10.06.2019 جہاں نما

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہندوستان سری لنکا کے شانہ بشانہ:نریندر مودی

۔ آج ملک کے تمام اخبارات نے سری لنکا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہندوستان کی بھر پور حمایت کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے مطابق وزارت عظمیٰ کے منصب پر دوبارہ فائز ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی پڑوسی ممالک کو ترجیح پالیسی کے تحت پہلے بیرون ملک دورے پر ہیں۔ سری لنکا میں انہوں نے اتوار کے روز صدر میتری پالا سری سینا سے ملاقات کی جس کے دوران دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ دہشت گردی ایک ایسا خطرہ ہے جس کے خلاف عالمی  برادری کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔اخبار نے واضح کیا ہے کہ 21 اپریل کو ایسٹر کے موقع پر دہشت گردانہ حملوں کے کے بعد کسی عالمی رہنما کا اس ملک کا پہلا دورہ ہے۔اس سے قبل انہوں نے مالدیپ کا دورہ کیا تھا۔ نریندر مودی نے اپنے ہم منصب رانیل وکرما سنگھے اور حزب اختلاف کے رہنما مہندا راج پکشے سے بھی ملاقات کی۔ اخبار کے مطابق ہندوستان کے اسٹریٹیجک مفادات کے پیش نظر سری لنکا کی اہمیت واضح ہے خصوصاً بحر ہند میں چین کے توسیع پسندانہ عزائم کے پیش نظر -سری لنکا میں اپنی آمد کے فوراً بعد اور سرکاری دورہ شروع کرنے سے قبل نریندر مودی نے کولمبو میں سینٹ انتھونی چرچ کا دورہ کیا جو ان تین چرچوں میں شامل ہے جن پر خود کش حملے کئے گئے تھے۔ واضح ہو کہ ان تینوں چرچوں  اور تین لگژری ہوٹلوں پر بمباری کے نتیجے میں 258 افراد ہلاک ہوئے تھے اور سری لنکا کی اہم سیاحتی صنعت کو زبر دست دھچکا لگا تھا۔چرچ کے دورے کے بعد وزیر اعظم نے ٹوئٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سری لنکا جلد ہی اس سانحے سے پہنچنے والے صدمے سے نکل آئے گا نیز بزدلانہ دہشت گردانہ حملے اس ملک کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتے ہیں اور ہندوستانی عوام ، سری لنکا کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ اخبار آگے رقم طراز ہے کہ سری لنکا کے ذرائع ابلاغ نے ہندوستانی وزیر اعظم کی بے حد پذیرائی کی ہے۔ سنڈے ٹائمز نے اس دورے کو سیاسی لحاظ سے از حد اہم قرار دیا ہے جبکہ سنڈے آبزرور کے خیال میں اس دورے سے آبنائے پاک کے جنوب میں بسنے والے عوام کے تئیں نئی دہلی حکومت کی بڑھتی ہوئی فکر و تشویش کا اظہار ہوتا ہے۔اخبار وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اپنی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔اس ملاقات کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ٹوئٹ میں تحریر کیا کہ صدر سری سینا کے ساتھ ملاقات میں اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی ایک ایسا مشترکہ خطرہ ہے جس سے نبرد آزما ہونے کے لئے اجتماعی اور بھر پور توجہ اور کارروائی کی ضرورت ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ نریندر مودی نے اپنے سری لنکائی ہم منصب رانیل وکرم سنگھے سے بھی بار آور گفتگو کی اور ان کو باہمی ترقیاتی شراکت کے لئے ہندوستان کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ خود وزیر اعظم مودی نے بھی اپنے اس دورے کو انتہائی مفید قرار دیا۔اخبار لکھتا ہے کہ پڑوسی ممالک سری لنکا اور مالدیپ میں چین کے بڑھتےہوئے غلبے سے ہندوستان کو تشویش لاحق ہے۔ یہاں تک کہ بیجنگ حکومت بحر ہند خطے میں اپنے غلبے میں مزید اضافہ کرنا چاہتا ہے جبکہ اس علاقے کو ہندوستان اپنا اسٹریٹیجک بیک یارڈ تصور کرتا ہے۔

