14.06.2019 جہاں نما

بشکیک میں مودی-شی ملاقات: سرحدی امور پر مذاکرات میں تیزی لانے پر اتفاق

آج ملک کی اخبارات نے جن خبروں کو ترجیح کے ساتھ صفحۂ اول کی زینت بنایا ہے، ان میں کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نریندرمودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات کی خبرکو اہمیت حاصل ہے۔ روزنامہ ہندو اس خبر کے حوالے سے رقم طراز ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جمعرات کے روز اس ملاقات میں ہند- چین سرحدی معاملے پر مذاکرات میں تیزی لانے سے اتفاق کیا تاکہ اس مسئلے کا موزوں اور قابل قبول حل نکالا جاسکے۔ خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے کے مطابق ان رہنماؤں نے اپنے متعلقہ خصوصی نمائندوں سے  اس بات چیت کو آگے بڑھانے اور ان مذاکرات میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ اپریل 2018 میں ووہان سربراہ ملاقات کے بعد سے باہمی تعلقات کی نوعیت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ سرحدی معاملے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی کیوں کہ اس سال کے اواخر میں چین کے صدر کا دورۂ ہندوستان متوقع ہے۔ اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے خصوصی نمائندے بھی موجود تھے۔ اخبار وجے گوکھلے کے حوالے سے رقم طراز ہے کہ صدر شی نے بیحد گرم جوشی کے ساتھ اپنے دورۂ ہند کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ اسٹریٹجک اور دور رس نتائج کے حامل تمام امور پر تبادلۂ خیال کے منتظر ہیں۔  اس ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے علاقائی تعاون اور رابطے کی ضرورت پر بھی زور دیا اورہند-چین تعلقات کی توسیع کے لیے بنگلہ دیش، چین، ہند، میانمار معاشی راہداری کا خصوصی ذکر کیا۔ کیوں کہ یہ تعاون اور رابطے ووہان سربراہ کانفرنس کے بعد ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ اخبار کے مطابق شی جنگ پنگ نے زور دے کر کہا کہ طرفین کو اس بنیادی رائے پر قائم رہنا چاہیے کہ باہمی ترقی کے لیے چین اور ہند کا تعاون ضروری ہے اور وہ ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے اس موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ملاقات کی۔ روسی صدر نے نریندرمودی کو ستمبر میں ہونے والے ولادی ووستک فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ خارجہ سکریٹری کے مطابق اس ملاقات میں ایس-400 میزائل نظام پر تبادلۂ خیال نہیں ہوا، حالانکہ انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ دفاعی معاملات زیر غور آئے ہیں۔

پاکستان کو دہشت گردی سے پاک ماحول کرنا ہوگا تشکیل: مودی

روزنامہ انڈین ایکسپریس  اسی ملاقات کے حوالے سے رقم طراز ہے کہ جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دینے کے سلسلے میں بیجنگ نے ڈیڑھ ماہ قبل تکنیکی رکاوٹیں ہٹالی تھیں جس کے بعد اس ملاقات میں وزیراعظم نریندرمودی نے چین کے صدر شی جن پنگ کو مطلع کیا کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ بحالیٔ امن کے لیے کوششیں کی تھیں مگر ان کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔ اخبار کے مطابق نریندرمودی نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی سے پاک ماحول تشکیل دینے کی ضرورت  ہے۔ لیکن اس مرحلے پر نئی دہلی کو پاکستان کی طرف سے کوئی کوشش نظر نہیں آرہی ہے اس لیے ہندوستان کو توقع ہے کہ پاکستان، نئی دہلی حکومت کے ذریعے تجویز کردہ امور پر ٹھوس اقدامات کرے گا۔ اخبار نے اس ملاقات کے حوالے سے مزید تحریرکیا ہے کہ نریندرمودی نے شی جن پنگ پر واضح کیا کہ بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں مسعود اظہر کی شمولیت اس بات کی شاہد ہے کہ مختلف سطحوں پر دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک مواصلات میں بہتری آئی ہے۔ اخبار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ بات بیحد اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بھی اس اجلاس میں شریک تھے اور دونوں رہنما عشائیہ کی میز پر شی جن پنگ اور روسی صدر پوتن کے ساتھ موجود تھے، لیکن ہند اور پاکستان کے ان رہنماؤں کے درمیان کسی ملاقات کی سرکاری ذرائع نے تصدیق نہیں کی ہے۔ اس میٹنگ کے بعد خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پاکستان کے بارے میں وزیر اعظم نے شی کو پاکستان کے تعلق ہندوستان کے مستحکم موقف سے آگاہ کیا۔ اس ملاقات میں باہمی قابل قبول طریقۂ کار کے ذریعے تمام امور طے کرنے پر تبادلۂ خیال ہوا  نیز یہ کہ ہندوستان مذاکرات کے ذریعے تمام امور کے حل کا منتظر ہے۔اخبار چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے آگے رقم طراز ہے کہ شی جن پنگ نے طرفین کے درمیان سرمایہ کاری، صنعت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون اور بنگلہ دیش، چین، ہند، میانمار معاشی راہداری کی تعمیر سمیت علاقائی رابطے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مشترکہ ترقی کو فروغ دیا جاسکے

