13.06.2019 جہاں نما

اننت ناگ میں دہشت گردانہ حملہ، پانچ سی آر پی ایف جوان شہید

آج ملک کے تمام اخبارات نے جموں وکشمیر میں سی آر پی ایف کے جوانوں پر دہشت گردانہ حملے کی خبر کو مختلف شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے اس حوالے سے خبردی ہے کہ یہ حملہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ شہر میں بدھ کے روز ہوا۔ موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں کے ذریعے دن دہاڑے کئے گئے اس حملے میں پانچ جوان شہید ہوئے ہیں۔  اس سے قبل امسال فروری میں خودکش بمبار کے ذریعے پلوامہ میں 40 سپاہی شہید ہوئے تھے جس کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ٹکراؤ کی نوبت آتے آتے رہ گئی تھی۔ اخبار لکھتا ہے کہ خانوال پہلگام سڑک پر ہوئے اس حملے میں اننت ناگ کا ایس ایچ او، تین سی آر پی ایف اہلکار اور ایک خاتون بھی زخمی ہوگئی، یہ وہی سڑک ہے جو امرناتھ یاترا کے لئے زیر استعمال رہتی ہے۔ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل سوار ملٹنٹوں نے یہ حملہ اس وقت کیا جب خانوال پہلگام سڑک پر سی آر پی ایف اہلکار اپنی معمول کی ڈیوٹی پر تھے۔ حملے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او اور کوئیک ری ایکشن ٹیم جائے ورادات پر پہونچی تو ملٹنٹوں نے ان پر گرینیڈ پھیکے اور فائرنگ کی۔ بعد میں ملٹنٹوں کے ساتھ جھڑپ میں یہ افراد زخمی ہوگئے اور ایک ملیٹنٹ ہلاک ہوگیا۔ مہلوک ملیٹنٹ کے قبضے سے برآمد مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ غیرملکی تھا۔ حملے کے فوراً بعد پاکستان میں قائم اور مشتاق زگر  کی زیرقیادت ملیٹنٹ تنظیم العمر مجاہدین نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

سری لنکا میں ایسٹر حملوں کے سازشی کا ساتھی کوئمبٹور سے گرفتار

سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر چرچوں اور ہوٹلوں پر کئے گئے دہشت گردانہ حملو ںکے اہم سازشی ظہران ہاشم کے فیس بک دوست کو ئمبٹور سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ روزنامہ ہندو نے اس حوالے سے خبردی ہے کہ قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے محمد اظہرالدین کو گرفتار کیا ہے جبکہ پانچ دیگر افراد کو حراست میں لیا ہے۔ این آئی اے کا الزام ہے کہ یہ لوگ سوشل میڈیا پر ممنوعہ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے نظریات کی تشہیر میں ملوث ہیں جس کا مقصد جنوبی ہند خصوصاً کیرالہ اور تمل ناڈو میں دہشت گردانہ حملوں کے لئے نوجوانوں کو ترغیب دینا ہے۔ این آئی اے نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اظہر الدین انتہاپسند نظریات سے بری طرح متاثر ہے اور اس نے فیس بک پر خلافت جی ایف ایکس نام سے ایک پیج بھی شروع کررکھا ہے۔ اس کی آن لائن سرگرمیوں پر کئی ماہ سے نگرانی رکھی جارہی تھی۔ اور بدھ کے روز اس کی رہائش گاہ اور دفاتر کی تلاشی بھی لی گئی تھی۔ تلاشی کے دوران ایک الیکٹرانک بیٹن   300 ایرگن پیلیٹس اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا اور ایس ڈی پی آئی کے پمفلٹس سمیت بڑی تعداد میں دستاویزات برآمد کی گئی ہیں۔

