16.07.2019 جہاں نما

تکنیکی خامی کی نشاندہی کے سبب چندریان مشن موخر

ہندوستان نے چاند پر تحقیق سے متعلق اپنی مہم کسی تکنیکی خامی کے سبب موخر کر دی ہے۔ اس مہم کے لئے آئندہ تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائےگا۔اسی سے متعلق روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق آندھرا پردیش کے ضلع نیلور کے سری ہری کوٹہ کے ستیش دھون خلائی مرکز سے پیر کی علی الصبح دو بجکر 51 منٹ پر چاند پر روانگی کے لئے چھوڑے جانے والے جی ایس ایل وی راکٹ میں ایک تکنیکی خامی کی نشاندہی کے بعد پرواز سے تقریبا ایک گھنٹہ قبل چندریان 2 مشن کو موخر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں خلائی تحقیق کی ہندوستانی تنظیم اسرو کے حوالے سے مزید کہا گیاہے کہ جی ایس ایل وی راکٹ میں تکنیکی خامی دور کرنے کے بعد چندریان 2 مشن کے آغاز کی نئی تاریخ کا علان کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اسرو کے جاری کردہ بیان میں تکنیکی خامی کی نوعیت اور سنگینی سے متعلق وضاحت نہیں کی گئی ہے تاہم کہا گیا ہے کہ خامی کو دور کرنے میں چند دنوں کا وقت لگے گا لیکن آئندہ لانچ کی تاریخ چند مہینوں کے بعد کی ہی ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق کرایوجینک انجن لے جانے والےراکٹ کے بالائی حصے میں تکنیکی خرابی کی نشاندہی کی گئی جہاں آدھے گھنٹے  قبل ہی لکوئڈہائیڈروجن فیول بھرا گیا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ لانچنگ کے مقررہ وقت سے56 منٹ قبل تکنیکی خامی کی نشاندہی کے بعد الٹی گنتی کو روک دیا گیا اور میڈیا گیلری میں موجود مقامی اور غیر ملکی صحافیوں کو چندریان2 مشن کو احتیاط کے طور پر موخر کرنے کی اطلاع دی گئی ۔چندریان 2 مشن کے لانچ کا مشاہدہ کرنے کے لئے صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند بھی سری ہری کوٹہ میں موجود تھے۔ واضح رہے کہ چند ریان مشن کے لئے جی ایس ایل وی۔ایم کےIII راکٹ اسرو نے ملک میں تیار کیا ہے جو چار ہزار کلو گرام پے لوڈ زمین سے 35 ہزار کلو میٹر خلائی دوری پر واقع مدار جیو سنچرونس ٹرانسفر آربٹ(جی ٹی او)تک آسانی سے لے جا سکتا ہے۔ اب تک اسرو کے اس طاقت ور راکٹ نے دو کامیاب پرواز بھری ہیں۔ اس سلسلے میں جون 2017 میں جی ایس ایل وی۔ایم کےIIIڈیI نے تین ہزار کلو گرام سے زیادہ وزن کے مواصلاتی سیٹیلائٹ جی ایس اے ٹی 19 کو کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچایا تھا جبکہ گذشتہ برس نومبر میں جی ایس ایل وی-ایم کے III ڈی II کو لانچ کیا گیا تھا۔

