پشتون نسل کے لوگوں کے خلاف پاکستان کی ظالمانہ کارروائی

انسانی حقوق کے تعلق سے پاکستان کا ریکارڈ کبھی اچھا نہیں رہا ہے۔خود پاکستان کے اندر کام کرنے والی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے اس کے تعلق سے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ سیاسی، مذہبی، ثقافتی اور لسانی بنیاد پر تعصب پسندی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یوں تو پاکستان میں مسائل اور بحران کی کمی نہیں ہے لیکن آج کل جس مسئلہ نے پاکستانی حکام کی نیندیں حرام کررکھی ہے وہ  ہے قبائلی علاقوں میں عوام کی بے چینی۔

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع یہ علاقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات یعنی فاٹا کی نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں کے عوام دہائیوں سے ظلم وتشدد کا شکار رہے ہیں تقریبا 100برسوں سے زائد کا عرصہ گزرگیا جب برطانوی نوآبادیاتی نظام کے تحت یہاں کی مزاحمت روکنے کے لیے قانون بنایا گیا تھا۔ اس قانون میں یہاں کے لوگوں کے حقوق سلب کرلیے گئے تھے اور کسی کو ظلم وزیادتی کے خلاف نہ تو وکیل کرنے اور نہ ہی عدالت سے رجوع کرنے کی اجازت تھی اور اگر کسی سے کوئی جرم سرزد ہوجاتا تو مجموعی طورپر سزادی جاتی تھی۔یہ تو پاکستان کے ایک ملک کی حیثیت سے وجود میں آنے سے پہلے کی باتیں ہیں لیکن پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد 70برس سے زیادہ کا عرصہ گزرچکا ہے پھر بھی حالات میں کسی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ قبائلی علاقوں کے عوام آج بھی اسی طرح سے ظلم وزیادتی کے شکار ہورہے ہیں۔گزشتہ سال پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئین میں ترمیم کرکے فاٹا کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا بل منظور کیا تھا۔ اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ اب فاٹا کےعوام کو بھی وہی حقوق حاصل ہوں گے جو پورے ملک کے عوام کو حاصل ہیں۔ یعنی یہاں کے عوام کے ساتھ علاقائی بنیاد پر کسی طرح کا کوئی تعصب نہیں برتا جائے گاْ لوگ اپنے مقدموں کا دفاع کرسکیں گے، وکیل کی مدد لے سکیں گے اور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرسکیں گے۔لیکن اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی حالات جوں کےتوں ہیں۔ وہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی ہے۔

جب فاٹا کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کی بات چل رہی تھی، اسی وقت وہاں کے کچھ سیاسی اور سماجی حلقوں نے اس کی مخالفت کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ اس علاقے کو کسی صوبے میں ضم کرنے کے بجائے اسے الگ صوبہ بنادیا جائے جس سے اس علاقے کی شناخت بھی برقرار رہے گی اور یہاں کے عوام کی امنگوں کی تکمیل بھی آسانی سے ہوسکے گی۔ لیکن یہ تجویز نظر انداز کردی گئی اور فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کردیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں کے عوام ایک بار پھر اسی دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں 100 برس پہلے تھے۔ آئین کے مطابق انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو ملک کے دیگر حصوں کے عوام کو حاصل ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ لوگوں کو روزمرہ کی بنیاد پر مسائل کا سامناکرنا پڑرہا ہے۔ برسوں سے دہشت گردی کا عذاب جھیلنے والا یہ علاقہ اب مزید ظلم وزیادتی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہاں کے عوام میں بیداری آرہی ہے اور لوگ اپنی آواز بلند کرنے لگے ہیں۔ پشتون تحفظ تحریک یا پی ٹی ایم اس کی واضح مثال ہے۔ پاکستان کے سیاسی افق پر جنوری 2018 میں ابھرنے والی یہ تحریک جنوبی وزیرستان سے 2014 میں محسود تحفظ موومنٹ کے نام سے شروع ہوئی تھی اور ان کے مرکزی مطالبات میں وزیرستان کے علاقے میں جبری گمشدگیوں، بارودی سرنگوں کی موجودگی اور وہاں تعینات فوجیوں کے رویے سمیت دیگر شکایات کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔رفتہ رفتہ اس تحریک میں شدت آتی گئی اور اسے پشتون تحفظ تحریک کا نام دے دیا گیا۔دراصل افغانستان پر امریکہ کے حملے اور اس کے نتیجے میں طالبان حکومت کی بے دخلی کے بعد بہت سے طالبان شدت پسند افغانستان سے فرار ہوکر پاکستان کے انہیں قبائلی علاقوں میں آگئے اور رفتہ رفتہ انہوں نے یہاں اپنا اثرورسوخ بڑھانا شروع کردیا۔ یہاں کے مقامی قبائلی لوگوں اور طالبان کے درمیان کشمکش شروع ہوگئی۔ طالبان نے انہیں بہت سی چیزوں سے محروم کردیا،لیکن جب طالبان نے تحریک طالبان پاکستان کے نام سے پاکستان کے اندر اپنی کارروائیاں شروع کیں تو پاکستانی فوج نے ان کے خلاف بڑا آپریشن شروع کیا اور ان دونوں کی لڑائی میں قبائلی عوام کو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ فوج یہاں کے مقامی لوگوں کو بھی شک کی نظر سے دیکھنے لگی اور ان پر ظلم وزیادتی کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔جب پاکستان کی قومی اسمبلی میں نیا بل منظور کیا گیا تھا تو کہا گیا تھا کہ اس سے فاٹا کی تقریبا پچاس لاکھ کی آبادی کو آئینی، قانونی، اقتصادی اور سیاسی حقوق ملنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ فوج قبائلی علاقوں میں اپنا اثرورسوخ کم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستانی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ پشتون نسل کے لوگوں کی طرف سے احتجاج کو دبانے اور ان کے لیڈروں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے انسداد دہشت گردی کا ایک متبادل عدالتی نظام قائم کیا جائے گا۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو نہ صرف پاکستان کے آئین کی حیثیت کو کم کرتی ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہیں۔