17.07.2019 جہاں نما

پاکستان کا اپنی فضائی حدود میں پرواز سے متعلق پابندی ختم کرنے کا اعلان

۔ پاکستان نے اپنی فضائی حدود میں تجارتی اور مسافر بردار طیاروں پر عائد پابندی کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے سبب اب ہندوستانی طیاروں کو طویل راستہ اختیار نہیں کرنا پڑےگا۔ اسی سے متعلق روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے اس اعلان کے ساتھ ہی پاکستان کی فضائی حدود کے غیر فوجی طیاروں کے ذریعے استعمال کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے بالاکوٹ میں جیش محمد کے دہشت گردی کے کیمپوں پر ہندوستان کے فضائی حملوں کے بعد اپنی فضائی حدود میں دیگر ملکوں کے طیاروں کی پرواز پر پابندی عائد کردی تھی۔ پاکستان کے ذریعے پابندی ختم کرنے کے بعد پاکستان کے فضائی حدود کے راستے مسافت طے کرنے والی پہلی پرواز ایئر انڈیا کی اے آئی 184 تھی، جو سان فرانسسکو سے دہلی پہنچی۔ رپورٹ  میں متعلقہ پرواز کے کیپٹن واسدیو سنگھ جسروٹیا کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جیسے ہی ان کا طیارہ مغربی فضائی سرحد سے پاکستان کی فضائی حدود کےقریب پہنچا تو انہیں کراچی ایئر ٹریفک کنٹرولر(اے ٹی سی ) سے پیغام موصول ہوا کہ وہ اپنا طیارہ پاکستانی فضائی حدود کا استعمال کرتے ہوئے راست طریقے سے دہلی لے جاسکتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال پر عائد پابندی کے خاتمے کے بعد اب مسافر اور دیگر تجارتی نوعیت کے طیاروں کو دبئی، امریکہ، کناڈا اور یوروپی ممالک کےلئے طویل راستہ اختیار نہیں کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ پاکستانی فضائی حدود پر پرواز کی پابندی کے سبب طیاروں کو ایندھن اور اضافی عملے کی مد میں زیادہ خرچ کرنا پڑ رہا تھا، جس کے سبب فضائی کرائے میں اضافہ ہوگیا تھا، لیکن پاکستانی فضائی حدود کے استعمال پر عائد پابندی ختم ہونے کے ساتھ ہوائی کرائے کم ہونے شروع ہوگئے ہیں اور ان میں 35 تا 40 فیصد کمی متوقع ہے۔

ایک دیگر  روزناہ ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی صحافیوں نے ملک میں طاقتور سیکورٹی سروسز کے ذریعہ پریس کی آزادی پر قدغن کے خلاف ملک گیر پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا۔ پاکستان کے صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کی صحافت کو موجودہ وقت میں ملک کی تاریخ کے بدترین دور کا سامنا ہے، ا س لیے پاکستانی صحافیوں نے ملک کی صحافت پر خاموش سینسر شپ کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صحافیوں کی یونین کے صدر افضل بٹ نے کہا ہے کہ حکومتی سینسر شپ کے خلاف صحافیوں کا منگل کا احتجاج اس تحریک کا آغاز ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جرنلسٹس یونین نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی فوج صحافتی اداروں کے کام کاج میں مداخلت کررہی ہے اور صحافیوں پر آزادانہ خبر نگاری نہ کرنے اور اپنی مرضی کی کووریج کےلئے دباؤ ڈال رہی ہے، جبکہ پاکستان کی نو منتخب حکومت نے اخبارات اور میڈیا کےلئےاشتہارات سے متعلق اپنے بجٹ میں تخفیف کردی ہے، جس سے صحافتی اداروں کو مالی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان کے صحافیوں نے ملک گیر پیمانے پر منگل کو جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران اپنے بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھیں اور میڈیا میں کام کرنے والوں کو در پیش مالی دشواریوں اور حکومت کی جانب سے غیر اعلانیہ سینسر کو ختم کرنے کے مطالبات والے بینر اٹھائے۔ صحافیوں نے اظہا رائے کی آزادی پر پابندی کےلئے میڈیا سے متعلق قوانین کے غلط استعمال کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ جناب افضل بٹ نے مزید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی صحافیوں کو کئی محاذ پر جدوجہد کا سامنا ہے اور ملک میں سب سے چھوٹے درجے کے ورکنگ جرنلسٹس کو اپنے ذریعہ معاش کے خاتمے کا سامنا ہے، اسی سلسلے میں تین ہزار صحافی اپنی ملازمت سے محروم ہوچکے ہیں۔