ایران کے ساتھ نیو کلیائی معاہدے پر یوروپی یونین کی ہنگامی میٹنگ

یوروپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایران سے اصرار کیا ہے کہ اسے نیوکلیائی معاہدے سے متعقل اپنے عہد کا احترام کرنا چاہئے جبکہ ایران کا الزام ہے کہ یوروپی برادری کی جانب سے ایران کے ساتھ نیو کلیائی معاہدے کے معاملے میں انصاف نہیں کیا جا رہا ہے۔روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک رپورٹ کے مطابق یوروپی یونین کے وزرائے خارجہ نے پیر کو برسلز میں ایران کے ساتھ نیو کلیائی معاہدے سے متعلق صلاح و مشورے کے لئے ایک ہنگامی اجلاس کا اہتما م کیا جس میں برطانیہ نے الزام لگایا ہے کہ ایران کے ذریعہ نیو کلیائی معاہدے کی خلاف ورزی سے معاہدے کو بچانے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔ واضح رہے کہ ا مریکہ نے گزشتہ برس ایران کے ساتھ سال 2015 میں ہونے والے معاہدے سے اپنے آپ کو الگ کرنے کا اعلان کیا تھا اور ایران پر دوبارہ سے اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے جواب میں ایران نے یورینیم کی افزودگی کے لئے مقرر مقدار سے تجاوز کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے سبب خلیج میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ اس ضمن میں گذشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے وزرائے خارجہ سےٹیلی فون پر بات چیت کرنے والے برطانیہ کے وزیر خارجہ جناب جیریمی ہنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ نیو کلیائی معاہدہ ابھی تک برقرار ہے اور معاہدے کو برقرار رکھنے کےلئے کوششیں جاری رکھنی ہوں گی۔نیوکلیائی معاہدے پر ایران نے مشروط پاسداری کا اعلان کرتے ہوئے  کہا ہے کہ اگر یوروپی یونین اور امریکہ اپنے عہد اور ذمہ داری کو بخوبی انجام دیتے ہیں تو وہ بھی نیو کلیائی معاہدے پر مکمل ایمانداری اور دیانت داری سے عمل کریں گے۔روزنامہ اسٹیٹس مین کی ہی ایک دیگر رپورٹ کے مطابق ایران کی ایٹمی توانائی کی ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران دنیا کے دیگر بڑے ملکوں کے ساتھ سال2015 میں کئے گئے نیو کلیائی معاہدے پر عمل کرنے کے لئے تیار ہے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ نیو کلیائی معاہدے کے دوسرے فریق بھی اس معاہدے کا احترام کریں۔ رپورٹ میں ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ نیو کلیائی معاہدے کے معاملے اگر یوروپ اور امریکہ اپنی ذمہ داری کو نہیں نبھاتے ہیں تو معاہدے کے احترام سے متعلق ایران سے بھی امید نہیں کرنی چاہئے۔ ایران کی ایٹمی توانائی کی ایجنسی کے ترجمان بہروز کمال واندی نے اس معاملے میں کہا ہے کہ یوروپ اور امریکہ کےعمل پر ایران کےاس رد عمل کو خلاف ورزی سےتعبیرنہیں کیا جانا چاہئےبلکہ اسے فریقین کے مابین ڈپلومیسی کا ایک موقع سمجھا جانا چاہئے اورفریقین کو اپنی ذمہ داری اور فرائض کا احساس کرتے ہوئے پیش رفت کی راہ ہموار کرنی چاہئے۔

جماعت الدعوہ چیف حافظ سعید کی ضمانت میں توسیع

پاکستان کی ایک عدالت نے ممنوعہ تنظیم جماعت الدعوہ کے سر براہ حافظ سعید اور دیگر تین افراد کو مدرسے کے لئے زمین کے غیر قانونی استعمال کے ایک معاملے میں عبوری ضمانت دے دی ہے۔ روزنامہ ایشین ایج کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے50 ہزار روپے فی کس مچلکہ پر حافظ سعید ،حافظ مسعود،امیر حمزہ اور ملک ظفر کو 31 اگست تک عبوری ضمانت دی ہے۔ وکیل دفاع نے عدالت میں سماعت کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ ان کے موکلوں کی تنظیم کسی بھی زمین کا غیر قانونی استعمال نہیں کر رہی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ لا ہور ہائی کورٹ نے جماعت الدعوہ کے سر براہ حافظ سعید کی ایک عذر داری پر وفاقی حکومت ،پنجاب حکومت اورانسداد دہشت گردی ڈپارمنٹ کو نوٹس جاری کئے ہیں اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے معاملے میں انہیں دو ہفتوں کے دوران جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے ۔ رپورٹ میں انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ کے ترجمان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ممنوعہ تنظیم کے سر براہ حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کے خلاف لاہور گوجرانوالہ اور ملتان میں مختلف ٹرسٹ اور تنظیموں کے ذریعہ دہشت گردانہ سر گرمیوں کے لئے فنڈز جمع کرنے کے مختلف معاملات درج کئے گئے ہیں۔

