کیا حالیہ کارروائیاں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے عتاب سے بچا پائیں گی؟

 

منی لانڈرنگ اور غیرقانونی طور پر فنڈ اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے کثیر قومی ادارے )ایف اے ٹی ایف(   نے گزشتہ سال جون میں پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل کرلیا تھا اور اس سے یہ کہا تھا کہ ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کے فنڈ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے وہ سخت کارروائی کرے۔ اسے جنوری 2019 تک کا وقت بھی دیا گیا تھا کہ وہ یہ کام مکمل کرے لیکن اس کی طرف سے پھر بھی کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ پھر مئی 2019 تک کا بھی اسے موقع ملا لیکن ایسیا پیسفک گروپ کی رپورٹ کے مطابق اس نے اس وقت تک بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ لہٰذا اس سال یعنی جون 2019 میں ایف اے ٹی ایف کی جو پلینری میٹنگ ہوئی اس میں پاکستان کو سخت وارننگ دی گئی کہ وہ آئندہ اکتوبر سے پہلے پہلے ضروری قدم اٹھائے ورنہ اسے بلیک لسٹ میں شامل کیاجاسکتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے یہ وارننگ دیتے ہوئے اس بات کی نشاندہی بھی بڑے واضح لفظوں میں کردی ہے کہ 27 نکاتی ایکشن پلان میں سے کم از کم 25 نکات ایسے ہیں جن کو پاکستان نے یکسر نظرانداز کردیااور کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے دہشت گرد گروپوں کی منی لانڈرنگ کے تعلق سے کوئی قدغن لگ سکے۔ یاد رہے کہ پاکستان کو گزشتہ سال پہلی بار گرے لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی سال تک گرے لسٹ میں شامل تھا۔ 2015 تک وہ گرے لسٹ پر رہا۔ اس کے بعد گزشتہ سال دوبارہ شامل کیا گیا۔ اب جو اسے سخت وارننگ ملی ہے اور بلیک ل سٹ میں شامل کرنے کی دھمکی ایف اے ٹی ایف نے دی ہے تو تھوڑی سی سنجیدگی پاکستان نے ضرور دکھائی ہے۔ لیکن کیا صحیح معنوں میں یہ سنجیدگی برقرار رہے گی۔ اس پر خود پاکستان کے آزاد تجزیہ کار تھنک ٹینک اور سیکوریٹی اور دفاعی امور کے ماہرین غور کررہے ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ اس بار عالمی دباؤ کو نظرانداز کرنا پاکستان کے لئے مشکل ہوگا۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے انسداد دہشت گردی محکمے نے حافظ سعید اور ان کے نائب عبدالرحمن مکی کو قریب دو درجن مقدمات میں ماخوذ کیا ہے جن کا تعلق فنڈنگ اور منی لانڈرنگ سے ہے۔ شاید یہ قدم ایف اے ٹی ایف کے رخصت پذیر صدر مارشل بلنگسلی کے تبصرے کے پس منظر میں اٹھایا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے اپنی عہدبستگی کے ہر پہلو کو نظرانداز کیا اور ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا۔ پاکستان کے سنجیدہ حلقوں کا خیال ہے کہ اگر اس مرحلہ میں بھی پاکستان سے کوتاہی یا لاپرواہی ہوئی تو اسے یقیناً بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے اور اس طرح وہ شمالی کوریا اور ایران کے بعد تیسرا ملک ہوگا جو بلیک لسٹ میں شامل ہوگا۔ تجزیہ کار خالد احمد کا کہنا ہے کہ ماضی میں ممنوعہ گروپوں کو ایک پالیسی کے طور پر ہندوستان کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ سیاسی لیڈروں نے اس صورتحال کو بدلنے کی کوشش ضرور کی لیکن فوج کی، سیکوریٹی اور علاقائی حکمت عملی سے متعلق سوچ نے انہیں کامیاب نہ ہونے دیا۔ بعض پاکستانی تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ اب بھی پاکستانی فوج میں یہ سوچ موجود ہے کہ عالمی برادری اور ایف اے ٹی ایف جیسے اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاسکتی ہے۔ اس سوچ کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اب ایف اے ٹی ایف کے نئے صدر زیانگمن لیو ہیں جو چین سے تعلق رکھتے ہیں اور شاید پاکستانی حکام کو خوش فہمی ہو کہ اس طور پر چین پاکستان کی مدد کرسکتا ہے اور اسے بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچالے گا لیکن خالد احمد کا خیال ہے کہ چین خود بھی پاکستان سے کئی بار کہہ چکا ہے کہ جو بھی گروپ فنڈ اکٹھا کرنے اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں ان کے خلاف وہ سخت کارروائی کرے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین کے پاس پاکستان کے ان عناصر کے خلاف کافی ثبوت موجود ہیں۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ پاکستان کے ان گروپوں نے زنجیانگ صوبے کے ان مسلمانوں سے رابطے بھی قائم کررکھے ہیں جن سے حکومت چین کو، سیکوریٹی سے متعلق شدید خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے ڈائرکٹر عامر رانا کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل نہیں کیا تو شاید اس بار عالمی برادری آسانی سے نہیں بخشے گی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کم از کم اس معاملے میں ایف اے ٹی ایف کے نئے چینی صدر زیانگمن لیو  سے نہ تو ایران کوئی امید رکھ سکتا ہے اور نہ پاکستان۔ غرضیکہ بیشتر سنجیدہ پاکستانیوں کا یہی خیال ہے کہ اب پاکستان کے سامنے ایف اے ٹی ایف کی ہدایات پر عمل کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی متبادل نظر نہیں آتا۔