20.06.2019جہاں نما

۔ خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ہاتھ: اقوام متحدہ کا بیان

۔ اقوام متحدہ کی ایک ماہر ایگنیس کالا مارڈ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پچھلے سال استنبول کے قونصل خانے میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے لئے سعودی عرب ذمہ دار ہے۔ بدھ کے روز جاری اپنی رپورٹ میں انہوں نے کہا کہ اس قتل کے حوالے سے ایسے معتبر شواہد ملے ہیں جن کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اس میں ملوث ہیں۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے اپنے کالموں میں خاص جگہ دی ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا تحریر کرتا ہے کہ ایک سو صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں ایگنیس کالا مارڈ نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے اپیل کی کہ وہ اس قتل کی مزید تحقیقات کے لئے ایک بین الاقوامی کمیٹی تشکیل کریں تاکہ جوابدہی طے ہوسکے۔ کالا مارڈ نے پانچ ماہ کی تحقیقات کے بعد یہ رپورٹ جاری کی ہے۔ مغربی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کو پہلے ہی شک تھا کہ خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد ملوث ہیں۔ تاہم ماروائے عدالت قتل پر تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ کی یہ رپورٹ خاشقجی کے قتل کے بارے میں ایک تفصیلی اور مکمل رپورٹ ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عبدالجبیر  نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دعوے پہلے بھی کئے جاتے رہے ہیں جن میں کوئی دم نہیں ہے۔ ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں واضح تضاد اور الزامات موجود ہیں جو اس کی معتبریت کو چیلنج کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف سعودی عرب کی عدلیہ ہی اس معاملہ پر کوئی فیصلہ کرنے کی اہل ہے۔ سعودی عرب نے قتل کے لئے 11 لوگوں کی شناخت کی ہے جن کے خلاف خفیہ طور پر مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ کالا مارڈ نے کہا کہ یہ مقدمے بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب سے اپیل کی کہ وہ ان مقدموں کو معطل کرکے مزید تحقیقات میں اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کرے۔ انہوں نے ایف بی آئی سے اپیل کی کہ وہ قتل کی تحقیقات شروع کردے۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ سعودی عرب پر پابندیاں عائد کرے اور  یہ بھی کہا کہ محمد بن سلمان کو بھی ان پابندیوں میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول جب تک سعودی ولی عہد کی اس قتل کے حوالے سے بے گناہی ثابت نہیں ہوجاتی تب تک ان کے تمام ذاتی اثاثے بھی منجمد کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ خاشقجی کے اصل قاتلوں تک پہنچنے کے لئے ابھی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ سعودی حکومت کے ناقد صحافی جمال خاشقجی کو پچھلے سال دو اکتوبر کو استنبول کے سعودی قونصل خانے میں قتل کردیا گیا تھا۔ ان کی لاش ٹکڑے ٹکڑے کرکے اسے ضائع کردیا گیا تھا۔ کالا مارڈ کے مطابق تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ خاشقجی کو دانستہ طور پر اور پہلے سے تیار کی گئی منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا ہے۔

 

۔ دہشت گردی مخالف مقاصد حاصل نہ کرنے پر پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے کا خطرہ

۔ پاکستان کو دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف مناسب کارروائی نہ کرنے کے لئے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے گرے لسٹ میں شامل کرلیا تھا۔ اس کے بعد اسے اس سلسلہ میں سخت کارروائی کرنے کے لئے 27 نکات دیئے گئے تھے لیکن وہ ان میں سے 25 نکات پر کارروائی کرنے میں ناکام رہا۔ اس سلسلے میں روزنامہ دی ہندوستان ٹائمز نے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اخبار تحریر کرتا ہے ٹاسک فورس کا مکمل اجلاس امریکی شہر اورلینڈو میں ہورہا ہے جہاں پاکستان کو یہ ثابت کرنا کافی مشکل ہوگا کہ اس نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف ٹھوس کارروائی کی ہے۔ ٹاسک فورس کا مکمل اجلاس 21 جون کو ختم ہورہا ہے اور یہ اسلام آباد کے لئے اس لئے اہم ہے کہ اس میں یہ طے کیا جائے گا کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے یا گرے لسٹ میں ہی برقرار رکھا جائے۔ اگر اسے بلیک لسٹ میں شامل کرلیا گیا تو اسے مزید پریشانی کا سامنا ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ ایف اے ٹی ایف سے منسلک ایشیا پیسفک گروپ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان نے لشکر طیبہ اور جیش محمد سمیت آٹھ دہشت گرد گروپوں کے خلاف کوئی ایسی کارروائی نہیں کی ہے جو نظر آئے۔ اسی دوران امریکہ نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کو معاشی امداد دینے سے پہلے شرائط طے کرے۔ اس عالمی ادارے نے پچھلے ماہ 6 ارب ڈالر کے ایک بیل آؤٹ پیکج کےلئے پاکستان کے ساتھ معاہدہ کیا تھا تاکہ اسلام آباد بیلنس آف پیمنٹ  کے بحران پر قابو پاسکے۔ لیکن اس معاہدے کے بارے میں امریکہ کے اپنے تحفظات ہیں۔ اسے شبہ ہے کہ پاکستانی حکومت ان پیسوں کو چین کے قرض چکانے میں استعمال کرے گی۔

