پاکستان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے

رشتوں میں قول و عمل کا تضاد جتنا کم ہو اتنا بہتر ہوتا ہے اور اگر بالکل بھی نہ ہو تو اس سے اچھی کوئی اور بات نہیں ہو سکتی مگر پاکستان کی سمجھ میں یہ بات آج تک نہیں آ سکی۔ اس کے لیڈروں نے کئی بار اپنی باتوں سے یہ امید ضرور بندھائی کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان ٹھوس کارروائی کرے گا لیکن امید بر نہیں آئی، جلد ہی ان کے قول و عمل کا تضاد ظاہر ہو گیا۔ یہاں تک کہ عالمی برادری نے بھی یہ محسوس کر لیا کہ دہشت گردی پر پاکستان کا رویہ غیر سنجیدہ ہے۔ اسی لیے پاکستان کے تئیں اس کے موقف میں تبدیلی آنے لگی۔ اسی تبدیلی کا اثر ہے کہ پاکستان کا سب سے قریبی چین بھی اس کا ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہو گیا اور اس نے مسعود اظہر کو اقوام متحدہ سے عالمی دہشت گرد قرار دلانے میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے سربراہ اجلاس میں بھی یہ صاف نظر آیا کہ دہشت گردی کو دنیا کے تمام ممالک ختم کرنا چاہتے ہیں۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے اعلامیہ میں اس کے تمام ممبر ملکوں نے متفقہ طور پر نہ صرف دہشت گردی کی مخالفت کی بلکہ سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردی اورر انتہا پسندی کی توسیع کو سیکورٹی کے لیے چیلنج بتایا۔ اعلامیہ میں بجا طور پر یہ کہا گیا کہ ان چیزوں کے خاتمے کے لیے عالمی برادری ایک دوسرے پر خصوصی توجہ دے، ایک دوسرے کے لیے معاون بنے اور ایک دوسرے کی مثبت معاونت کرے۔

ہندوستان کازور بھی ہمیشہ سے مثبت تعاون اور خوشگوار رشتے کے قیام پر رہا ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کو سمجھانے کی بارہا کوشش کی کہ دہشت گردی خود اس کے لیے بھی خطرناک ہے مگر بات کبھی پاکستان کی سمجھ میں نہیں آئی۔ کئی بار پاک لیڈروں نے ہندوستان سے بہتر تعلقات کے لیے کچھ مثبت بیانات دیے لیکن ہر بار پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں نے یہ احساس دلایا کہ پاک لیڈران کچھ بھی کہیں مگر وہ اپنے مذموم عمل سے باز نہیں آئیں گے۔ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کبھی ٹھوس کارروائی نہیں کی۔ اگر کی ہوتی تو آج ہندوستان سے اس کے رشتے استوار ہوتے۔ پہلی مدت کار کے لیے حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی نے دیگر پڑوسی ملکوں کے سربراہوں کی طرح پاکستان کے سربراہ کو بھی مدعو کیا تھا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ ہندوستان اپنے تمام پڑوسیوں کو یکساں اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان اس موقع کا فائدہ اٹھاکر بہتر تعلقات استوار کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش کر سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ ایک طرف دوستی کی باتیں ہوتی رہیں اور دوسری جانب پاکستان میں سرگرم دہشت گرد ہندوستان میں حملے کرتے رہے۔ پلوامہ حملے نے تو ہندوستان کے لوگوں کے ساتھ عالمی برادری کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس مذموم واردات کی ذمہ داری جیش محمد نے لی۔ اس کے بعد پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان کے لیے اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف کارروائی کرنا آسان تھا لیکن عمران ہندوستان سے ثبوت کا مطالبہ کرنے لگے۔ وہ بہلانے کی کوشش کرنے لگے مگر ہندوستان ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف ثبوت دے کر دیکھ چکا تھا کہ پاکستان نے اس کی بنیاد پر کوئی کارروائی نہیں کی،لہذا اس صورت میں اب پاکستان پر یقین کرنا مشکل تھا۔

ہندوستان نے بجا طور پر اس موقف کا اظہار کر دیا ہے کہ جب تک دہشت گردانہ واقعات کا سلسلہ جاری رہے گا، مذاکرات کا سلسلہ شروع نہیں ہو سکتا۔ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے پاکستان ٹھوس عملی اقدامات کرے، صرف باتوں سے بہلانے کی کوشش نہ کرے۔ یہی موقف دنیا کے دیگر ممالک کا بھی ہے۔ بشکیک اعلامیہ ہندوستان کے موقف کی تائید ہے۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے تمام ملکوں کا موقف یہی ہے کہ دہشت گردی انسانیت کے خلاف ہے، انسانیت کی بقا کے لیے اس کا خاتمہ ضروری ہے۔ یہ وقت پاکستان کے لیے یہ سوچنے کا ہے کہ دہشت گردی نے اسے تنہا کر دیا ہے۔ اس کا ساتھ دینے کے لیے کوئی بھی ملک تیار نہیں۔ اس کا سب سے قریبی دوست چین بھی اس کا ساتھ دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ کل تک ہندوستان دہشت گردی ختم کرنے کے لیے کہتا تھا تو پاکستان اس کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا، آج دنیا کے سبھی ممالک یہی چاہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی ختم کرے تو اس سلسلے میں وہ غیر سنجیدہ رویہ نہیں رکھ سکتا۔ اسے دہشت گردی کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنی ہی ہوگی، کیونکہ وہ بھی عالمی برادری کا حصہ ہے۔ یہ سوچ کر بھی اپنی سرزمین سے دہشت گردی ختم کرنے میں اسے تاخیر نہیں کرنی چاہیے کہ اس سے وہ خود بھی متاثر ہے، دہشت گردوں نے اس کا سکون چھین رکھا ہے، اقتصادی طور پر اسے تباہ کر دیا ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے ہی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ لگانا نہیں چاہتے۔ پاکستان کا خوشحال بننا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دہشت گردی سے وہ پوری طرح نجات نہ حاصل کر لے۔