سری لنکا میں غیر مقیم ہندوستانیوں سے مودی کا خطاب،جمہوریت ہندوستان کے رگ و پے میں پیوست

۔ وزیر اعظم کے دورۂ سری لنکا کے حوالے سے روزنامہ ایشین ایج لکھتا ہے کہ کولمبو کے انڈیا ہاؤس میں غیر مقیم ہندوستانیوں سے خطاب کے دوران نریندر مودی نے ہندوستان میں حالیہ اختتام پذیر لوک سبھا انتخابات کے حوالے سے کہا کہ جمہوریت،ہندوستان کے رگ و پے میں پیوست ہے اور آزادی کے حصول کے بعد پہلی بار کسی حکومت کو ہندوستانی عوام نے اس قدر زبردست اکثریت سے منتخب کیا ہے۔نریندر مودی نے وہاں ہندوستانیوں سے اپنی ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا۔خود وہاں موجود لوگوں نے بھی مودی مودی کے نعرے لگا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔اخبار ان کے خطاب کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ آج اقوام عالم میں ہندوستان کی پوزیشن مستحکم تر ہوتی جا رہی ہے ۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران بیرون ملک دوروں میں ہر ایک نے ہندوستانی برادری کے تعاون کی ستائش کی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے طیارے کو فضائی حدود سے گزرنے کے لئے ہندوستان کی پاکستان سے درخواست

۔ اخبارات نے جن دیگر خبروں کو اہمیت کے ساتھ شائع کیا ہے ان میں پاکستان سے ہندوستان کی اس درخواست کی خبر بھی شامل ہے۔ جس کے مطابق ہندوستان نے پاکستان سےدرخواست کی ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے طیارے کو اپنی فضائی حدود سے گذرنے دے۔ وزیر اعظم شنگھائی تعاون تنظیم کےسربراہ اجلاس میں شرکت کے لئے کرغزستان کے بشکیک جائیں گے۔ ایک سرکاری عہدیدارکےمطابق کانفرنس 13 اور 14 جون کو ہوگی۔ واضح ہو کہ 26 فروری کو بالا کوٹ میں جیش محمد کے دہشت گرد کیمپ پر ہندوستانی فضائیہ کے حملے کے بعد پاکستان نے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دی تھیں۔اس کے بعد اس نے 11 میں سے  دو راستے کھولے تھے جو جنوبی پاکستان سے ہو کر گذرتے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان نے ہندوستان کی اس وقت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کے طیارے کے لئے خصوصی اجازت دی تھی۔ جس کے بعد انہوں نے 21 مئی کو شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کی تھی۔اخبار نے واضح کیا ہے کہ31مئی کو ہندوستانی فضائیہ نے اعلان کیا تھا کہ بالا کوٹ فضائی حملے کے بعد عائد کی گئی عارضی پابندیوں کو ہٹا لیا گیا ہے۔تا ہم تجارتی پروازوں کو اس کا فائدہ اسی وقت مل سکتا ہے جب پاکستان بھی مکمل طور پر فضائی پابندیاں اٹھا لے۔

ہندوستان سے تعلقات کی بحالی کے لئے پاکستان کو ترک کرنا ہوگا پرانا رویہ:اداریہ انڈین ایکسپریس

۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اداریہ تحریر کیا ہے جس کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم عمران خاں نے اپنے ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی کے نام ایک مراسلے میں ایک بار پھرمذاکرات پر زور دیاہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مسائل کو حل کیاجا سکے۔ اخبار نے اس مراسلے کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی ہے کیونکہ ماضی میں پاکستان کے ساتھ ہندوستان کے تجربات شاہد ہیں کہ پاکستان میں قائم دہشت گرد گروپ اپنی حرکتوں سے اس عمل کو سبوتاز کرتے رہے ہیں چاہے وہ 2006 اور 2008 میں ممبئی کے دہشت گردانہ حملے ہوں یا پھر 2016 میں پٹھان کوٹ حملے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان نے اپنی بے چارگی ظاہر کی ہے یا پھر سرے سے  انکار کیا ہے۔ تا ہم اس نے کئی بار اس کا اظہار کیا ہے کہ نام نہاد غیر سرکاری عناصر پر اس کو کنٹرول حاصل ہے کیونکہ جب بھی اس پر دباؤ پڑا ہے اس نے ان گروپوں کے خلاف کارروائی کی ہے حالانکہ اس کا کوئی مستقل اثر نہیں ہواہے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ اب اگر پاکستان چاہتا ہے کہ وزیر اعظم اس کی مذاکرات کی پیش کش پر کوئی قدم اٹھائیں تو اس کو ان گروپوں کے خلاف حتمی کارروائی کرنا ہوگی۔ نئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے قذافی اسٹیڈیم میں عید کی نماز کی امامت سے حافظ سعید کو روکنا یا مسعود اظہر کو اس کی رہائش گاہ یا اسپتال تک محدود کر دینا کافی نہیں ہے۔ اس پس منظر میں اگر ہندوستان نے یہ اعلان کیا ہے کہ بشکیک میں شنگھائی تعاون اجلاس کے موقع پر مودی اور عمران خاں کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہوگی تو اس میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ اپنے اداریئے میں اخبار آگے رقمطراز ہے کہ پاکستانی حکومت مودی کی دونوں مدت کار کے دوران مذاکرات پر زور دیتی رہی ہے مگر ہندوستان اس سے اس لئے اتفاق نہیں کرتا ہے کہ اسلام آباد نے ابھی تک دہشت گرد گروپوں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی ہے۔ اس لئے دہلی اور اسلام آباد کے لئے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ بیک چینل کا راستہ اپنائیں اس سے اگر کوئی فائدہ نہیں ہوگاتو کوئی نقصان بھی نہیں ہوگا۔

روہنگیاؤں کی واپسی  پرمیانمار تیار نہیں:شیخ حسینہ کا الزام

۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی ایک خبر کے مطابق بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے میانمار پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان کے ملک کی سر زمین پر پناہ گزین لاکھوں روہنگیاؤں کو واپس نہیں بلانا چاہتا ہے۔حالانکہ اس نے ڈھاکہ کے ساتھ اس سلسلے میں معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔اخبار اتوار کے روز شیخ حسینہ کی اخباری کانفرنس کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ کچھ بین الاقوامی امدادی ایجنسیاں پناہ گزین بحران کو جاری رکھنا چاہتی ہیں۔واضح ہو کہ 2017 میں بدھ اکثریت کے اس ملک کے رخائن صوبے میں فوجی کارروائی کے بعد تقریباً ساڑھے سات لاکھ روہنگیاؤں نے سرحد پار کر کے بنگلہ دیش میں پناہ لی تھی۔ان کی واپسی کے لئے دونوں ممالک نے ایک معاہدے پردستخط کئے تھے مگر ابھی تک اس پر عمل نہیں ہو سکا ہے۔

عالمی کپ کرکٹ میں ہندوستان نے گزشتہ چمپئن آسٹریلیا کو دی شکست

۔ اخبار ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق سلامی بلے باز شکھر دھون اور کپتان وراٹ کوہلی کی شاندار بلے بازی کی بدولت ہندوستان نے کل آئی سی سی عالمی کپ کرکٹ میں گزشتہ چمپئن آسٹریلیا کو 36 رن سے شکست دے دی۔ ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے ہندوستانی ٹیم نے مقررہ 50 اوورمیں 5 وکٹ پر 352 رن بنائے۔ شکھر دھون نے 117 جبکہ وراٹ کوہلی نے 82 رن بنائے۔جواب میں آسٹریلیاکی پوری ٹیم 50 اووروں میں 316 رن ہی بنا سکی۔ اس جیت کے ساتھ بھارت کے دو میچوں سے 4 پوائنٹ ہیں جبکہ آسٹریلیا کے تین میچوں کے بعد چار پوائنٹ ہیں۔