 

۔ نیوکلیائی معاہدہ بچانے کے لئے یوروپ کو مزید وقت نہیں دیا جائے گا: ایران کا بیان

۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ 2015 میں ہوئے نیوکلیائی معاہدے کو بچانے کے لئے یوروپ کو مزید وقت نہیں دے گا۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی انڈین ایکسپریس تحریر کرتا ہے کہ تہران نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے یوروپی طاقتوں سے کہا ہے کہ وہ نیوکلیائی معاہدے کو امریکی پابندیوں سے بچالیں۔ اگر انہوں نے 8 جولائی تک اس سلسلہ میں کوئی قدم نہیں اٹھایا تو ایران انہیں مزید وقت نہیں دے گا۔ ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے ایک ترجمان نے کہا کہ اگر یوروپ نے اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا تو تہران یورینیم کی افزودگی شروع کردے گا۔ تہران اگر ایسا کرتا ہے تو وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی اور ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر 60 دنوں کے اندر یوروپی طاقتوں نےا س کی معیشت کو امریکی  پابندیوں سے نہیں بچایا تو وہ یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کردے گا۔ اسی دوران صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ کے معاہدے سے الگ ہوجانے کے ایک سال بعد ایران کی جانب سے جو کارروائی کی جارہی ہے وہ کم سے کم ہے تاہم اس فیصلہ کو بدلا بھی جاسکتا ہے۔

 

۔ امریکہ کی افغانستان سے فوجوں کی واپسی کے بارے میں طالبان کے دعوے کی تردید

۔ امریکہ نے طالبان کے اس دعوے کی ترید کی ہے کہ وہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کے لئے راضی ہوگیا ہے۔ اس خبر کو روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے جلی سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے اخبار لکھتا ہے کہ افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے کہا کہ امریکہ، فوجوں کی واپسی کے بارے میں نہیں بلکہ امن کے بارے میں ایک جامع معاہدہ چاہتا ہے۔ منگل کے روز طالبان کے قطر دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ صرف افغان عوام ہی ملک میں مستقبل  کی حکومت کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ٹوئٹر پر اس تبصرہ کے چند گھنٹے بعد خلیل زاد نے کہا کہ وہ طالبان کے ساتھ آئندہ دور کی بات چیت کے لئے تیاری کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی مخالف یقین دہانیاں، فوجوں کی واپسی اور ایک جامع اور مستقل جنگ بندی وہ موضوعات ہیں جو کافی اہم ہیں اور امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں زیر بحث آئیں گے۔

 

۔ امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے خلاف جنگ کے خواہاں نہیں

۔  امریکہ اور ایران نے کہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہیں چاہتے، اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی اسٹیٹس مین تحریر کرتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے فلوریڈا میں اپنی انتخابی مہم شروع کرنے سے قبل واشنگٹن میں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ایران کے ساتھ اس وقت بہت سی چیزیں چل رہی ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے لیکن ہم یہ ضرور کہیں گے کہ ہم پوری طرح تیار ہیں۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ مائک مامپیو نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا لیکن وہ کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ ادھر ایران نے امریکہ کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ خلیج عمان میں تیل کے ٹینکروں کے پیچھے تہران کا ہاتھ ہے۔ ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل آمر حاتمی نے کہا کہ امریکہ نے جو شواہد پیش کئے ہیں وہ قابل اعتبار نہیں ہیں۔

 

۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے دوسری مدت کے لئے انتخابی مہم کی شروعات

۔ امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے دوسری بار صدارت کے لئے اپنی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ایشین ایج تحریر کرتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے لئے اپنی انتخابی مہم کا باضابطہ آغاز کردیا ہے۔ صدر نے اپنی انتخابی مہم ریاست فلوریڈا سے شروع کی جس نے 2016 کے صدارتی انتخابات میں صدر کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے بطور صدر دوسری مدت کے لئے 2020  میں صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی انتخابی مہم کے نتیجے میں جو عوامی تحریک شروع ہوئی تھی وہ اب مزید مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک ریاست کوسب سے پہلے اپنے لوگوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ صدر نے معیشت اور امیگریشن سے متعلق اپنی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے اپنے ڈیموکریٹک حریفوں کو ‘‘سوشلسٹ’’ اور بائیں بازو کے انتہاپسند قرار دیا جو صدر کے بقول ان کے حامیوں کو کمتر سمجھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دعوی کیا کہ جو کام انہوں نے اپنے دور صدارت کے ڈھائی سال کے دوران کئے ہیں وہ ملک کی تاریخ میں پہلے کسی نے بھی نہیں کئے۔ صدر ٹرمپ کی 80 منٹ کی تقریرمیں مستقبل کے کسی بھی منصوبے کا ذکر نہیں تھا۔