موضوع: شنگھائی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کی میٹنگ

وزیرخارجہ سشما سوراج نے اس ہفتہ کے اوائل میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کی میٹنگ میں شرکت کیلئے کرغزیستان کے دارالحکومت بشکیک   کا دورہ کیا۔ وزیرخارجہ کی حیثیت سے یہ اُن کا کسی بیرونی ملک کا آخری دورہ تھا۔ پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے اعلان سے ایک روز قبل بشکیک کا اُن کا یہ دورہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ تنظیم بھارت کیلئے کافی اہمیت کی حامل ہے۔ اس سے پہلے بھی ہندوستانی رہنما اس تنظیم کی میٹنگوں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ وزیراعظم نریندرمودی 2015 سے اس تنظیم کی سربراہ میٹنگ میں شرکت کرتے آرہے ہیں۔ اس کی 15 ویں سربراہ میٹنگ 2015 میں روس کے شہر اوفا  میں ہوئی تھی۔

پچھلے سال وزیرخارجہ سشما سوراج ، وزیر دفاع نرملا سیتارمن اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے تنظیم کی چین میں ہونے والی اپنی اپنی میٹنگوں میں شرکت کی تھی۔ ان میٹنگوں نے ڈوکلام تعلطل کے بعد ہندوستانی وزراء اور قومی سلامتی کے مشیر کو اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس کے علاوہ وسطی ایشیا اور روس کے رہنماؤں سے بھی سودمند مذاکرات ہوئے۔ اس سال کی ایس سی او میٹنگ کے موقع پر محترمہ سوراج نے چین کے وزیرخارجہ وینگ ای   سے بھی ملاقات کی اور ووہان میں ہند۔چین غیررسمی سربراہ میٹنگ میں طے شدہ اصولوں پر کاربند رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

قابل ذکر ہے کہ بھارت کو جون دوہزار سترہ میں ایک  مکمل رکن کی حیثیت سے شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل کیا گیا تھا۔ اس تنظیم کا رکن پاکستان بھی ہے۔ اس طرح اس تنظیم میں یوروپ اور ایشیا دونوں کے ممالک شامل ہیں اور وہ ہندوستانی برصغیر میں پھیلتی جارہی ہے۔ تنظیم کے اندر مختلف سطحوں پر ہونے والی میٹنگیں کئی اعتبار سے بھارت کیلئے کافی اہمیت رکھتی ہیں۔

بھارت کی ایس سی او کی رکنیت سے وسطی ایشیاء سے جڑنے کی اس کی پالیسی کی کافی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ اس تنظیم میں افغانستان اور ایران مشاہدین کی حیثیت سے شامل ہیں۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ سوراج نے کہاکہ بھارت اس کسی بھی عمل کی حمایت کرے گا جس سے افغانستان میں امن واستحکام قائم ہوسکے۔ انہوں نے تنظیم کے افغانستان کانٹیکٹ گروپ کی کوششوں کو مکمل حمایت دینے کا اعلان کیا۔ علاقائی ملکوں کی حمایت اور اجتماعی کوششوں کے بغیر افغانستان میں دیرپا امن کا قیام مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن عمل کی علاقائی حمایت کیلئے ایس سی او  ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔

تنظیم میں بھارت کی شمولیت علاقہ میں دہشت گردی کے خلاف لڑائی کیلئے بھی کافی اہم ہے۔ اس سال فروری میں پلوامہ میں دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں مزید سرگرم ہوگیا ہے۔ تنظیم کی یونٹ ریجنل آنٹی ٹرسٹ اسٹرکچر   ، دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور شدت پسندی سے مقابلے کرنے کیلئے قائم کی گئی تھی۔ بھارت کیلئے تنظیم میں برقرار رہنے کے اہم مقاصد میں سے ایک ہے علاقہ میں دہشت گردی مخالف کوششوں کو مضبوط بنانا۔

محترمہ سوراج نے کہاکہ بھارت علاقہ میں کنیکٹویٹی کو فروغ دینے اور امن واستحکام کو یقینی بنانے کا پابند عہد ہے۔ انہوں نے بین علاقائی کنیکٹویٹی کے حصول کیلئے کام کرتے رہنے کے بھارت کے عہد کو ایک بار پھر دہرایا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے بین الاقوامی شمال۔جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور، چابہار بندرگاہ، اشک آباد معاہدہ اور بھارت-میانما۔ تھائی لینڈ سہ فریقی شاہ راہ کی مثالیں پیش کیں۔ تاہم چین کا بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ اپنی موجودہ شکل میں بھارت کی خارجہ پالیسی کیلئے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ ایس سی او  نہ صرف وسطی ایشیاء کے ملکوں بلکہ روس اور چین کے ساتھ بات چیت کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ یوروپ اور ایشیا کے ملے جلے اس علاقہ کو دہشت گردی، کنکٹویٹی کی کمی اور امن واستحکام کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تنظیم علاقہ میں ایک مضبوط گروپ کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی ہے، جہاں متضاد مفادات رکھنے والے ملکوں کو ایک دوسرے کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کا موقع ملتا ہے۔