل نہرو اور اندراگاندھی کے بعد وہ ملک کے تیسرے، لیکن پہلے غیر کانگریسی وزیراعظم بن گئے ہیں جو مکمل اکثریت کے ساتھ دوسری مدت کےلئے اقتدار میں واپس آئے ہیں۔ دیکھا جائے تو 2014 کے مقابلے میں بی جے پی نے مزید اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جب نریندر مودی کی ہی زیر قیادت اس کو لوک سبھا میں 282نشستیں حاصل ہوئی تھیں، جبکہ کانگریس کو صرف 44 سیٹں ہی مل سکی تھیں۔ یہاں تک حالیہ لوک سبھا انتخابات میں بھی اس کی کارکردگی میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ہے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ انتخابات کے نتائج مظہر ہیں کہ عوام نے مودی حکومت کو علاقائیت اور ذات پات سے بالاتر ہوکر ووٹ دیا ہے۔ توقع ہے کہ بی جے پی کے نومنتخب اراکان پارلیمنٹ، مودی کو وزیراعظم منتخب کرنے کےلئے 26 مئی کو اجلاس کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے ان تمام نومنتخب ارکان سے سنیچر کے روز دار الحکومت میں موجود رہنے کو کہا ہے، تاکہ وہ اتوار کے روز بی جے پی کے پارلیمانی رہنماؤں کی پہلی میٹنگ میں شریک ہوسکیں۔ توقع ہے کہ مودی کو پارلیمانی پارٹی رہنما منتخب کرنے کے بعد ان انتخابات میں سب سے بڑی واحد پارٹی کے بطور بی جے پی اپنے اتحادیوں کے ساتھ صدرجمہوریہ کے ساتھ حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرے گی۔ اخبار نے تحریر کیا ہے کہ اس عظیم الشان فتح کے بعد نریندرمودی نے  اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں سب لوگوں کو یہاں تک کہ اپنے مخالفین کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے اور ملک کی فلاح و بہبود کےلئے کام کرنا ہے۔

 

۔ مودی کی فتح پر عالمی رہنماؤں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات، باہمی تعلقات کے فروغ کےلئے پاکستان مودی کے ساتھ کام کرنے کا خواہش مند، ٹرمپ نے کہا ہند-امریکہ تعلقات میں خوش آئند فروغ متوقع

۔ 17 ویں لوک سبھا انتخابات میں مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی شاندار فتح پر عالمی رہنماؤں نے مبارکباد دی ہے، جن کو اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ ہندو اس حوالے سے رقمطراز ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خاں نے اپنے  پیغام میں کہا کہ وہ جنوبی ایشیا کی امن و ترقی اور خوشحالی کےلئے نریندرمودی کے ساتھ کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔ خیال رہے کہ اپریل میں غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خاں نے کہا تھا کہ اگر بی جے پی آئندہ انتخابات میں فتحیاب ہوتی ہے تو مسئلہ کشمیر کا کوئی حل ممکن ہوسکے گا۔  اخبار نے پاکستان کے وزیراعظم شفقت محمود کی مبارکباد کے پیغام کا بھی حوالہ دیا ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ عمران خاں کی زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف حکومت کا خیال ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کو غریبی اور ناخواندگی کے محاذوں پر اصل جنگ لڑنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اس فتح کے بعد نریندرمودی دونوں ممالک کے درمیان قیام امن کےلئے ایک مثبت کردار ادا کریں گے۔ امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے ٹوئیٹ پر مبارکباد دیتے ہوئے  اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات کو خوش آئند فروغ حاصل ہوگا اور وہ اس اہم کام میں اپنا تعاون دیتے رہیں گے۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس سے قبل ایوان نمائندگان کی خارجی امور کی کمیٹی نے ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں ہندوستان کے عوام کو مبارکبا ددی گئی تھی۔