پاکستان  اپنے نیو کلیائی اسلحہ اور میزائل ٹیکنا لوجی میں اضافے میں مصروف

پاکستان نے عالمی پیمانے پر نیو کلیائی اسلحہ کے پھیلاؤ پر گہری تشویش کے باوجود اپنے نیو کلیائی اسلحہ میں اضافے اور نیو کلیائی صلاحیت میں توسیع کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستانی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنے ملک میں شدید مالی بحران کے باوجود اپنی مسلح افواج میں اضافے، نیو کلیائی اسلحہ اور میزائل صلاحیت میں توسیع کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔وزارت دفاع نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے پاس موجودہ وقت میں نیو کلیائی وار ہیڈز کی تعداد150-140 ہے جس کی عالمی تجزیئے میں بھی تصدیق کی گئی ہے جبکہ ہندوستان کے نیو کلیائی وار ہیڈز کی تعداد130-140 ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیاہے کہ پاکستان کے ذریعے نیو کلیائی اسلحہ میں اضافے کا یہ سلسلہ چلتا رہا تو پاکستان کے پاس سال 2025 میں نیو کلیائی وار ہیڈز کی تعداد220 تا250 پہنچ جائے گی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے یورونیم کی افزودگی اور پلوٹونیم کی پیدوار میں بھی اضافہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان نے اپنی سرکاری اعانت سے جاری دہشت گردی کا ہندوستان کو نشانہ بنانا جاری رکھا ہے۔

افغانستان کے معاملے میں چین کا ہندوستان کو الگ کرنے سے انکار

چین نے افغانستان میں پائیدار امن کے قیام اور ملک کی تعمیر نو کے لئے عالمی کوششوں سے ہندوستان کو الگ کرنے سے انکار کیاہے اور کہا ہے کہ افغانستان کے معاملے میں چین تمام فریقین بشمول ہندوستان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔روزنامہ ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق چین نے پیر کو ہندوستان کو یقین دلایا ہےکہ وہ افغانستان میں امن کے معاملے میں عالمی کوششوں سے ہندستان کو الگ نہیں کر نا چاہتا ۔ واضح رہے کہ افغانستان میں امن کے قیام کی عالمی کوششوں کے تحت گذشتہ ہفتے چین کی راجدھانی بیجنگ میں ایک چار ملکی کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں میزبان چین ، روس ، امریکہ او رپاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان کے امور کے امریکی نمائندے جناب زلمے خلیل زاد نے قطر میں طالبان اور افغانستان کی حکومت کے نمائندوں کے درمیان میٹنگ میں شرکت کی تھی بعدازاں انہوں نے سہ ملکی میٹنگ میں روس اور چین کے نمائندوں سے بات چیت کی ۔ آخر میں انہوں نے چار ملکی کانفرنس میں حصہ لیا جس میں پاکستان نے بھی شرکت کی۔

سری لنکا نے ایسٹر پر دہشت گردانہ حملوں کے لئے ڈرگ مافیا کو ذمہ دار ٹھہرایا

سری لنکا نے ایسٹر کے موقع پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے لئے ڈرگ مافیاؤں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس سے قبل ان حملوں کے لئے اسلامی انتہا پسندوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق سری لنکا کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ملک میں ایسٹر کے موقع پر منشیات کے عالمی اسمگلروں نے یہ دہشت گردانہ حملے کرائے تھے ۔ یہ انکشاف ملک کے وزیر اعظم جناب میتری پالا سری سینا کے منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے سخت تدارکی اقدامات کے دوران کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ موجودہ وقت میں سری لنکا میں ڈرگ مافیا کے خلاف بڑے پیمانے کی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسٹر کے موقع پر گرجا گھر اور ہوٹلوں میں دہشت گردانہ حملوں کے لئے مقامی اور عالمی دہشت گرد گروپوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا تا ہم جناب میتری پالا سری سینا کا اب کہنا ہے کہ یہ کام انٹر نیشنل ڈرگ ڈیلروں کا ہے جو کہ ملک میں منشیات کے خلاف حکومت کی کارروائی پر حکومت کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتےتھے۔