21.06.2019جہاں نما

صدر جمہوریہ کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب، کہا قومی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ، خطاب میں سرجیکل اسٹرائیکس کا حوالہ بھی شامل

آج ملک کے تمام اخبارات نے عام انتخابات کے بعد پارلیمنٹ کے پہلے مشترکہ اجلاس سے صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کے خطاب کو مختلف شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے جس میں انھوں نے قومی سلامتی کے تحفظ کو حکومت کی اعلیٰ ترجیح قرار دیا ۔ روزنامہ اسٹیٹس مین اس خطاب کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ پلوامہ حملے کے بعدسرحد پار دہشت گردوں کے اڈوں پر سرجیکل اسٹرائیکس اور فضائی اسٹرائیکس سے ملک کی سلامتی کیلئے ہندوستان کے مضبوط ارادوں اور صلاحیتوں کا اظہار ہوتا ہے۔ نیز یہ کہ دہشت گردی اور نکسل واد کی لعنت سے نپٹنے کے لیے موثر اقدامات بھی کئے جارہے ہیں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مستقبل میں تمام ممکنہ اقدامات بھی کئے جائیں گے۔ صدرجمہوریہ نے اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہاکہ حکومت مسلح افواج کی جدیدکاری کے لیے تیزتر اقدامات کررہی ہے اور مستقبل قریب میں اس کو پہلا رافیل طیارہ اور اپاچے ہیلی کاپٹرس مل جائیں گے۔ اس کے علاوہ میک ان انڈیا پروگرام کے تحت جدید اسلحہ جات کی تیاری پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ اس میں جدید رائفلیں، توپیں، ٹینک اور جنگی طیارے بھی شامل ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے سلسلے میں اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے صدرجمہوریہ نے کہاکہ اترپردیش اور تمل ناڈو میں تیار کی جانے والی دفاعی راہداریوں سے اس مقصد کو مزید استحکام ملے گا۔ نیز یہ کہ سلامتی کے تحفظ کے اقدامات کے ساتھ ساتھ، دفاعی سازوسامان کی برآمدات کی حوصلہ افزائی بھی کی جارہی ہے۔ جموں وکشمیر کے حوالے سے رام ناتھ کووند کا کہنا تھا کہ اس ریاست کے عوام کو تحفظ اور پرامن  ماحول کی فراہمی اور ترقی کیلئے حکومت پوری توجہ اور سنجیدگی کے ساتھ کوششیں کررہی ہے۔ اخبار اس اہم خطاب کے حوالے سے مزید رقمطراز ہے کہ ملک میں لوگوں کی غیرقانونی آمد سے نہ صرف اندرونی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے بلکہ اس سے سماجی توازن بھی بگڑتا ہے اور زندگی گزارنے کیلئے موجود ضروری مواقع پر بے حد دباؤ بھی پڑ تاہے۔ اسی لئے حکومت نے اس سےدراندازی متاثرہ ریاستوں ‘‘ شہریوں کے قومی رجسٹر کے عمل کے نفاذ اور سرحدوں پر سلامتی کے اقدامات کو بھی مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ صدر کے خطبے کا وہاں موجود رہنماؤں نے میزیں تھپتپھا کر استقبال کیا۔

 