اسی اخبار نے دوسری خبروںمیں دیگر عالمی رہنماؤں کے مبارکباد کے پیغامات کو بھی شائع کیا ہے۔ اخبار کے مطابق، نریندرمودی کو ان کی شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے چین کے صدر شی جن پنگ نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ کامیابی بیجنگ-نئی دہلی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جائے گی۔ نریندرمودی کے نام ایک مراسلے میں انھوں نے کہا کہ چین اور ہندوستان، ایک کثیر جہتی دنیا کےلئے اہم قائد کی حیثیت رکھتے ہیں اور طرفین کی مشترکہ کوششوں سے باہمی تعلقات کو مستحکم فروغ حاصل ہوا ہے۔ اخبار کے مطابق سری لنکا کے صدری میتری پالا سری سینا نے اپنے ٹوئیٹ میں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس فتح سے ہندوستان کے عوام کا آپ کی قیادت میں ایک بار پھر اعتماد کا اظہار ہوتا ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان ایسے ہی گرم جوش اور تعمیری تعلقات برقرار رہیں گے۔ وزیر اعظم رانل وکرم سنگھے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں اس امید کا اظہار کیا کہ وہ مختلف شعبوں میں جاری پیش قدمیوں کو مزید فروغ دینے کےلئے وہ نریندرمودی کے ساتھ کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔ اخبار روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے مبارکباد کے پیغام کے حوالے سے لکھتا ہے کہ اپنے پیغام میں انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان خصوصی اور اسٹریٹجک شراکت کی جامع ترقی کے فروغ کی خواہش کا اظہار کیا۔ ٹیلی فون پر مبارکباد  دیتے ہوئے جاپان کے وزیراعظم شنزو آبے نے ہندوستان کے ساتھ خصوصی اہمیت کی حامل اسٹریٹجک اور عالمی شراکت کو مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس تاریخ ساز کامیابی پر آسٹریلیا کے وزیراعظم نے بھی اسی طرح کے جذبات و احساسات کا اظہار کیا ہے۔

۔ برطانوی وزیر اعظم کا استعفیٰ لگ بھگ طے۔ بریگزٹ پلان پر وزارتی بغاوت

۔ ہندوستان میں نریندرمودی کی زیر قیادت بی جے پی کی شاندار فتح سے الگ ،اخبارات نے جن دیگر خبروں کو اہمیت کے ساتھ شائع کیا ہے، ان میں بریگزٹ کے پس منظر میں برطانیہ کی وزیراعظم ٹریزامے کی اقتدار سے دستبرداری کی خبر نمایاں ہے۔ روزنامہ ایشین ایج لکھتا ہے کہ اپنے بریگزٹ پلان پر کابینہ میں بغاوت اور یوروپی انتخابات میں کنزر ویٹو پارٹی کی شرمندگی کے بعد ٹریزامے اپنے عہدے سے دستبردار ہوسکتی ہیں۔ اخبار ‘دی  انڈی پنڈنٹ’ کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ یوروپی یونین سے علیحدگی کے لیے اپنے نظر ثانی شدہ منصوبے پر ٹریزامے کو وزارتی بغاوت کا سامنا ہے، جس کو دبانے میں ناکامی کے بعد وہ آج اپنے استعفیٰ کا اعلان کرسکتی ہیں۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ بریگزٹ کی سب سے بڑی حامی دارالعوام کی رہنما اینڈریا لیڈسم (Andrea leadsom) نے بدھ کے روز استعفیٰ دے دیا تھا، جبکہ دیگر وزراء کا استعفیٰ متوقع ہے۔ دی انڈی پنڈنٹ کے مطابق یہ استعفے ایسے وقت دیئے گئے ہیں جب کنزرویٹو اور لیبر پارٹی ارکان دونوں کو ہی یوروپی یونین انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے لبرل ڈیمو کریٹس اور بریگزٹ پارٹی فائدہ اٹھانے کےلئے تیار ہیں۔ اخبار نے واضح کیا ہے ، لیکن ٹریزامے بطور وزیراعظم امریکی صدر کا استقبال کریں گی، جب وہ 3 جون کو برطانیہ کے دور پر آئیں گے۔ لندن میں سائبر کرائم کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے وزیر خارجہ جریمی ہنٹ (Jeremy Hunt) نے زور دے کر کہا کہ جمعہ کے روز ان کے استعفیٰ کی اطلاعات کے باوجود وہ امریکی صدر کے استقبال کےلئے اپنے عہدے پر موجود ہوں گی۔

