10.07.2019 جہاں نما

 

ہندوستانی شہریوں کے کھاتوں کی جانکاری ہندوستان کو جلد دی جائے گی، سوئس بینکوں کااشارہ

سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں ہندوستانی شہریوں کے کھاتوں اور ان میں جمع رقومات سے متعلق تفصیلات کے پہلے تبادلے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور توقع ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بینکنگ سے متعلق تفصیلات کے تبادلے کے لیے مقررہ آخری تاریخ 30ستمبر سے قبل جانکاری کے تبادلے کا عمل شروع ہوجائیگا۔ اس سے متعلق روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ایک خصوصی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان بینکوں سے متعلق تفصیلات کے تبادلے کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان جنوری 2018 میں کئے گئے جانکاری کے خودکار تبادلے کے معاہدے پر اطلاق شروع ہوجائے گا۔ اس سلسلے میں اخبارنے سوئٹزرلینڈ کی وزارت مالیات اور سوئٹزرلینڈ کی وفاقی ٹیکس انتظامیہ سے رابطہ قائم کیا تھا اور ان سے موصول تحریری جواب کی بنیاد پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں کھاتہ رکھنے والے تمام ہندوستانی شہریوں سے متعلق مکمل تفصیلات ہندوستانی ٹیکس حکام کے سپرد کی جائیں گی۔ سوئٹزرلینڈ کی ان دونوں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ سال 2018 کے بعد کی تمام تفصیلات کئی مرحلوں میں دستیاب کرائی جائیں گی۔ 

رپورٹ میں سوئٹزر لینڈ کی ان دونوں ایجنسیوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہندوستان ان 73 ممالک میں شامل ہے جن کے ساتھ سوئٹزرلینڈ نے اپنے بینکوں میں ان ممالک کے متعلقہ شہریوں کے بینک کھاتوں اور لین دین سے متعلق مکمل جانکاری فراہم کرنے کے معاہدے کئے تھے۔ اس میں گزشتہ برس 36 ممالک کے ساتھ معاہدوں پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے۔ رپورٹ میں سوئس حکام کے حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ متعلقہ ممالک کے ساتھ بینک کھاتوں اور ان کے تحت لین دین سے متعلق جانکاری کے تبادلے کے لیے درکار قانوسازی اور پارلیمانی کارروائی کو مکمل کرلیا گیا ہے۔ جس کے بعد تفصیلات کے تبادلے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے ترجمان نے دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ سے متعلق تفصیلات کے تبادلے کو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے جبکہ ہندوستانی ٹیکس حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے سوئٹزرلینڈ سے موصول ہونے والی جانکاری پر کارروائی کرنے کی پوری تیاری کرلی ہے۔ 

آئی ایم ایف کا پاکستان کی غیرمستحکم معیشت کے لیے جامع اصلاحات پر زور 

عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کی معیشت میں عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے میں پاکستان سے بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنے پر زور دیا ہے۔ اس سے متعلق روزنامہ ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی قرض دہندہ ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے بدترین معاشی بحران میں مبتلا پاکستان کے لیے چھ بلین امریکی ڈالر کے پیکیج کی منظوری کے بعد پاکستان کو اصلاحات سے متعلق جامع اور سخت فیصلے کرنے کی تجویز کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں غیرمستحکم اور غیر متوازن ترقی اور گھریلو پیداوار کے سبب پاکستان کو معاشی محاذ پر سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائرکٹر اور ایکزیکٹیو بورڈ کے کارگزار چیئرمین جناب ڈیوڈ لپٹن نے کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر سرکاری قرضوں میں تخفیف اور استحکام کے لیے ایک فیصلہ کن مالی پائیداری لازمی ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں پاکستان کو مزید مشورہ دیا کہ مالی مقاصد کے حصول کے لیے محصولات سے متعلق ایک جامع حکمت عملی ضروری ہے جس کے تحت ٹیکس دائرے کو وسیع کیا جائے اور ایک متوازن  اور جامع طریقے سے ٹیکس محصولات میں اضافہ کیا جائے۔

پاکستان سے متعلق ہی روزنامہ اسٹیٹسمین کی ایک رپورٹ میں روس کے ایک اعلان سے پاکستان کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق روس نے سرکاری طور پر وضاحت کی ہے کہ ستمبر کے اوائل میں روسی شہر ولادی ووستوک میں منعقد ہونے والے ایسٹرن اکونومک فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ کے افسران نے حال ہی میں مقامی میڈیا کو بتایا تھا کہ گزشتہ مہینے کرغزستان کی راجدھانی بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کی کانفرنس کے دوران روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے عمران خان کو فورم کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی اس لیے پاکستانی وزیراعظم اس اجلاس میں مہمان ذی وقار کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔ پاکستان کا یہ اعلان ہندوستانی افسران کے لیے باعث حیرت تھا کیونکہ ایسٹرن اکونومک فورم کے اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی کو مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرنی ہے۔ واضح رہے کہ اس اجلاس کے بعد وزیراعظم نریندر مودی اور صدر روس ولادیمیر پوتن کے درمیان سالانہ کانفنرس منعقد ہوگی۔ 