کلبھوشن جادھو کے معاملے پر عالمی عدالت کا فیصلہ آج

۔ ہندوستان کے سابق بحریہ افسر کلبھوشن جادھو کے معاملے میں ہالینڈ کے ہیگ شہر میں واقع انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ؍آئی سی جے بدھ کو اپنا اہم فیصلہ سنائے گا، جس کا ہندوستان اور پاکستان دونوں کو ہی بے صبری سے انتظار ہے۔ اسی سے متعلق روزنامہ ایشین ایج کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کو اس معاملے میں عالمی عدالت سے انصاف ملنے کی پوری امید ہے۔ واضح رہے کہ کلبھوشن جادھو پاکستان کی حراست میں ہیں اور پاکستان نے کلبھوشن جادھو تک سفارتی رسائی سے متعلق ہندوستان کی درخواست کو مسلسل نظر انداز کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے 10 ؍اپریل 2017ء کو جاسوسی اور تخریب کاری کے الزام میں کلبھوشن جادھو کو موت کی سزا سنائی تھی، جبکہ ہندوستان نے دعویٰ کیا تھا کہ مسٹر جادھو کو ایران سے اسی وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ تجارت کے سلسلے میں ایران گئے ہوئے تھے۔ ہندوستان نے 8؍مئی 2017 ءکو اس معاملے کو عالمی عدالت میں پیش کیا تھا اور اس معاملے میں ہندوستان کو 18 مئی 2017 ءکو اس و قت ایک بڑی قانونی کامیابی حاصل ہوئی جب عالمی عدالت نے اپنے حتمی فیصلے تک مسٹر جادھو کے خلاف پاکستان کے ذریعہ سزا پر عمل کرنے پر پابندی  عایدکردی تھی۔

ٹرمپ کے تبصرے پر امریکی سینٹ کی خاتون اراکین کا تیکھا رد عمل، مواخذے کا مطالبہ

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی چار خاتون اراکین نے اپنے خلاف نسل پرستانہ تبصرے پر تیکھے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی سے متعلق روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ جہاں ایک جانب چار ڈیموکریٹ خاتون اراکین کے خلاف اپنے تبصرے پر قائم ہیں وہیں خاتون اراکین نے صدر امریکہ کے تبصرے کی مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف مواخذے کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر امریکہ کا کہنا ہے کہ چار خاتون اراکین کے خلاف ان کا تبصرہ درست ہے اور اس معاملے میں متعدد افراد ان سے اتفاق کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ صدر امریکہ نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں حزب اختلاف کی چار خاتون اراکین سے کہا تھا کہ اگر وہ امریکہ میں مطمئن نہیں ہیں تو وہ اپنے متعلقہ شکستہ اور جرائم سے متاثرہ ممالک واپس جاسکتی ہیں، ان کے اس بیان پر امریکہ میں بڑے پیمانے پر تنقید ہوئی تھی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان چار خاتون اراکین نے ایک پریس کانفرنس میں صدر امریکہ کے بیان کی مذمت کی۔ ان خواتین نے صدر امریکہ کو پریس کانفرنس میں صدر کے بجائے ہمارے وائٹ ہاؤس پر قابض شخص کہہ کر مخاطب کیا۔

