19-06-2019جہاں نما

۔ امریکہ کا مغربی ایشیا میں مزید ایک ہزار فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ، روس کا ایران کی حمایت کا اعلان

1۔ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے مزید ایک ہزار فوجی مغربی ایشیا میں تعینات کرنے جارہا ہے تاکہ علاقہ میں اس کی موجودگی کو تقویت حاصل ہوسکے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اس نے یہ بات ثابت کرنے کے لئے کہ خلیج عمان میں تیل ٹینکروں پر حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہےنئے فوٹو جاری کئے ہیں۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے کافی تفصیل کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ دی ہندوستان ٹائمز تحریر کرتا ہے کہ امریکہ کے اس تازہ ترین اقدام کے بعد روس نے ایران کے لئے اپنی حمایت کا اعلان کردیا اور واشنگٹن کو متنبہ کیا کہ وہ تہران کو اکسانا بند کردے۔ ایران کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی کہ وہ 2015 کے نیوکلیائی معاہدے کے تحت طے یورینیم کو افزودہ بنانے کی حد کو پار کرلے گا، امریکہ کے کارگزار وزیر دفاع پیٹرک شناہن نے کہا کہ ان کا ملک دفاعی مقاصد کے لئے مغربی  ایشیا میں مزید فوجی تعینات کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کے علاقے میں امریکی مفادات اور فوجیوں کو ایران اور اس سے متعلق ملیشیاؤں سے خطرات لاحق ہیں۔ وہ خلیج عمان میں پچھلے ہفتہ جاپان اور ناروے کے آئل ٹینکروں پر حملوں کا حوالہ دے رہے تھے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ ان حملوں کے پیچھے ایران کے پاسداران انقلاب کا ہاتھ ہے۔ ادھر ماکسو میں نائب وزیر خارجہ سرجی رائب کوف نے کہا کہ روس نے امریکہ کو متنبہ کردیا ہے کہ وہ علاقہ میں کشیدگی بڑھا رہا ہے اور اس کی اس حرکت سے جنگ کے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اسی دوران ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ وہ جنگ شروع نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام دنیا سے ہمارے رشتے منقطع کرنے کی پوری کوششوں کے باوجود امریکہ کو ناکامی ہی ہاتھ لگی ہے۔ اسی دوران امریہ کے وزیر خارجہ مائک پامپیو نے کہا کہ ان کا ملک ایران سے جنگ نہیں چاہتا تاہم اسے کسی بھی جارحیت سے روکنے کے لیے اس پر دباؤ برقرار رکھنا لازمی ہے۔

 

۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوا قومی ترقیاتی کونسل کے بنے رکن

۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ملک کی ترقی کی خاطر حکمت عملیاں اور پالیسیاں وضع کرنے کے لئے ایک قومی ترقیاتی کونسل تشکیل کی ہے جس میں فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوا بھی شامل ہیں۔ یہ پہلی بار ہے جب پاکستان میں کسی فوجی سربراہ کو شہری معاملات کا باضابطہ طور پر ایک حصہ بنایا گیا ہے۔ آئین پاکستان کے مطابق فوج سویلین حکومت کے ماتحت رہے گی لیکن اس کے برعکس فوج نے صرف شہری معاملات میں ہی نہیں بلکہ سیاسی معاملات میں بھی زبردست کردار ادا کیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ عمران خان کے مخالفین کو ڈرا دھمکاکر فوج نے ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے لئے پچھلے سال کے عام انتخابات میں راستہ صاف کردیا تھا۔ قومی ترقیاتی کونسل میں فوجی سربراہ کی شمولیت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شہری معاملات میں بھی فوج کی منظوری کے بغیر کوئی فیصلہ لینا مشکل ہوگا۔ منگل کے روز کبینیٹ ڈویژن   کی جانب سے جاری ایک نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ کونسل کے سربراہ وزیراعظم عمران خان ہوں گے جبکہ فوج کے سربراہ جنرل باجوا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، منصوبہ بندی کے وزیر خسرو بختیار اور وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر حفیظ شیخ اس کے ممبر ہوں گے۔ قومی ترقیاتی کونسل ملک کی ترقی کے لئے پالیسیاں وضع کرنے کے علاوہ علاقائی تعاون کے لئے رہنما اصول فراہم کرے گی۔ نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ معاشی ترقی کے لئے پالیسی وضع کرنا اور قومی و علاقائی کنکٹی وٹی کے لئے لمبی مدت کے منصوبوں کو منظوری دینا کونسل کا اہم کام ہوگا۔ نوٹی فکیشن جاری ہونے کے بعد منصوبہ بندی اور ترقی کے سابق وزیر احسن اقبال نے ٹوئٹ کیا کہ کیا قومی ترقیاتی کونسل، قومی معاشی کونسل کی جگہ لے گی جو ایسی ہی ذمہ داریوں کے ساتھ ایک آئینی فورم ہے اور کیا فوج بھی معاشی منیجمنٹ کی کامیابی یا ناکامی کے لئے ذمہ دار ہوگی؟

 

۔ فائننشیل ٹاسک فورس کی تفتیش کے پیش نظر پاکستان کا جماعت الدعوۃ کے طلبہ کو سرکاری اسکولوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ

