موضوع : ملک کی بکھرتی معیشت کے درمیان بدعنوانی کے خلاف پاکستان کی بڑی مہم

فرضی کھاتے رکھنے کے الزام میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو نے سابق صدر آصف علی زرداری کو گرفتار کرلیا ہے۔ جناب زرداری نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے والد ہیں بلکہ وہ قومی اسمبلی کے رکن بھی ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جناب آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور  کی مستقل ضمانت کی عرضی خارج ہونے کے بعد قومی احتساب بیورو نے آصف زرداری کو گرفتار کیا تھا۔

یہ سارا معاملہ 2015 میں اس وقت شروع ہوا جب پاکستان کی وفاقی تفتیشی ایجنسی کو یہ خبر ملی کہ آصف زرداری سمٹ بینک   ، سندھ بینک اور یو بی ایل میں 29 جعلی کھاتوں کے ذریعے فرضی کاروبار کررہے ہیں۔ اس خبر کے موصول ہوتے ہی ایجنسی نے تحقیقات شروع کردی۔ تحقیقات شروع ہوتےہی پتہ چلا کہ جناب زرداری اور ان کی ہمشیرہ سمیت سات لوگ ان جعلی کھاتوں کا استعمال کررہے ہیں۔ الزام ہے کہ رشوت کے طور پر جو رقوم ملتی تھیں وہ انہیں کھاتوں میں جمع کی جاتی تھیں۔ بعد میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی تفتیشی ایجنسی کی تحقیقات میں تاخیر کا از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کیلئے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کی۔ اس ٹیم نے تحقیقات کے دوران مزید 33 جعلی کھاتوں کا پتہ لگایا۔ تحقیقات کے بعد معاملہ سے جڑے تقریباً 170 لوگوں پر ملک چھوڑ کر جانے کی پابندی عائد کردی گئی۔

قومی احتساب  بیورو اور وفاقی تفتیشی ایجنسی کا الزام ہے کہ ایک فرضی کمپنی سے تعلق رکھنے والے جعلی کھاتے میں چار اعشاریہ چار ارب پاکستانی روپئے جمع کئے گئے تھے جس میں سے تیس ملین روپئے دو موقعوں پر زرداری گروپ کو ادا کئے گئے۔ اس کے بعد وفاقی تفتیشی ایجنسی نے کراچی کی ایک بینکنگ عدالت میں مقدمہ دائر کردیا جس نے سابق صدر کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کردیا۔ کراچی کی عدالت کے اس حکم کے خلاف زرداری اگست 2018 میں اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے جہاں سے انہیں ضمانت مل گئی۔ جب تفتیش کاروں نے یہ الزام لگایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی معاملہ پر اثرڈالنے کی کوشش کررہی ہے تو بعد میں معاملہ کو احتساب بیورو کے کراچی دفتر سے اسلام آباد کی احتساب عدالت منتقل کردیا گیا۔ تحقیقات کے دوران معاملہ کے دو ملزمان زرداری اور ان کی بہن کے خلاف سرکاری گواہ بن گئے۔

اس معاملہ میں زرداری کے بہت سے قریبی دوست پہلے ہی گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ آصف زرداری اور ان کی بہن تالپور ضمانت پر تھے جسے پیر کے روز خارج کردیا گیا۔ آصف زرداری بدعنوانی کے کم از کم 7 دوسرے معاملوں میں بھی ضمانت پر ہیں۔

پاکستان میں اس وقت سیاسی اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔ روز مرہ کے استعمال کی چیزوں کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ بدعنوانی  کا بول بالا ہے اور بے روزگاری حد سے زیادہ۔ ایسی صورتحال میں عمران خان کی حکومت عوام کی توجہ اصل مسائل سے مبذول کرانا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زرداری کی گرفتاری کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بدعنوان لوگوں کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا ہے۔ قومی بجٹ پیش ہونے کے بعد قوم کے نام اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ ‘‘ریاست مدینہ’’ کے خطوط پر بدعنوانی سے پاک ملک قائم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً 25برسوں سے ملک میں اسکولوں اور اسپتالوں کے قیام پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا نیا پاکستان ایک جدید اسلامی ملک ہوگا۔ تاہم وہ ایسے پاکستان کے قیام پر خاموش رہے جو دہشت گردی سے پاک ہو۔

جناب عمران خان کے الفاظ دلیرانہ ضرور ہیں لیکن انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس وقت پاکستانی معیشت بکھرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے انہیں بیل آؤٹ   پیکیج ضرور مل گیا ہے لیکن اس کی شرائط بہت سخت ہیں۔ چھ ارب ڈالرکے پیکیج کی جو منظوری ملی ہے وہ پاکستان کو یکمشت نہیں ملے گی۔ پاکستان کے موجودہ بجٹ میں دو اعشاریہ چار فیصد شرح ترقی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ افراط زر گیارہ سے 13فیصد رہنے کی امید ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کے مطابق ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کردیاگیا ہے ساتھ ہی ساتھ توانائی کے قیمتیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔ بجٹ میں تقریباً 7 کھرب پاکستانی روپئے کے اخراجات کی امید کی گئی جبکہ آمدنی صرف تین اعشاریہ پانچ کھرب روپئے رہنے کی امید ہے۔ اب خرچ کرنے کیلئے باقی پیسے کہاں سے آئیں گے اس بارے میں وزیر خزانہ حماد اظہر کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ بجٹ میں روزگار  کی پیداوار کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا گیا ہے۔