موضوع : ماحول کو سازگار بنانے کی ذمہ داری پاکستان پر

چین کی جانب سے  ٹیکنیکل بیناد پر جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دیئے جانے میں روکاوٹ ڈالنے کا سلسلہ ختم ہوگیا اور بالآخر مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دیا جاچکاہے اسے ایک اچھی پیش وقت کہا جائے گا۔ لیکن پاکستان کی جانب سے خود اس طرح کا کوئی اشارہ ابھی تک نہیں ملا کہ وہ دہشت گردی سے پاک ماحول میں بات چیت کرنے کا خواہاں ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کیئ بار یہ تو کہہ چکے ہی ںکہ وزیراعظم مودی دوبارہ بھاری اکثریت سے انتخابات جیت گئے ہیں لہٰذا اب دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت شروع ہونی چاہئے۔ لیکن گھوم پھر کر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ بات چیت آخر کس بنیاد پر شروع ہوگی؟ پاکستان کی جانب سے اس طرح کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی کہ سرحد پار سے فروغ دی جانے والی دہشت گردی  پر کوئی روک لگےگی۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی چوٹی کانفرنس کے حوالے سے یہ قیاس آرائیاں ہورہی تھیں کہ اس موقع پر ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے اعظم جب بشکیک میں شرکت کے لئے جائیں گے تو آپس میں ان کی ملاقات بھی ہوسکتی ہے لیکن یہ بات شروع ہی میں واضح کردی گئی تھی کہ اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ہندوستان کا واضح موقف یہ ہے کہ اب یہ ممکن نہیں کہ دہشت گردی کے ماحول میں پاکستان سے کسی بھی سطح پر بات چیت کی جائے۔ دراصل یہ فیصلہ کافی غوروخوض کے بعد کیا گیا ہے اور جب ہندوستان نے ہر زاویے سے سوچ بچار کرنے کے بعد یہ محسوس کرلیا کہ پاکستان دہشت گردی کے تعلق سے اپنی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو بالآخر اس نے بھی یہی موقف اختیار کیا کہ دہشت گردی اور بات چیت کا ایک ساتھ آگے بڑھنا مشکل ہے۔ سو جب وزیراعظم مودی کرغستان کی راجدھانی بشکیک میں ایس سی او کی کانفرنس میں شرکت کے لئے گئے تو کانفرنس سے پہلے ہی چینی صدر شی (XI)سے ان کی ملاقات ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے باہمی معاملات پر بھی بات چیت کی۔ انہوں نے صدر شی سے واضح طور پر یہ کہہ دیا کہ ماحول کو سازگار بنانے کی ذمہ داری پاکستان ہی پر عائد ہوتی ہے اور ابھی تک پاکستان کی جانب سے کوئی ایسا واضح اشارہ نہیں ملا کہ وہ بات چیت کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔ دونوں لیڈروں کے مابین حالانکہ پاکستان سے متعلق مختصر سی بات چیت ہوئی لیکن خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے یہ صاف لفظوں میں کہا کہ انہوں نے اپنی طرف سے بھرپور اور لگاتار یہ کووشش کی کہ پاکستان سے تمام معا ملات پر گفتگو کی جائے اور ماحول کو پرامن اور سازگار بنانے کی کوشش کی جائے۔ لیکن صرف مایوسی ہاتھ لگی۔ اس ضمن میں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ وزیراعظم مودی جب 2014 میں پہلی بار وزیراعظم بنے تھے تو اسی سال انہوں نےدسمبر کے مہینہ میں بغیر کسی پروگرام کے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کرکے انہیں برتھ ڈے کی مبارکباد دی تھی۔ ظاہر ہے جذبہ خیرسگالی، کی اس سے بہتر مثال اور کچھ نہیں ہوسکتی تھی۔ دونوں ملکوں میں یہ امید کی جارہی تھی کہ آنے والے وقتوں میں تعلقات بہتر ہونگے اور اعتماد کی فضا بحال ہوگی۔ لیکن اس واقعہ کو بمشکل ایک ہفتہ ہوا تھا کہ پٹھان کوٹ ایئربیس پر جیش محمد کا حملہ ہوا اور پورا ماحول  خراب ہوگیا۔ اس کے بعد کئی حملے اور ہوئے۔ اڑی میں حملہ ہوا اور حد تو تب ہوگئی جب پلوامہ میں جیش محمد کے دہشت گردوں نے چالیس سے زادہ سی آر پی ایف کے جوانوں کو شہید کردیا ۔ عمران خان، جو بہتر تعلقات کی باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن اس حملے کے بعد انہوں نے ایسے رویوں کا مظاہرہ کیا جو کسی بھی اعتبار سے زیب نہیں دیتا تھا۔ وہ بار بار معتبر ثبوت مہیا کرانے کی بات کرنے لگے۔ گویا پلوامہ کا معاملہ کوئی معمولی واقعہ تھا۔ عمران خان کی اس بے حسی اور بے عملی نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی اور ہندوستان کو یہ سوچنا پڑا کہ امن قائم کرنے سے متعلق یکطرفہ کی جانے والی کوشش اب تک رائیگاں ثابت ہوئی ہیں لہٰذا پاکستان کو یہ واضح پیغام دینا ضروری ہے کہ حالات کو اگر واقعی بہتر بنانا ہے تو فیصلہ اب پاکستان کو ہی کرنا ہے کہ وہ اپنی روایتی سوچ میں تبدیلی کے لئے تیار ہے یا نہیں؟