09.07.2019 جہاں نما

 

ہندوستان نے کشمیر پر اقوام متحدہ کے حقوق انسانی دفتر کی رپورٹ کو کیا مسترد ، کہا رپورٹ بے بنیاد

ہندوستان نے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمشنر کے دفتر سے جاری جموں وکشمیر میں حقوق انسانی سے متعلق اس تازہ ترین رپورٹ کو مسترد کردیا ہے جس میں ہندوستانی سیکوریٹی افواج پر زیادتیاں کرنے کا الزام لگایا ہے۔ نئی دہلی نے رپورٹ میں استعمال کئے گئے الفاظ کے خلاف بھی سفارتی احتجاج درج کرایا ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کیساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ایشین ایج تحریر کرتا ہے کہ ہندوستان نے اس رپورٹ کو جھوٹ اور سیاست پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کا حقوق انسانی کمیشن سرحد پار پاکستان سے ہونے والی دہشت گردی کو نظرانداز کرتا ہے اور  اقوام متحدہ کی جانب سے ممنوعہ قرار دیئے گئے دہشت گرد گروپوں کو ‘‘مسلح گروپ’’ کہتا ہے۔ ہندوستان نے حقوق انسانی کمیشن کے کشمیری عوام کے حق خودارادی کا احترام کرنے کے مشورے کو بھی مسترد کردیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کل نئی دہلی میں کہا کہ اس رپورٹ کے خلاف ہم نے سخت احتجاج درج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے حالات پر اس رپورٹ سے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمشنر کے دفتر کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند دہشت گردی کو قطعی طور پر برداشت نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور وہ اپنی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کیلئے تمام اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قومی عہد کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر کے حالات پر رپورٹ کا کوئی بھی اپ ڈیٹ   صرف پہلے کے جھوٹے اقوال کو آگے بڑھانے جیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں کہی گئی باتیں ہندوستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ 

بیس فیصد تک یورنییم  افزودہ کرنے کی ایران کی دھمکی

ایران نے کہا ہے کہ اس نے 2015 کے نیوکلیائی معاہدے میں طے شدہ حد سے زیادہ یورینیم کی افزودگی شروع کردی ہے اور دھمکی دی کہ وہ افزودگی کو بیس فیصد تک بڑھادےگا۔ اس خبرکو تمام اخبارات نے اپنے کالموں میں خاص جگہ دی ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا تحریر کرتا ہے کہ تہران کے اس اعلان کے بعد ایران اور اس کے یوروپی پارٹنروں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نیوکلیائی معاہدے پر دستخط کرنے والے یوروپی ممالک معاہدے کو بچانے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ ایران نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کے جواب میں نیوکلیائی معاہدے کی شرائط کے برخلاف یورینیم افزودگی کی تین اعشاریہ چھ سات فیصد کی طے شدہ حد کو توڑدے گا۔ اس نے کہا کہ اگر یوروپی ممالک اسے یقین دہانی نہیں کراتے کہ وہ اس سے تیل خریدنا جاری رکھیں گے تو وہ ہر 60 دن  بعد معاہدے کی مزید خلاف ورزی کرتا رہے گا۔ ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے ترجمان بہروز کمال وندی نے کہا کہ یورینیم افزودگی کی سطح اس وقت چار اعشاریہ 5فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں تہران افزودگی کو 20فیصد کی سطح تک لے جانے پر غور کرسکتا ہے۔ اسی دوران امریکی نائب صدر مائک پینس نے کہا کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ بنائے رکھنے میں کوئی بھی کوتاہی نہیں کی جائے گی۔ 

مریم نواز کا عمران خان کے استعفیٰ کامطالبہ

پاکستان  کے سابق وزیراعظم  نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کی سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس خبر کوروزنامہ دی اسٹیٹسمین نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اخبار تحریر کرتا ہے کہ اتوار کی رات منڈی بہاءالدین میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے عمران خان کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ کرکٹ سے سیاست میں آنے والے عمران خان کو پاکستان پر حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیکر گھر واپس چلاجانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کے انکشاف کے بعد کہ ان کے والد نواز شریف کو کچھ لوگوں کے دباؤ میں سزا سنائی گئی، انہیں جیل میں مزید رکھنا ایک جرم ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ اتوار کے روز مریم نواز کے ایک ویڈیو کلپ جاری کرکے دعویٰ کیا تھا کہ جج ارشد ملک نے دباؤ میں آکر ان کے والد کو سزا سنائی تھی حالانکہ ارشد ملک نے بعد میں اس کی تردید کردی۔ اپنے خطاب میں مریم نواز نے کہا کہ ان کے والد جلد ہی رہا ہوکر ایک بار پھر وزیراعظم بنیں گے۔ اور اس بار وہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہونگے۔ 

