12.06.2019 جہاں نما

زرداری کی گرفتاری کے ایک دن بعد، برطانیہ اور پاکستان سے حزب اختلاف کے دو اور رہنما گرفتار

پاکستان میں سابق صدر آصف علی زرداری کے بعد دو مزید گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین اور دوسرے سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز شریف ہیں۔ آج اخبارات اس حوالے سے خبروں کو مختلف شہ سرخیوں کے تحت شائع کیا ہے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے کہ الطاف حسین کو لندن میں اسکاٹ لینڈ یارڈ نے منگل کے روز اور حمزہ شہباز شریف کو منی لانڈرنگ مقدمے میں لاہور سے قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے گرفتار کیا ۔ اخبار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ بظاہر ان دونوں گرفتاریوں کا آصف علی زرداری کی گرفتاری سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا ہے مگر یہ گرفتاریاں جعلی بینک کھاتوں کے مقدمے میں زرداری کی گرفتاری کے ایک دن بعد عمل میں آئی ہیں۔ لندن میں میٹرو پولٹن پولیس کے بیان میں الطاف حسین کا نام لئے بغیر کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کو مختلف تقاریر کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ پاکستان کی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے خلاف سخت تقاریر کے سلسلے میں الطاف حسین کے خلاف لندن میں کئی شکایتیں درج تھیں مگر ان کی گرفتاری اگست 2016 میں کی گئی تقریر کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ لندن پولیس ٹیم نے اس سلسلے میں امسال اپریل میں اسلام آباد کا دورہ کیا تھا تاکہ شواہد اکٹھا کئے جاسکیں اور اس تقریر سے متعلق اہم افراد کے انٹرویو ریکارڈ کئے جاسکیں۔ 22اگست 2016 کو کراچی پریس کلب کے باہر  احتجاجی ایم کیو ایم کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو پوری دنیا کے لئے ایک سرطان سے تعبیر کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان پوری دنیا کے لئے دہشت گردی کا محور ہے۔ اس لئے پاکستان زندہ باد کے بجائے پاکستان مردہ باد کے نعرے لگانے چاہئے۔ واضح ہو کہ بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک ایم کیو ایم کے کارکن اپنے ساتھیوں کی جبری گمشدگی اور ان کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ لہٰذا اس وقت کے وزیرداخلہ نثار علی خاں نے برطانوی حکام سے مدد طلب کرتے ہوئے درخواست کی تھی کہ پاکستان کے عوام کو تشدد پر آمادہ کرنے کے لئے الطاف حسین کے خلاف کارروائی کی جائے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے میں فوج نے اپنا شکنجہ کیا سخت

پاکستان کے ہی تعلق سے ایک دیگر خبر میں روزنامہ ہندو رقمطراز ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی فوج نے شمال مغربی قبائلی علاقے میں احتجاجیوں کے خلاف کارروائی کی تھی جس کے بعد اب وہ یہ جتانے کی کوشش کررہی ہے کہ انصاف اس کے ہی ہاتھ میں ہے۔ اس سلسلے میں فوج کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ پشتونوں کی احتجاجی تحریک کے رہنماؤں کو سزا دینے کے لئے ایک متبادل انسداد دہشت گردی عدالتی نظام کا استعمال کیاجائے گا۔ دوسری جانب مشاہدین کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج پُرامن تھا۔ لیکن اس مشاہدے کے برخلاف وہاں سڑکوں کو بند کردیا گیا ہے اور کرفیو نافذ کردیا ہے۔ اخبار کےمطابق ، خیال تھا کہ قبائلی خطے میں حالات اس سال مختلف ہوسکتے ہیں کیونکہ کافی عرصہ بعد وہاں دہائیوں پرانے سرسری منصفانہ نظام سے ہٹ کر کچھ الگ کئے جانے کی امید تھی اور اسی سلسلے  میں ہی پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کو ملک کے سیاسی اور قانونی اہم دھارے سے جوڑنے کے لئے گزشتہ برس ووٹ ڈالے گئے تھے۔ جس کے بعد پشتون اقلیت کی اکثریت پر مشتمل پانچ ملین افراد کو دوسرے پاکستانیوں کے برابر حقوق دیئے گئے تھے ان میں قومی سول عدالتی نظام تک ان کی رسائی کا حق بھی شامل تھا۔ اخبار نے یاد دہانی کرائی ہے کہ اس سے قبل یہ علاقے برسوں پہلے برطانوی نوآبادکار آقاؤں کے ذریعے تیار سخت سرحدی کوڈ کے تحت تھے۔ اور اس کوڈ کے مطابق وہاں کے مکینوں کو وکیلوں کی خدمات حاصل کرنے یا عام مقدمات کے لئے رسائی کا حق حاصل نہیں تھا۔ نیز یہ کہ کسی فرد کے ذریعے کئے گئے جرم کی پاداش میں اجتماعی سزا عام بات تھی۔ اخبار پشتون شہری حقوق تحریک یعنی پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین کے حوالے سے لکھتا ہے کہ سلامتی افواج کے ذریعے حالیہ مہم نے گزشتہ برس نوآبادیاتی منصفانہ کوڈ کے خاتمے کو باطل کردیا ہے۔ اخبار کے مطابق گزشتہ دو ہفتے کے دوران کسی تبدیلی کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا تھا جب فوج نے پی ٹی ایم کے خلاف مزید شدت سے کارروائی شروع کی۔ واضح ہو کہ پی ٹی ایم گزشتہ برس سے فوج پر ماورائے عدالت ہلاکتوں، اور منحرفین کو جبراً خفیہ جیلوں میں ڈالنے اور متعدد غلط کاریوں کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔

سری لنکا میں فوج کے خلاف تحقیقات : پارلیمنٹ اور سری سینا کے درمیان ٹکراؤ

روزنامہ ایشین ایج کے مطابق، سری لنکا میں پارلیمنٹ اور صدر میتری پالاسری سینا کے درمیان اختلافات اس وقت  سامنے آگئے جب پارلیمانی منتخبہ کمیٹی نے ایسٹر کے موقع پر بمباری کے واقعات کے تعلق سے ہوئی خامیوں کے سلسلے میں فوج سے پوچھ تاچھ شروع کی۔ اس کے جواب میں بظاہر سری سینا نے کابینہ کی معمول کی میٹنگ نہیں بلائی۔ واضح ہو کہ سری سینا نے عوامی سطح پر فوج، پولیس اور خفیہ اداروں کے عہدیداروں سے پوچھ تاچھ کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اس سے قومی سلامتی متاثر ہوگی۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ پارلیمانی کمیٹی نے ان مسلم رہنماؤں سے پوچھ تاچھ کی جن کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے حکام کو بار بار متنبہ کیا تھا کہ لوگوں کو خطرناک بنیاد پرستی پر ابھارا جارہا ہے۔ حزب اختلاف سری لنکا پیپلز فرنٹ کا کہنا ہے کہ صدر اور وزیراعظم کی پارٹی کے زیر کنٹرول کابینہ کے درمیان تعطل کا مطلب ہے کہ حکومت معطل ہوکر رہ گئی ہے۔ دوسری جانب سری لنکا فریڈم پارٹی کے رہنما نے اس تعطل کا یہ مطلب نکالا ہے کہ ملک میں کوئی حکومت نہیں ہے۔

پامپیو کا آئندہ دورۂ ہند: تعلقات کو مزید فروغ دینے پر توجہ ہوگی مرکوز

ہند۔ امریکہ تعلقات کے حوالے سے روزنامہ اسٹیٹس مین رقم طراز ہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پامپیو 24 جون کو نئی دہلی آنے والے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا یہ دورہ ہندوستان کے ساتھ  امریکہ کے بے مثال تعلقات کے فروغ پر مرکوز ہوگا اور جو ایک آزادانہ ہند۔ بحرالکاہل خطے کے مشترکہ مقصد کو فروغ دینے کی صدر ڈونل ٹرمپ کی حکمت عملی کے تحت کیاجارہا ہے۔ اخبار نامہ نگاروں کے ساتھ وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹے گس   کی گفتگو کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ ان کا یہ دورہ، 28 اور 29 جون کو اوساکا جاپان میں گروپ 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ اوروزیراعظم نریندر مودی کے درمیان میٹنگ سے قبل ہورہا ہے۔ نئی دہلی کے بعد وہ سری لنکا ، جاپان اور آخر میں 30 جون کو جنوبی کوریا جائیں گے۔ واضح ہو کہ چین، ہند۔ بحرالکاہل خطے میں اپنے فوجی اثر وغلبے میں اضافے کی لگاتار کوشش کررہا ہے۔ مزید برآں وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے دورہٌ مالدیپ میں ہندوستان کے اس عزم پر زور دیا تھا کہ ان کا ملک ہند۔بحرالکاہل خطے کو ایک ایسا علاقہ بنانا چاہتا ہے جو مشترکہ معاشی نمو کا گہوارہ ہو۔ انہوں نے اس خطے کو ایک شہ رگ اور تجارت وخوشحالی کی راہ سے بھی تعبیر کیا تھا۔