ایک ملک –ایک انتخاب: اداریہ انڈین ایکسپریس

صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کے پارلیمنٹ کے مشترکہ خطاب سے متعلق خبروں کے علاوہ اخبارت نے ایک ملک-ایک انتخاب کے تعلق سے خبریں اور اداریئے شائع کئے ہیں۔ جن میں روزنامہ ہندو، ہندوستان ٹائمز اور انڈین ایکسپریس سرفہرست ہیں۔ اپنےا داریئے میں روزنامہ انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ اس موضوع پر شدت اور سنجیدگی کے ساتھ بحث ومباحثے کی ضرورت ہے۔ اس متنازعہ تجویز سے یہ خطرہ نہیں ہے کہ اس پر ایک طویل اور ارتکازی بحث چھڑ جائے گی بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ اس کی کوشش وہ جماعت کررہی ہے جو حالیہ انتخابات میں گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدت کے ساتھ فتحیاب ہوئی ہے اور وہ اس پر پیشگی تیاری اور غوروخوض کے بغیر زور دے رہی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ایک ساتھ انتخابات کرانے کےخیال پر کافی عرصہ سے زور دیا جارہا ہے اور اس کو متعلقہ اداروں مثلاً لا کمیشن ، پارلیمانی قائمہ کمیٹی اور انتخابی کمیشن کے سامنے بھی پیش کیاجاچکا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر اس تجویز عملدرآمد ہوجاتا ہے تو اس سے نہ صرف انتخابات پر ہونے والے اخراجات میں کمی واقع ہوجائے گی بلکہ بار بار انتخابات سے ہونے والے انتظامی دشواریاں  بھی دور ہوجائیں گی، مگر ان سب کے باوجود اس سے ایک مستحکم وفاقی نیٹ ورک پر مبنی پارلیمانی جمہوریت پر سب سےز یادہ غلط اثرات مرتب ہوں گے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ مرکزی اور ریاستی انتخابات ایک ساتھ کرائے جانے سے اکثریتی قومی پارٹی یا مرکز میں برسراقتدار آنے والی پارٹی کو فائدہ ہونے کا سب سے زیادہ امکان ہے جبکہ اس طریقہ کار سے چھوٹی علاقائی پارٹیوں اور علاقائی مسائل کو فائدہ نہیں پہونچے گا۔ قانون قانون سازیہ کے لئے ایک ہی مدت مقرر کئے جانے سے ایک ایسے نظام میں جوابدہی مزید کمزور ہو جائے گی جہاں پلڑا کسی مضبوط سیاسی ایگزیکٹو کی طرف جھک رہا ہو اور جہاں خود مختار اداروں کے اختیارات کم ہوتے جا رہے ہوں ایسے نظام میں یہ انتخابات ہی ہیں جو حکمرانوں کو احتساب کے دائرے میں لاتے ہیں اور عوام کو اپنےحق پر زوردینے کے لئےایک موقع فراہم کرتے ہیں۔

 

تمل ناڈو کو 20 لاکھ لیٹر پانی بھیجنے کی کیرالہ نے کی پیش کش

دیگر اخبارات کی طرح روزنامہ ہندو نے بھی تمل ناڈو میں پانی کی قلت کو دور کرنے کے لئے کیرالہ کی پیش کش پر خبر شائع کی ہے ۔ خبر کے مطابق اخبار تمل ناڈو کے میونسپل ایڈمنسٹریشن وزیر ایس پی ویلیو مانی کے حوالے سے لکھتا ہے کہ کیرالہ نے تھیرو اننت پورم سے چنئی کے لئے بذریعہ ٹرین 20 لاکھ لیٹر پانی بھیجنے کی تجویز پیش کی تھی جس پر وزیراعلیٰ پلانی سوامی کوئی فیصلہ کرنے والے ہیں ۔ وزیر موصوف کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب کیرالہ کے وزیراعلیٰ کے دفتر نے فیس بک پر یہ بیان جاری کیا کہ تمل ناڈو نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے ۔ فیس بک کے بیان کے مطابق تمل ناڈو نے اس پیش کش کو مسترد کر تے ہوئے کہا تھاریاست میں پانی کی وافر مقدار موجود ہے اور اس کو کیرالہ سے اضافی امداد کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس پر کیرالہ کے حزب اختلاف کے رہنما ایم کے اسٹالن نے تمل ناڈو پر تنقید کرتے ہوئے پڑوسی ریاست کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس پیش کش کو قبول کرلے۔

فضائی حدود میں امریکی ڈرون کو مار گرانے کا تہران کا اعتراف ، ایران –امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

