موضوع: دہشت گرد سرغنہ حافظ سعید کو عبوری ضمانت

خبر ہے کہ پاکستان کے شہر لاہور میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے کالعدم جماعت الدعوہ کے سرغنہ حافظ سعید اور تین دوسرے لوگوں کو پیشگی ضمانت دے دی ہے۔ اس معاملے کا تعلق جماعت الدعوہ کی جانب سے اپنے مدرسہ کیلئے زمین کا غیر قانونی استعمال اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے ہے۔ عدالت نے جن لوگوں کو عبوری ضمانت دی ہے، ان میں حافظ سعید، اس کے بھائی حافظ مسعود اور لشکر طیبہ کے دو شریک بانیان، امیر حمزہ اور ملک ظفر کے نام شامل ہیں۔ حمزہ اور ظفر دونوں کے پاس جماعت الدعوہ کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کی ذمہ داری تھی۔غیر مصدقہ خبروں کے مطابق حمزہ نے ایک سال قبل لشکر طیبہ سے الگ ہوکر خود کی دہشت گرد تنظیم بنالی تھی، جس کا نام اس نے جیش منقفہ رکھا۔

قابل ذکر ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے محکمہ نے جولائی کے پہلے ہفتے میں جماعت الدعوہ کے رہنماؤں کے خلاف لاہور، گجرانوالہ، ملتان، فیصل آباد اور سرگودہ میں 23 ایف آئی آر درج کرائیں۔ ان رپورٹوں میں کالعدم تنظیم کے چار بڑے رہنماؤں سمیت اس کے 13 اہلکار کے نام شامل ہیں۔ مئی میں سعید کے برادر نسبتی عبدالرحمن مکی اور ایک دوسرے لیڈر محمد شہباز کوپولیس نے اپنی حراست میں لیا تھا۔

نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی جانب سے جماعت الدعوہ اور اس کی فلاحی تنظیم فلاح انسانیت پر پابندی عائد کرنے کے بعد انسدا دہشت گردی کے محکمہ نے جو تحقیقات کیں، ان سے پتہ چلا کہ جماعت الدعوہ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن جیسی رفاحی تنظیموں اور ال انفال دعوۃ الارشاد اور معاذ بن جبل جیسے مختلف ٹرسٹوں کے ذریعہ فنڈ اکٹھا کر کے ان کا استعمال دہشت گردی کی مالی معاونت میں کررہی تھی، جبکہ اس بات کا دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت نے ان تمام تنظیموں اور ٹرسٹوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے جماعت الدعوہ کے تین اعلیٰ رہنماؤں کو ضمانت دیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اس دہشت گرد تنظیم کی قیادت کو اس کی دہشت گردانہ کارروائیوں کیلئے سزا دلانے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ ضمانت کی منظوری یہ بات بھی ثابت کرتی ہے کہ دہشت گرد عناصر سے نپٹنے میں پاکستان کے مختلف ادارے الگ الگ انداز سے کام کررہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے پہلی بار اس طرح کی سطحی کارروائی نہیں کی ہے، اس سے پہلے بھی حافظ سعید کو دس ماہ تک گھر میں نظر بند رہنے کے بعد لاہور کی ایک عدالت سے رہائی مل گئی تھی۔ سعید کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ سرکاری ایجنسیاں اسے یا اس کی تنظیم کو زیادہ نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس طرح کی تمام کارروائیاں یہ ثابت کرنے کیلئے کی جارہی ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروپوں کے خلاف سخت کارروائی کررہا ہے۔ ایسی کارروائیوں کی تشہیر بھی خوب کی جارہی ہے، تاکہ بین الاقوامی برداری کو متاثر کیا جاسکے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس طرح کی تمام کارروائیاں بین الاقوامی برادری کے دباؤ میں کررہا ہے۔ غور طلب ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کیلئے ایک ایکشن پلان دیا تھا، اور کہا تھا کہ ایک معینہ مدت کے اندر وہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کرے، لیکن اسلام آباد ایسا کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا گزشتہ ماہ امریکہ کے شہر اور لینڈو میں اپنی جائزہ میٹنگ میں ٹاسک فورس نے پاکستان کی اس ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سال اکتوبر تک وہ ایکشن پلان پرکارروائی مکمل کرے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے، اس لئے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف سخت کارروائی نہایت ضروری ہے، اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اسے ٹاسک فورس کی بلیک لسٹ میں شامل کرلیا جائے گا اور ایسی صورت میں اسے مزید مشکلات کا سامنا ہوگا۔ان تمام کارروائیوں کے پیچھے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے دباؤ کے علاوہ وزیر اعظم عمران خان کا دورۂ امریکہ بھی ہے۔ وہ اس ہفتے کے اواخر میں واشنگٹن جانے والے ہیں، جہاں وہ صدر ڈونل ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستانی فوج، آئی ایس آئی اور لشکر طیبہ جیسے دہشت گرد گروپوں کے درمیان رشتے اتنے مضبوط ہیں کہ حکومت کیلئے حافظ سعید جیسے عالمی دہشت گرد کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا مشکل ہورہاہے۔