ہندوستان تیار کرے گا اپنا خلائی اسٹیشن: اسرو سربراہ

ہندوستان کی خلائی ترقی کے حوالے سے روزنامہ ایشین ایج کی خبر کے مطابق ہندوستان مستقبل قریب میں خود اپنا خلائی اسٹیشن تیار کرےگا  تاکہ اسرو خلا میں مزید انسان بھیج سکے۔ اس بات کا اعلان کرتے ہوئے اسرو کے سربراہ کے سیون نے کہا کہ ہندوستان بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں شریک نہیں ہوگا۔ اخبار نامہ نگاروں کے ساتھ کے سیوان کی بات چیت کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ چندریان مشن دوئم کے بعد اسرو2020 کے پہلے چھ ماہ میں آدتیہ ایل-1لانچ کرکے سورج پر ایک دیگر مشن بھیجے گا جب کہ اگلے دو سے تین برس میں زہرہ کے لیے ایک دیگر بین سیارہ جاتی مشن روانہ کرے گا۔ خلائی اسٹیشن کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ یہ مشن گگن یان پروجیکٹ کی توسیع بھی ہوگا۔ یہ اسٹیشن بہت چھوٹا ہوگا۔ اسرو ایک چھوٹا ماڈیول بھیجے گا، جس کا استعمال مائیکرو گریوٹی   تجربات کے لیے کیا جائے گا۔

مودی ہے تو ممکن ہے۔ ہندوستان دورے سے قبل پامپیو کا بیان

روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک خبر کی سرخی ہے ‘‘ مودی ہے تو ممکن ہے: پامپیو’’۔ خبر کے مطابق اس مقبول عام نعرے کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے ہند-امریکہ تعلقات کو بلندی کی اگلی سطح پر لے جانے کے اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک آزاد اور غیر جانبدارہند-بحرالکاہل علاقے کی تشکیل سمیت آگے بڑھنے کے لیے دونوں قائد جمہوریتوں کے سامنے مثالی منفرد مواقع موجود ہیں۔ اخبار مائیک پامپیو کے بیان کے حوالے سے آگے رقم طراز ہے کہ  اگلے ماہ کے اواخر میں نئی دہلی کے دورے کی تفصیل پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہیے۔ واضح ہو کہ اس دورے میں وہ وزیر اعظم نریندرمودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر پرساد سے ملاقاتیں کریں گے۔ ہندوستان کے ساتھ طویل تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طرفین کو انفرادی دوستانہ تعلقات کو رسمی شکل دینے کے لیے سفارتی لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ مودی ہے تو ممکن ہے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں حد درجہ امکانات کو مزید آگے بڑھانا چاہتےہیں۔ واضح ہو کہ واشنگٹن میں بدھ کے روز یو ایس انڈیا بزنس کاؤنسل کی انڈیا آئیڈیاز سمّٹ میں اپنے انڈیا پالیسی خطاب میں انہوں نے ان خیالات کا اظہارکیا۔

سی آرپی ایف پر تازہ ترین حملہ، اداریہ ٹائمز آف انڈیا

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے اننت ناگ میں سی آرپی ایف پر حالیہ دہشت گردانہ حملے پر اپنا اداریہ تحریر کیا ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری ایک کم معروف گروپ العمر مجاہدین نے قبول کی ہے۔ اخبار نے یہ  امکان ظاہر کیا ہے کہ اس پیچھے جیش محمد کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں قائم دہشت گروپ بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے نئے نئے نام اختیار کررہے ہیں۔مثال کے طورپر لشکر طیبہ، جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن ایک ہی تنظیم ہے، جس کا سرغنہ ممنوعہ دہشت گرد حافظ سعید ہے۔ لیکن ہر بارجب کوئی تنظیم نیا  نام اختیار کرتی ہے تو اصل گروپ سے تعلق قائم کرنے کے لیے بیوروکریسی کے ذریعے کہیں بڑی کوشش کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف نئے نام کے تحت دہشت گرد گروپ کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی گنجائش مل جاتی ہے بلکہ پاکستانی اداروں کو ایسے گروپ کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرنے کا بہانہ بھی مل جاتا ہے اور فوج اور آئی ایس آئی کے ذریعے دہشت گردی کو بطور سرکاری پالیسی اختیار کرنے کا ایک پیچیدہ استعمال بھی ہاتھ آجاتا ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس تازہ ترین حملے سے اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ ہندوستانی فضائیہ کے ذریعہ پلواماحملے کا بدلہ لینے کے لیے کئ گئی سرجیکل اسٹرئیک کے باوجود دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی جانی ہے۔ ایسے بہت سے کثیر جہتی چینل ہیں جن کے ذریعے پاکستان حملہ کرسکتا ہے اس لیے ہندوستان کو مسلسل ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اخبار کے مطابق سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر حملوں کے اہم سازشی سے تعلق رکھنے والے مشتبہ آئی ایس شخص کی تمل ناڈو میں این آئی اے کے ہاتھوں گرفتاری سے اس خیال کو اوربھی تقویت ملتی ہے  کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ایک کٹیا لسٹ کا کام کررہا ہے۔

خلیج فارس میں تیل بردار جہازوں پر حملہ

روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے خبر دی ہے کہ خلیج فارس کے موہانے کے قریب مشتبہ حملے میں دو تیل بردار جہاز تباہ ہوگئے جس سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ کو بچانے کے لیے سفارتی کوششیں ناکام ثابت ہورہی ہیں۔ اخبارلکھتا ہے کہ آبنائے ہرمز کے نزدیک جہازوں پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ ان جہازوں میں ایک جاپانی جہاز بھی شامل ہے۔ حالانکہ اس حملے کے سلسلے میں ایران کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا ہے مگر امریکہ اور اس کے اتحادی اس کے لیے ایران پر شبہ کررہے ہیں۔