بشکیک کانفرنس میں شرکت کے لئے وزیراعظم کے خصوصی طیارے نے اختیار کیا متبادل راستہ

روزنامہ ایشین ایج کی ایک خبر کے مطابق پاکستان کے تئیں بے رخی اور بے اعتنائی برتتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کے خصوصی طیارے نے بشکیک جانے کیلئے پاکستانی فضائی حدود کا استعمال نہیں کیا اور یہ طیارہ عمان اور ایران کی فضائی حدود سے ہوکر گزرا۔ واضح ہو کہ نریندر مودی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لئے کرغزستان کی دارالحکومت بشکیک گئے ہیں۔ یہ اجلاس 13 جون سے شروع ہوکر 14 جون تک جاری رہے گا۔ اخبار کے مطابق حکومت ہند نے اس متبادل راستے کا اعلان بدھ کے روز کیاتھا۔ اس سے قبل حکومت ہند نے پاکستان حکومت سے اس خصوصی طیارے کے لئے اُس کی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت مانگی تھی اور ایسی خبریں موصول ہوئی تھیں کہ اسلام آباد نے اس سے اصولی طور پر اتفاق کرلیا ہے لیکن بدھ کے روز نئی دہلی نے تسلیم کیا تھا کہ وہ دو راستوں پر غور کررہی ہے۔ پہلا براستہ پاکستانی فضائی حدود اور دوسرا براستہ عمان اور ایران۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق بعد میں آخر الذکر روٹ کے لئے فیصلہ کیا گیا۔ اخبار اس فیصلے کے پس پشت وجوہ بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہے کہ 26فروری کو ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان کے کے پی کے (KPK) صوبے کے بالاکوٹ میں واقع جیش محمد کے دہشت گردانہ کیمپ پر سرجیکل اسٹرائک کی تھی جس کے بعد پاکستان نے ہندوستان کی تجارتی  فلائٹس کے لئے اپنی فضائی حدود بند کردی تھیں۔ جس کی وجہ سے ان کو مغرب کی طرف جانے کے لئے متبادل راستہ اختیار کرنا پڑرہا تھا۔ اخبار لکھتا ہے کہ اگر وزیراعظم کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود کا استعمال کرتا تو ہندوستانی عوام کو غلط پیغام جاتا۔ دوئم اس کی وجہ سلامتی نکات بھی ہوسکتے ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم سے وابستہ ہندوستان کی توقعات

روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے حوالے سے اپنا اداریہ تحریر کیا ہے جس کے مطابق اس ہمہ جہت تنظیم سے علاقائی تجارت کو فروغ حاصل ہوسکتا ہے۔ اداریے کے مطابق اس تنظیم کا شمار ان اسٹریٹیجک اداروں میں ہوتا ہے جس کی ہندوستان نے رکنیت حاصل کی ہوئی ہے۔ اس اجلاس کے موقع پر نریندر مودی کے ساتھ پاکستان کے وزیراعظم عمران خاں کی ملاقات ہوسکتی ہے۔ اخبار اپنے اداریے میں آگے رقمطراز ہے کہ انسداد دہشت گردی ادارے کے بطور اس نے سست مگر مستحکم پیش قدمی کا اظہار کیا ہے اور یہ علاقے میں تجارت کا محور ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن وسط ایشیا اور یوروشیا کےساتھ تجارتی رابطوں میں جغرافیائی روکاوٹیں حائل ہیں۔ وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ ہندوستان کی سرحد مشترک نہیں ہے کیونکہ درمیان میں پاکستان اور چین حائل ہیں۔ لہٰذا ایران اور افغانستان کے اندر سے بحری وبرّی راستہ اختیار کرنے کی پیچیدگیوں کی وجہ سے اس کی معاشی ترقی میں دشواریاں حائل ہیں۔دوسری جانب افغانستان سے امریکی افواج کے اخراج کی صورت میں ہندوستان کی دشواریوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو چین کی متکبرانہ حیثیت واضح ہے لہٰذا ہندوستان ، بشکیک اجلاس میں پاکستان پر براہ راست تنقید کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایس سی او کے کئی ارکان دہشت گردی کے تعلق سے پاکستان کے خلاف بیان بازی میں ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں۔ اخبار چین اور ایس سی او کے تعلق سے آگے رقمطراز ہے کہ چونکہ یہ تنظیم کٹھ پتلی نہیں ہے اس لئے ایس سی او ڈیولپمنٹ بینک اور آزادانہ تجارت معاہدے کے لئے چین کی امیدوں پر دوسرے ارکان پانی پھیر چکے ہیں۔ یہ اور اسی طرح کے دوسرے اشاروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنی پوزیشن سے فائدہ اٹھانے کے لئے ہندوستان کو بھی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