حکومت مخالف نشریات کے لیے پاکستان کے تین چینلوں پر پابندی

پاکستان میں ذرائع ابلاغ کی سرگرمیوں میں حکومتی مداخلت اور انٹلی جنس ایجنسیوں کے دباؤ کے سبب پریس کی آزادی کو زبردست خطرات لاحق ہوگئے ہیں جہاں تین ٹی وی چینلوں کے ٹیلی کاسٹ پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور صحافت کی تین اہم شخصیات کو انٹلی  جنس ایجنسیوں کے دباؤ کے سبب اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے اب تک ،نیوز 24 اور کیپٹل ٹی وی کی نشریات پر روک لگادی ہے اور نواز حامی پاکستان مسلم لیگ رہنما محترمہ مریم نواز کی لاہور میں منعقدہ پریس کانفرنس کی غیرایڈٹ راست ٹیلی کاسٹ کے لیے 21 چینلوں کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ اس بات کی تصدیق پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے کی ہے۔ پیمرا کا کہنا ہے کہ عدلیہ اور سرکاری اداروں کے خلاف ٹیلی کاسٹ قوانین، ضابطہ اخلاق اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی انٹلی جنس ایجنسیوں کے دباؤ میں جن اہم صحافیوں کو اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹس کو بند کرنا پڑا ہے ان میں پاکستان کے کثیر الاشاعت اخبار جنگ گروپ کے وجیح ثانی، عمر چیمہ اور اعزاز سید شامل ہیں۔

امریکی مصنوعات پر محصول کی اعلیٰ شرح پر صدر امریکہ کا اظہار ناراضگی

امریکہ کے صدر ڈونل ٹرمپ نے امریکی مصنوعات پر ہندوستان کے ذریعے لگائی جانے والی محصولات  پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ اس سے متعلق روزنامہ ایشین ایج کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی  مصنوعات پر ہندوستان کے ذریعے عائد محصول کی زیادہ شرح پر ناراض صدر امریکہ نے اپنی تشویش کااظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے  تجارتی نمائندوں کی ایک میٹنگ نئی دہلی میں آئندہ ہفتے منعقد ہونے والی ہے جبکہ اس میٹنگ کے بعد امریکہ کے وزیر تجارت ولبرراس اور وزیر توانائی مِک پیری واشنگٹن میں ہندوستان پر مرکوز ایک کانفرنس کو خطاب کریں گے۔ وزیراعظم جناب نریندر مودی اور صدر امریکہ جناب ڈونل ٹرمپ نے جی20 سربراہ کانفرنس کے موقع پر باہمی تجارت میں تنازعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ان تنازعات کے تصفیہ کے لیے دونوں ملکوں کے وزرائے تجارت کے درمیان ایک میٹنگ کے انعقادپر اتفاق کیا تھا۔ واضح رہے کہ سال 2018 میں دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 142.1 بلین امریکی ڈالر تھا جس میں ہندوستان کو 42.2 بلین امریکی ڈالر کا اضافی حصہ حاصل تھا۔ 

سفارتی تفصیلات افشا ہونے پر امریکہ کے صدر کی برطانوی وزیراعظم پر تنقید

امریکہ کے صدر جناب ڈونل ٹرمپ نے اپنے عہدہ صدارت سے متعلق اہم سفارتی جانکاریاں افشا ہونے کے معاملے میں برطانیہ کی وزیراعظم محترمہ ٹیریسامے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ روزنامہ اسٹیٹسمین کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر امریکہ نے نیویارک میں برطانیہ کے سفیر کِم ڈاروک کے ذریعے اپنے بارے میں برطانیہ ارسال کی گئی سفارتی جانکاریوں پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی کِم ڈاروک سے رابطہ قائم نہیں کریں گے جبکہ برطانیہ کی وزیراعظم ٹیریسامے نے اپنے سفیر کی بھرپور حمایت کی ہے۔ واضح رہے کہ جناب کِم ڈاروک نے برطانیہ بھیجی گئی اپنی سفارتی تفصیلات میں صدر امریکہ کو ایک غیرفعال رہنما قرار دیا تھا۔  کِم ڈاروک کے ذریعے ارسال کردہ ای میلز افشا ہوگئے تھے اور انہیں روزنامہ میل میں شائع کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر تیکھا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جناب ڈونل ٹرمپ نے کہا کہ خوش آیند بات یہ ہے کہ برطانیہ کو جلد ایک نیا وزیراعظم ملنے والا ہے۔ 

طالبان اور افغان نمائندے امن معاہدے کے لیے نقش راہ پر رضامند

گزشتہ 18برسوں سے خانہ جنگی کا شکار افغانستان میں پائیدار امن اور خوشحالی کی راہ ہموار ہونے کے امکانات روشن ہونے لگے ہیں۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق قطر کی راجدھانی دوحہ میں افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے جاری مذاکرات کے عمل میں شریک طالبان اور کچھ سرکاری افسران سمیت افغان نمائندوں نے ملک کے سیاسی مستقبل کے تعین کے لیے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک بنیادی نقش راہ تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دو روزہ مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں نے افغانستان میں شہری ہلاکتوں کو مکمل طور پر ختم کرنے اور سیاسی ، سماجی، اقتصادی، تعلیمی اور ثقافتی امور میں خواتین کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ دو روزہ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا گرچہ یہ اعلامیہ اطلاق کے اعتبار سے فریقین کے لیے لازمی نہیں ہے تاہم آئندہ مذاکرات کے لیے یہ فریقین کے لیے نکتہ آغاز ہوسکتا ہے، علاوہ ازیں اعلامیہ سے افغانستان میں جاری خونریزی کا فوری خاتمہ تو نہیں ہوسکتا تاہم اس سے طالبان اور امریکی سفاتکاروں کے درمیان امن کے ایک عمل کو فروغ دینے میں مدد ضرورملے گی۔