دوحہ میں متصادم افغان گروپوں کے درمیان امن کیلئے بات چیت

افغانستان کے درجنوں طاقتور شہریوں نے پیرکے روز دوحہ میں طالبان کے ساتھ دوبارہ بات چیت شروع کی۔ اس ملاقات کا مقصد 18 سالہ جنگ کاخاتمہ، جنگ بندی کا حصول اور ملک میں عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں کسی اتفاق رائے تک پہنچنا ہے۔تقریباً 70 افغان مندوبین کے مابین ہونے والی یہ ملاقات اتوار کو شروع ہوئی تھی۔ اس سے قبل افغانستان میں 18سالہ جنگ کے خاتمہ کیلئے امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک ہفتے تک بات چیت ہوئی تھی۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پامپیو   نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ سرکردہ افغان شہریوں کے اس طرح کے اجتماع کی امید کافی دنوں سے تھی۔ انہوں نے اس بات کی تعریف کی کہ ملک کی حکومت، سول سوسائٹی، خواتین اور طالبان ایک جگہ پر جمع ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ستمبر میں صدارتی انتخابات سے پہلے وہ طالبان کے ساتھ کوئی سیاسی معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاکہ وہاں سے غیر ملکی فوجوں کی واپسی شروع ہوسکے۔ اس دو روزہ کانفرنس کا اہتمام جرمنی اور قطر نے کیا تھا۔ قطر کے انسداد دہشت گردی کے خصوصی ایلچی مطلق القحتیانی  نے کہا کہ بات چیت مثبت انداز سے چل رہی اور امید ہے کہ ہم کسی نتیجہ پر ضرور پہنچ جائیں گے۔ جرمنی کے سفیر مارکس پوزیل (Markus Potzel) نے کہا کہ تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھے گی جنہوں نے ملک کی خاطر اپنے تمام اختلافات بھلادئے۔ 

ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان نئے اور بہتر تعلقات کا جانسن کا وعدہ

برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ اور ٹریسامے کی جگہ لینے کیلئے وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں شامل، بورس جانسن نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ ملک کے وزیراعظم منتخب ہوگئے تو ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان نئے اور بہتر تجارتی تعلقات قائم ہونگے۔ اپنے حریف کنزرویٹو پارٹی کے جیریمی ہنٹ  کی جانب سے برطانیہ میں رہنے والے ہندوستانی شہریوں سے انہیں ووٹ دینے کی اپیل کے کچھ دن بعد جناب جانسن نے بھی ایک خط جاری کیا جس میں انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنے نجی رشتوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر وزیراعظم منتخب ہوئے تو ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان خصوصی تعلقات قائم ہونگے۔ اپنے کھلے خط میں انہوں نے کہا کہ اگر وہ وزیراعظم بنے تو وہ حکومت ہند ،تاجر برادری اور ہندوستانی سماج میں اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان بہتر رشتے قائم ہوسکیں۔ جناب جانسن بریگزٹ کے حامی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یوروپی یونین نے گزشتہ ایک دہائی سے ہندوستان کے ساتھ آزاد تجارت کے بارے میں بات چیت کرنے کو کوئی اہمیت نہیں دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو 31 اکتوبر 2019 کو یوروپی یونین سے باہر ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی تجارتی پالیسی پر کنٹرول اختیار کرسکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان ایک مضبوط معیشت ہے اور امید ہے کہ اس صدی کے وسط تک وہ دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ہندوستانی دوستوں کے ساتھ نئے تجارتی تعلقات قائم کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔ 

کنزرویٹو رہنما متسوتاکیس نے یونان کے وزیراعظم کی حیثیت سے لیا حلف

یونان کے نئے کنزرویٹو وزیراعظم کیریاکوس متسوتاکیس نے پیر کے روز عہدے اور رازداری کا حلف لے لیا۔ حلف لینے کے بعد انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام نے یونان کو بدلنے کیلئے انہیں زبردست حمایت دی ہے اور وہ اس کا پورا احترام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے محنت سے کام کرنے کا دور شروع ہوگیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہم تمام چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہونگے۔ بعد میں جناب کیریاکوس نے اپنی کابینہ کا اعلان کیا جس میں تکنیکی ماہرین اور خواتین شامل ہیں۔ جناب کیریا کوس نے بائیں بازو کے وزیراعظم  الیکسیس سیپراس کی جگہ لی ہے۔ یوروزون میں برقرار رہنے کیلئے سیپراس نے کفایت شعاری کی پالیسی اپنائی تھی ۔ یونان پر اس وقت قرضوں کا بھاری بوجھ ہے۔ اس لئے موجودہ وزیراعظم کو معاشی محاذ پر کافی چیلنجوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ 300 نشستوں والی پارلیمنٹ میں ان کی پارٹی نیوڈیماکریسی کی 158 نشستیں ہیں۔ پچھلی بار 2014 میں نیوڈیماکریسی پارٹی گریک سوشلسٹ کے ساتھ اقتدار میں تھی۔ اس بار سیپراس کی سیریزا پارٹی کی نشستیں کم ہوکر صرف 86 رہ گئی ہیں۔