ہانگ کانگ میں احتجاجیوں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں

ہانگ کانگ میں احتجاجیوں اور پولیس کے درمیان اس وقت جھڑپیں ہوئی ہیں جب اول الذکر نے پارلیمنٹ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔ روزنامہ اسٹیٹس مین اس حوالے سے رقمطراز ہے کہ اس کے ساتھ ہی چین کو حوالگی کے لئے حکومت کے منصوبے کے خلاف ہزاروں افراد نے شہر کی اہم سڑکوں کو بلاک کردیا ۔ پولیس نے سیاہ کپڑوں میں ملبوس ان احتجاجیوں کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس ، ربر پلیٹس اور لاٹھیوں کا استعمال کیا۔ ان افراد میں نوجوان اور طلباء بھی شامل ہیں جو بیجنگ کے حمایت یافتہ اس مجوزہ قانون کی مخالفت کررہے تھے۔ اخبار احتجاج کے منتظمین کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اتوا رکے روز ایک ملین سے زیادہ افراد اس مجوزہ قانون کی مخالفت میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ جس کے تحت ہانگ کانگ کو چین سمیت دنیا کے دیگر ملکوں کو مشتبہ افراد کی حوالگی کے اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔

روزنامہ انڈین ایکسپریس نے اس احتجاج کے حوالے سے چین کا بیان شائع کیا ہے جس کے مطابق ہانگ کانگ کا معاملہ بیجنگ کا اندرونی معاملہ ہے اور کسی دوسرے ملک تنظیم یا فرد کو اس میں دخل اندازی کا اختیار نہیں ہے۔ معمول کی پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہانگ کانگ کے مکینوں کی آزادی اور حقوق کو قانون کا پورا تحفظ حاصل ہے۔ اخبار کے مطابق ترجمان امریکہ کی اس تشویش کے بارے میں ایک سوال کا جواب دے رہے تھے جو اس نے حوالگی سے متعلق ترامیم پر ظاہر کی تھی۔

ایران۔ امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے لئے شینزو آبے تہران میں

جاپان کے وزیراعظم شیزوآبے  اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کیلئےاس وقت تہران میں ہیں۔ کل انہوں نے سعد آباد کے صدارتی محل میں صدر حسن روحانی سے ملاقات کی اور اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا۔ امید ہے کہ آج وہ روحانی پیشوا علی خامنہ ای سے ملاقات کریں گے۔ جاپانی وزیراعظم کے دورے سے قبل کابینہ کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے صدر روحانی نے کہا کہ ایران کے تمام رہنما اور عوام اس خیال سے اتفاق رکھتے ہیں کہ اصل مجرم امریکہ ہے اور اس بارے میں کسی کو بھی  ذرّہ برابر شک نہیں ہے۔ پچھلے سال مئی میں امریکہ نے 2015 میں ہوئے نیوکلیائی معاہدے سے خود کو علیحدہ کرلیا تھا جس کے بعد سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔ خود کو معاہدے سے الگ کرنے کے بعد امریکہ نے ایران پر پابندیاں بھی سخت کردیں جس کے سبب جاپان نے بھی ایران سے تیل لینا بند کردیا۔ قابل ذکر ہے کہ کسی بھی جاپانی وزیراعظم کا گزشتہ 41 برسوں میں ایران کا یہ پہلا دورہ ہے۔

چندریان دوئم 15جولائی کو ہوگا روانہ

ہندوستان کی خلائی پیش قدمیوں کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی ایک خبر کی سرخی ہے۔ ‘‘چندریان دوئم کی 15جولائی کو لانچنگ’’۔ خبر کے مطابق ہندوستان کا دوسرا مشن 6 یا7 ستمبر کو چاند پر پہونچ جائے گا اس پروجیکٹ پر 978 کروڑ روپئے صرف ہوں گے۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس سے گیارہ سال قبل ہندوستان نے چاند پر ایک جامع ایکسپلوریٹری مشن بھیجا تھا جس کے بعد وہ چاند کے مشن کے سلسلے میں امریکہ ، روس اور چین کے بعد چوتھا ملک بن گیا تھا۔ 09-2008 میں اس پروجیکٹ پر تقریباً 400 کروڑ روپئے کی لاگت آئی تھی ۔ اس دوسرے مشن کی قیادت دو خواتین کریں گی۔