08.08.2019 جہاں نما

پاکستان نے ہندوستانی ہائی کمشنر کو ملک چھورنے کی دی ہدایت، دو طرفہ تجارت بھی معطل  

۔ جموں و کشمیر سے متعلق حکومت ہند کے حالیہ فیصلے پر بطور رد عمل پاکستان نے اسلام آباد میں ہندوستان کے ہائی کمشنر اجے بساریا سے ملک چھوڑ کر واپس ہندوستان جانے کیلئے کہا ہے ۔ اس کے علاوہ اسلام آباد نے نئی دہلی کے ساتھ تمام تجارتی رشتے بھی معطل کردیئے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندو تحریر کرتا ہے کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق حکومت ہند سے اسلام آباد میں اپنے ہائی کمشنر کو واپس بلانے کیلئے کہا گیا ہے۔ حکومت ہند کو اس بات کی بھی اطلاع دے دی گئی ہے کہ پاکستان اپنے نامزد ہائی کمشنر کو نئی دہلی نہیں بھیجے گا۔ کل اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کے دفتر میں قومی سلامتی کمیٹی کی ایک میٹنگ کے دوران یہ تمام فیصلے لئے گئے۔ پارلیمنٹ کے ایک مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان فیصلوں کا اعلان کیا۔ کمیٹی نے دو طرفہ رشتوں کا از سر نو جائزہ لینے اور مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل سمیت اقوام متحدہ میں اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا۔ حکمراں پاکستان تحریک انصاف نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ وزیراعظم نے 14 اگست کو پاکستان کا یوم آزادی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منانے جبکہ 15 اگست کو یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا۔ ٹوئیٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیراعظم نے مسلح افواج کو چوکنّا رہنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ اس میٹنگ میں وزیر خارجہ، وزیر دفاع، فوج کے سربراہ ، آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل ، آئی ایس پی آر کے ڈی جی اور فوج اور سول انتظامیہ کے بہت سے سینئر حکام نے شرکت کی۔ اسی دوران قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے حالات کا جائزہ لینے کیلئے دہشت گردی سے متاثرہ جنوبی کشمیر کا بدھ کے روز دورہ کیا۔ انہوں نے مقامی لوگوں کو یقین دلایا کہ ان کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ایشین ایج لکھتا ہے کہ جناب ڈوبھال نے شوپیاں میں کچھ مقامی لوگوں کے ساتھ ایک بند دوکان کے سامنے بیٹھ کر کھانا بھی کھایا۔ انہوں نے ان لوگوں کو یقین دلایا کہ سب کچھ ٹھیک رہے گا۔ انہوں نے ان لوگوں کے ساتھ سیکیورٹی کی صورتحال اور حکومت کے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے فیصلہ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ادھر وزیراعظم نریندر مودی نے کابینہ کے اپنے ساتھیوں سے کہا ہے کہ جموں و کشمیر معاملہ میں پارٹی کی کامیابی پر بغلیں بجانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے ۔ امید ہے کہ وزیراعظم جموں و کشمیر کے بارے میں آج شام 8 بجے قوم سے خطاب کریں گے۔ 

۔ دہشت گردی کی مالی معاونت ، حافظ سعید کے خلاف فرد جرم داخل 

۔ پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے محکمہ نے لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کے خلاف دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے کیلئے کل عدالت میں باقاعدہ فرد جرم داخل کردی۔ اس خبر کو بیشتر اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے مطابق 2008 کے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ سعید کو پنجاب کے شہر گجرنوالہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر کے فرد جرم داخل کی گئی ۔ انسداد دہشت گردی محکمہ کے ایک افسر نے بتایا کہ داخل کردہ فرد جرم میں حافظ سعید پر دہشت گردی کی معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ سعید کو 17جولائی کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ لاہور سے گجرانوالا جا رہا تھا۔ وہ اس وقت  لاہور کی کوٹ لکھ پت جیل میں قید ہے۔حکام نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ سعید کو رہا کیا جا رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے دباؤ کے بعد سعید کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 

۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت،

امریکہ کا پاکستان کو انتباہ 

۔ امریکہ نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے کلعدم تنظیموں اور ان کے رہنماؤں کے خلاف ٹھوس اور اطمینان بخش کارروائی کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ ممالک اس فہرست سے نکلنے کیلئے اس کی مدد کر سکیں۔ اس خبر کو بیشتر اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ روزنامہ دی اسٹیٹس مین کے مطابق امریکہ کا ایک وفد امریکی ریاست فلوریڈا میں جون میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کئے گئے اقدامات کی تفصیل پر بات چیت کرنے اور اس سلسلہ میں اسلام آباد کی جانب سے کی گئی مزید کارروائیوں کا جائزہ لینے کیلئے اسلام آباد میں تھا۔ اس وفد میں امریکہ کی جنوبی ایشیاء معاملات کی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلس ، امریکی وزارت خزانہ کے اہلکار اسکاٹ ریمبرانڈٹ،گرانٹ وکرر ڈ،یوڈ گلبریتھ اور دیگر شامل تھے جنہوں نے پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات کی۔ جناب حفیظ نے پاکستان کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے بارے میں وفد کو آگاہ کیا۔ میٹنگ کے بعد جاری ایک اعلامیہ میں بتایا گیا کہ امریکی حکام نے پاکستانی وفد کی بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ معاشی اصلاحات کی کوششوں میں مدد جاری رکھے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کاروبار کی ترقی کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ جناب حفیظ نے امریکی وفد کو یقین دلایا تھا کہ حکومت پاکستان ٹاسک فورس کےایکشن پلان کی تکمیل کیلئے تما م ممکنہ کوششیں کر رہی ہے۔ 

۔ امن مذاکرات کے درمیان کابل میں خود کش حملہ ، 14 ہلاک،145 زخمی  

۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں کل ایک پولیس اسٹیشن پر کئے جانے والے دہشت گردانہ حملے میں 14افراد ہلاک اور 145 زخمی ہو گئے ۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی انڈین ایکسپریس تحریر کرتا ہے کہ اس حملہ کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔ اخبار کے مطابق اگرچہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں تاہم افغانستان میں تشدد میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ایسی خبریں موصول ہوئی تھیں کہ دونوں کے درمیان اختلافات دور ہو گئے ہیں اور وہ جلد ہی کوئی تاریخی معاہدہ کرنے والے ہیں۔ امریکی فوجوں کی واپسی کے بدلے میں طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کسی بھی شدت پسند گروپ کو کسی دوسرے پر حملہ کرنے کیلئے افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ طالبان نے ایک بیان میں کہا کہ اس حملہ میں سپاہیوں کی بھرتی کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  اس حملہ میں سپاہیوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک یا زخمی ہوئی ہے بعد میں امور داخلہ کے نائب وزیر خوشال سادات نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ حملے میں 14 افراد ہلاک اور 145 زخمی ہوئے۔مہلوکین میں پولیس کے چار اہلکار جبکہ باقی شہری ہیں ۔ زخمی ہونے والوں میں 92 شہری ہیں ۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی نے بتایا کہ خودکش حملہ آور نے پولیس اسٹیشن کی دیوار سے بارود سے بھری کار ٹکرا دی جس کے نتیجہ میں 14 افراد ہلاک اور 145 دوسرے زخمی ہوگئے ۔ طالبان نے منگل کے روز 28 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ وہ انتخابی ریلیوں پر حملے کرتے رہیں گے۔ 

۔ چین نے کہا،ہانگ کانگ میں پُر تشدد احتجاج حوالگی کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا بحران

۔ چین نے کہا ہے کہ 1997 میں برطانیہ سےہانگ کانگ کی حوالگی کے بعد سے اس شہر کو اس وقت سخت ترین صورتحال کا سامنا ہے۔ اس خبر کو روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے اخبار تحریر کرتا ہے کہ ہانگ کانگ میں ہفتوں سے جاری پُر تشدد مظاہروں کے بعد چین اب غور کر رہا ہے کہ ان مظاہروں پر قابو پانے کیلئے اسے کیا کرنا چاہئے۔ہانگ کانگ معاملات کے ذمہ دار بیجنگ کے کابینہ دفتر کے سربراہ زینگ شاؤنگ نے ہانگ کانگ سے جڑے سرحدی شہر شینزین میں ایک سیمنارمیں کہا کہ مظاہرے دن بدن پرتشدد ہوتے جا رہے ہیں جن کا سماج پر برااثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا جب سے ہانگ کانگ چین کے حوالے کیا گیا ہے تب سے لے کر اب تک یہ سب سے سنگین صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیجنگ کے حکام کو اس صورتحال پر کافی تشویش ہے اور وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آئندہ کیا قدم اٹھانا چاہئے۔ ابھی تک چین نے اس صورتحال میں بظاہر مداخلت نہیں کی ہے۔ تاہم چینی اخباروں میں اس کی مذمت ضرور کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس وقت جو کچھ بھی ہانگ کانگ میں ہو رہا ہے اس کے پیچھے امریکہ ، تائیوان اور دوسرے ملکوں کے سیاستدانوں کا ہاتھ ہے۔