۔ پاکستان کے ذریعے بیلسٹک میزائل کی آزمائش، ہندوستان کے اہم شہر رینج میں

۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی ایک خبر کے مطابق پاکستان نے زمین سے زمین پر مارکرنے والے بیلسٹک میزائل شاہین دوئم کا تجربہ کیا ہے۔ یہ میزائل ڈیڑھ ہزار کلومیٹر کی دوری تک مار کرسکتا ہے۔ عالمی خبروں کے لئے مخصوص اپنے صفحے پر شائع اس خبر میں اخبار لکھتا ہے کہ اس تجربے کے بعد ہندوستان کے اہم شہر اس کی رینج میں آگئے ہیں۔ پاکستانی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس آزمائش کا مقصدفوج کی اسٹریٹجک آپریشنل تیاری کو یقینی بنانا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شاہین دوئم میزائل، روایتی اور نیوکلیائی ہتھیاروں کو ایک ہزار 500 کلومیٹر تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ علاقے میں دشمن کو حملہ کرنے سے باز رکھنے کی صلاحیت کی مطلوبہ ضرورت کو پورا کرتا ہے۔

۔ انڈونیشیا میں صدارتی انتخابات کے بعد فسادات، پولیس اور فوج سڑکوں پر تعینات

۔ ‘جکارتہ میں انتخابات کے بعد فسادات، فوج سڑکوں پر’، یہ سرخی ہے روزنامہ اسٹیٹس مین کی۔ خبر کے مطابق گزشتہ ماہ انڈونیشیا میں صدارتی انتخابات میں، جو کو ودودو( Joko Widodo)کو منتخب کیا گیا تھا، مگر ان کے حریف پرابووو سوبیانتوSubianto     Prabowo نےدعویٰ کیا تھا کہ ان انتخابات میں زبردست دھاندلی ہوئی ہے۔انھوں نے یہ  بھی کہا تھا کہ وہ اس کے خلاف جمعہ کے روز آئینی عدالت میں اپیل کریں گے، جیسے جیسے تاریخ قریب آتی گئی ویسے ویسے جو کوودودو کے دوبارہ صدر منتخب کیے جانے کے خلاف احتجاجیوں اور پولیس میں جھڑپیں بڑھتی گئیں۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ دو راتوں کے فسادات میں ہائی اسکول کے ایک طالبعلم سمیت کم از کم چھ افراد کے مارے جانے کی اطلاع ہے، جس کے بعد فوج کو سڑکوں پر اتار دیا گیا ہے۔ انڈونیشیا کے انتخابی کمیشن نے منگل کے روز تصدیق کردی تھی کہ ودودو نے اپنے حریف سوبیانتوکو شکست دے دی ہے۔ 67 سالہ سبکدوش جنرل سوبیانتو نے لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان نتائج کو چیلنج کرنے کےلئے  وہ قانونی ذرائع اپنائیں گے۔ اخبار کے مطابق انتخابی کمیشن کے عہدیداروں اور تجزیہ کاروں نے سوبیانتو کے ان دعووں کو مسترد کردیا ہے۔ پولیس اور فوج کی تعیناتی کے بعد راجدھانی جکارتہ میں کسی حد تک شورش پر قابو پالیا گیا ہے۔ سلامتی دستے انتخابی کمیشن کی عمارت پر خاص نگاہ رکھے ہوئے ہیں، جہاں سب سے زیادہ تشدد ہوا ہے وہ مزید شورش کے ڈر سے صدارتی محل کی بھی نگرانی کررہے ہیں۔ عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ تشدد میں ان مشتعل افراد کی وجہ سے اضافہ ہوا تھا، جو جکارتہ کے باہر سے آئے تھے۔ پولیس کے ترجمان کے مطابق تقریباً 300 مشتبہ افراد کو اس سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