ابنائے ہرمز میں ٹینکر کی گمشدگی پر کشیدگی میں اضافہ

۔ ابنائے ہرمز میں ایک تیل ٹینکر کی گمشدگی کے معاملے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اسی سے متعلق روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والا ایک آئل ٹینکر ہفتہ کی شب سے لاپتہ ہے اور اس کے بارے میں ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ رپورٹ میں موصولہ اطلاعات کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ پنامہ کا پرچم بردار آئل ٹینکر ابنائے ہرمز میں موجود تھا، جہاں سے وہ ایران کی بحری حدود کی جانب جاتا ہوا دکھائی دیا، لیکن اس کے بعد اس کی کوئی جانکاری نہیں ملی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ ہفتہ کی رات میں بحری ٹینکر کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا۔ تاہم اس سلسلے میں ملی آخری جانکاری کے مطابق اس آئل ٹینکر کا رخ ایران کی جانب تھا۔ واضح رہے کہ ایران اور دنیا کے دیگر بڑے ممالک کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے کے معاملے میں بحران کے بعد خلیج فارس کے خطے کو مرکزی حیثٰت حاصل ہوگئی تھی، جہاں ماضی میں کئی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ واضح رہے کہ نیوکلیائی معاہدے سے امریکہ کے ذریعہ یکطرفہ طور پر اپنے آپ کو علاحدہ کرنے کے بعد ایران نے مختلف طریقوں سے دباؤ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔

ایران کا اپنےنیوکلیائی عہدپرعمل نہ کرنے کا اعلان

۔ ایران نے نیو کلیائی معاہدے کے تعلق سے اپنے عہد پر قائم رہنے سے متعلق یوروپی ممالک کے مطالبات کو مسترد کررتے ہوئے عہد شکنی کا اعادہ کیا ہے۔ روزنامہ ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے منگل کو اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ مختلف ممالک کے ساتھ سال 2015 کے نیوکلیائی معاہدے کے تعلق سے ایران اب اپنے کسی بھی عہد کا پابند نہیں ہے۔ آیتہ اللہ خامنہ ای نے نیوکلیائی معاہدے کے فریقوں یوروپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے صرف ایک فریق کو عہد پر پابندی کےلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے کہا کہ ایران نے اب نیوکلیائی معاہدے کے تعلق سے اپنے عہد پر عمل درآمد نہ کرنے کی شروعات کی ہے اور یقینی طور پر یہ عمل جاری رہے گا۔ 

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے خطاب کے کچھ حصے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے۔ واضح رہے کہ نیوکلیائی معاہدے سے امریکہ کی علاحدگی کے بعد کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جہاں ایران نے کہا کہ اس نے نیوکلیائی معاہدے کی رو سے یورونیم کی افزدگی کےلئےمتعین شرح تین اعشاریہ چھ سات فیصد کی حد سے تجاوز کرلیا ہے۔

چین کا سری لنکا کو جنگی جہاز کا تحفہ

۔ چین نے ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کےلئے ایشیا کے چھوٹے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنے شروع کردیےہیں، اس سلسلے میں اس نے سری لنکا کا پہلا انتخاب کیا ہے۔ اسی سے متعلق روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق چین نے بحر ہند میں اسٹریٹجک اعتبار سے اہم سری لنکا کے ساتھ اپنے گہرے فوجی روابط کی علامت کے طور پر تحفے میں ایک جنگی جہاز دیا ہے۔ علاوہ ازیں ریلوے سے متعلق مختلف ساز و سامان تیار کرنے والی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ سری لنکا کو مختلف قسم کی ڈیزل ٹرینیں جلد ہی دی جائیں گی۔ چین نے سری لنکا کو تحفے میں جو پی 625 جنگی جہاز دیا ہے وہ گزشتہ ہفتے کولمبو میں سری لنکا کے حکام کے سپرد کیا جاچکا ہے۔