ایران کے پاسداران انقلاب نے جمعرات کے روز آبنائے ہرمز میں امریکہ کا ایک  نگراں ڈرون مار گرایا۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس اس حوالے سے رقمطراز ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کا نیوکلیائی معاہدہ پیچیدگی کا شکار ہونے کے بعد پیدا کشیدگی کے پس منظر میں اسلامی جمہوریہ کے ذریعے امریکی فوج پریہ پہلا براہ راست حملہ ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس ا مریکی ڈرون نے اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جبکہ امریکہ نے ایران کے اس میزائل حملے کو بلا اشتعال حملہ قرار دیا ہے۔ اخبار امریکی صدر کے ٹوئیٹ کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ ایران نے یہ حملہ کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے ۔بعد میں انہوں  نے نامہ نگاروں سے گفتگو میں اپنے لہجے میں نرمی لاتے ہوئے اس کو نا سمجھی کی غلطی قرار دیا۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ ایران کی جانب سے غیر نشاندہ خطرہ کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ نے مغربی ایشیا میں اپنا ایک طیارہ بردار جہاز روانہ کیا ہے اور وہاں پہلے سے موجود لاکھوں فوجیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔ ان تمام اقدامات سے یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ کسی غلط فہمی یا کشیدگی میں مزید اضافے سے ایران اور امریکہ کے درمیان کھلم کھلا ٹکراؤ شروع نہ ہوجائے۔اخبار پاسداران انقلاب کے حوالے سے آخر میں رقمطراز ہے کہ ایران کسی ملک سے جنگ نہیں چاہتا مگر وہ اس کے لئے پوری طرح تیار ہے۔

پاکستان دہشت گردی کے خلاف بناؤٹی اقدامات سے کرے گریز –ہندوستانی وزارت خارجہ

روزنامہ ہندو نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے ہندوستانی وزارت داخلہ کا بیان شائع کیا ہے جس کے مطابق ہندوستان ، پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے دہشت گردی کے خلاف بناوٹی اقدامات سے متاثر نہیں ہوگا۔ اخبار لکھتا ہے کہ ہندوستانی وزارت خارجہ کا یہ بیان پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شائع ان رپورٹوں کے بعد آیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب عمران خاں کو ایک مراسلے میں اسلام آباد حکومت کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کے مطابق اس مراسلے میں وزیراعظم نے تحریر کیا تھا کہ ہندوستان ان جنوبی ایشیائی ممالک و دیگر ممالک کے ساتھ معمول کے  اورتعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے جو دہشت گردی اور تشدد سے پاک ماحول کی تشکیل کے حامی ہیں ۔ اس مراسلے میں ہندوستان کے پرانے موقف کا اعادہ کیا گیا تھا اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

افغان بحالی امن مذاکرات کے لئے طالبان رہنما کی میزبانی کی چین نے کی تصدیق

چین نے جمعرات کے روز پہلی بار یہ اعتراف کیا کہ اس نے حال ہی میں افغان طالبان کے امن مذاکرات کار ،ملّا عبدالغنی کی میزبانی کی ہے ۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے عالمی صفحے پر شائع اس خبر میں تحریر کیا ہے کہ یہ بات چیت چین کی  امن کی ان کوششوں کا حصہ ہے جو وہ افغانستان میں اپنے اسٹریٹجک کردار میں اضافے اور جنگ زدہ ملک میں بحالی امن کے لئے کر رہا ہے۔ واضح ہو کہ 1994 میں تشکیل کر دہ طالبان کے بانی چار اعلیٰ کمانڈروں میں سے ایک عبدالغنی کو پاکستانی حکومت نے گذشتہ سال جیل سے رہا کیا تھا۔ اخبار چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کھانگ کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ عبدالغنی نے چین کا دورہ کیا تھا، جس کے دوران انہوں نے چین حکام کے ساتھ بحالی امن اور صلح کے عمل نیز دہشت گردی کے خلاف جنگ پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ خیال رہے کہ پاکستان کا قریبی اتحادی چین ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات ختم کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