ہانگ کانگ میں تجارتی اداروں نے کاروبار بند کرنے کا کیا عزم

چین کو حوالگی کے خلاف سرکاری منصوبوں کے خلاف ہانگ کانگ میں درجنوں تجارتی اداروں نے اپنا کاروبار  بند کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ روزنامہ اسٹیٹس مین کے مطابق قانون میں ترمیم کے خلاف وہاں ایک ہفتے سے احتجاج جاری تھا۔ خبر کے مطابق، اس زبردست تجارتی شہر میں اتوار کو ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں بیجنگ کی حمایت سے اس منصوبے کے خاتمے کے لئے زور دیا گیا۔ اس ریلی کے منتظمین کا کہنا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے لیکن اس زبردست احتجاج کے باوجود چیف ایگزیکٹیو کیری لیم   نے اس بل کی واپسی یا اس کو مؤخر کرنے کے مطالبے کو ٹھکرادیا۔ اخبار اس بل کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ بدھ کے روز بیجنگ حامیوں کے غلبے والی پارلیمنٹ میں اس بل پر دوسری اور تیسری ریڈنگ ہوگی جس کے بعد اس کی منظوری یقینی ہوجائے گی۔ احتجاجیوں نے اس دن پارلیمنٹ کے باہر ایک اور ریلی کا منصوبہ تیار کیا ہے اور انہوں نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس میں شامل ہوں یا ہڑتال پر چلے جائیں۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ اس مجوزہ قانون کے تحت کسی بھی علاقے میں حوالگی کی اجازت ہوگی چاہے اس سے حوالگی کا معاہدہ ہو یا نہ ہو۔ ان علاقوں میں چین بھی شامل ہے۔ اخبار ایک اور خبر میں رقمطراز ہے کہ امریکہ نے ان مجوزہ ترامیم پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن کے تحت مشتبہ افراد کی چین کو حوالگی کی اجازت مل جائے گی۔ امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اس سے خطے کی خود مختاری متاثر ہوگی اور طویل مدت سے جاری حقوق انسانی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

ہندوستان تین دہائیوں کی شدید ترین گرمی کا شکار

ہندوستان خصوصاً شمالی ہند میں جاری شدید ترین گرمی کے حوالے سے روزنامہ ہندوستان ٹائمز لکھتا ہے کہ تین دہائی کی اس شدید گرم لہر سے ملک کے تقریباً دو تہائی علاقے متاثر ہیں جس کی وجہ سے چار ٹرین مسافر ہلاک ہوچکے ہیں، پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور ہزاروں سیاحوں نے پہاڑی علاقوں کا رخ کیا ہوا ہے۔ یہ علاقے پہلے ہی آبادی کے بوجھ سے دبے ہوئے ہیں۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ لُو اور گرمی کی اس شدید ترین لہر کی وجہ سے ہندوستان کے شمالی، وسطی اور جزیرہ نما حصوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری تک پہونچ گیا ہے۔ ان میں اترپردیش کا جھانسی، راجستھان کے چورو اور بیکانیر، ہریانہ کے حسار اور بھوانی، پنجاب کا پٹیالہ اور مدھیہ پردیش کے گوالیار اور بھوپال کے نام قابل ذکر ہیں جبکہ دارالحکومت دہلی میں پیر کے روز درجہ حرارت 48 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔اخبار کے مطابق اگر اگلے دو روز میں درجہ حرارت میں کمی نہیں ہوئی تو سال 2019 تاریخ کا گرم ترین سال ہوگا۔