۔ ممبئی  حملوں کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے زیر انتظام مدرسوں کو 180 کروڑ روپے مختص کئے جانے کے فیصلہ پر فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے اعتراض کئے جانے کے بعد پاکستانی حکومت ان مدرسوں کے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ اس خبر کو روزنامہ انڈین ایکسپریس نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے اخبار تحریر کرتا ہے کہ منگل کو لاہور میں ایک سینئر سرکاری افسر نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ حکومت نے مارچ میں ان مدرسوں کو اپنے کنٹرول میں لیا تھا لیکن وہ مدرسوں کی کارکردگی کے بارے میں فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی۔ اس لئے ان مدرسوں کے تمام بچوں کو سرکاری اسکولوں میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے مدرسوں کو جو رقم مختص کی گئی تھی، اس کے بارے میں ٹاسک فورس کو کافی خدشہ تھا کہ کہیں اس کا غلط استعمال نہ ہو۔ پنجاب حکومت کے ذرائع نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ جن مدرسوں کو حکومت نے اپنے کنٹرول میں لیا تھا، جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے لوگ اس سے جڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنی پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے کے لئے صحیح وقت کا انتظار کررہے تھے۔ حکومت نے ‘مریدکے’اور لاہور میں جماعت الدعوۃ کے صدر دفاتر کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے اور وہاں حافظ سعید کے داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔

 

۔ طالبان کے ملّا برادر کی میزبانی کرنے کی تصدیق کرنے سے چین کا انکار

۔ چین نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ساتویں دور کی بات چیت سے قبل اس نے ملیٹنٹ گروپ کے سیاسی امور کے نائب سربراہ ملّا عبدالغنی برادر کی میزبانی کی تھی۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندو تحریر کرتا ہے کہ بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کینگ  نے کہا کہ وہ فی الحال اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے۔ سعودی عرب کے اخبار عرب نیوز نے اتوار کے روز خبر دی تھی کہ برادر جو دوحہ میں طالبان دفتر کے سربراہ ہیں، چینی حکام سے بات چیت کے لئے بیجنگ کا دورہ کررہے ہیں۔ امریکہ اور روس کے ساتھ چین نے بھی افغانستان کے امن عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماضی میں بھی چین نے طالبان کے ساتھ بات چیت کی تھی۔ جولائی 2015 میں شیر محمد عباس استانکزئی   کی قیادت میں طالبان کے ایک وفد نے چینی حکام کے ساتھ بات چیت کی تھی۔ خبروں کے مطابق اسی سال چین کے شن جیانگ صوبے کی راجدھانی اورومقی میں طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں نے ملاقات کی تھی۔

 

۔ چین میں زلزلے سے 12 افراد جاں بحق، 125 زخمی

۔  چین کے صوبے سیشوان میں پیر کے روز آئے زلزلے سے کم از کم 12 افراد ہلاک اور 125 دیگر زخمی ہوگئے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ انقلاب تحریر کرتا ہے کہ چین کے زلزلہ نیٹ ورک مرکز کے مطابق رات 10 بجکر 55 منٹ پر آئے زلزلے کی شدت ریختر پیمانے پر 6 اعشاریہ صفر تھی۔ اس کا مرکز زمینی سطح سے 16 کلومیٹر نیچے تھا۔ مرکز کی رپورٹ کے مطابق چاننگ کاؤنٹی میں منگل کی صبح پانچ اعشاریہ تین شدت کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔صوبہ سیشوان میں زلزلے کے بعد ایمرجنسی منیجمنٹ کے محکمہ نے منگل کی صبح ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے تمام ضروری خدمات کو فعال بنادیا۔ محکمہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی امداد کے لئے ایک خصوصی ٹیم بھیجی گئی ہے۔ اس کے علاوہ قومی خوراک اور اسٹریٹجک انتظامیہ نے پانچ ہزار خیمے، ایک ہزار فولڈنگ بیڈ اور دو ہزار کمبل ارسال کئے ہیں۔

 

۔ ہانگ کانگ کی رہنما کیری لیم کا استعفی دینے سے انکار

۔ ہانگ کانگ کی رہنما کیری لیم  نے منگل کے روز نیم خود مختار علاقہ میں سیاسی بے چینی کےلئے معافی مانگ لی تاہم چین کی حامی چیف ایگزیکیٹیو نے استعفی دینے سے انکار کردیا۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی اسٹیٹس مین تحریر کرتا ہے کہ حوالگی کے بل کے باعث ہانگ کانگ میں بے چینی پھیل گئی تھی اور لاکھوں لوگ اس بل کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے تھے۔ انہوں نے نہ صرف بل کی واپسی کا مطالبہ کیا بلکہ محترمہ لیم کے استعفی کی بھی مانگ کی۔ محترمہ لیم نے سنیچر کے روز بل کو معطل کردیا۔ لیکن لوگوں کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا اور دوسرے دن اتوار کے روز مظاہروں نے شدت اختیار کرلی جس کے بعد محترمہ لیم کو عوام سے معافی مانگنی پڑی۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جس کے لئے وہ معافی کی خواستگار ہیں۔ لیکن محترمہ لیم نے کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ استعفی دے رہی ہیں۔ اس کے برعکس انہوں نے کہا کہ عوام کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے وہ اور زیادہ محنت سے کام کریں گے۔ انہوں نے یہ اشارہ ضرور دیا کہ لوگوں کی ناراضگی کے پیش نظر اس بل پر دوبارہ غور نہیں کیا جائے گا۔ چین کی حکومت نے اس بل کی حمایت کی تھی اور مظاہروں کا انتظام کرنے والوں پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ مغربی ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ ساز باز کئے ہوئے ہیں۔