09.08.2019 جہاں نما

وزیراعظم نریندرمودی کا جموں وکشمیر کے عوام سے جلد انتخابات کرانے اور ریاستی اسمبلی کی بحال کرنے کا وعدہ

وزیراعظم نریندرمودی نے کل دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد قوم سے خطاب کیا۔ آج سبھی اخباروں نے ان کے اس خطاب سے متعلق رپورٹوں کو صفحہ اول پر شائع کیا ہے۔ روزنامہ ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نریندرمودی نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ جموںوکشمیر زیادہ عرصے تک مرکز کے زیر انتظام علاقہ نہیں رہے گا اور خطے میں ترقی کی رفتار تیز ہوتے ہی یہاں ایک ریاستی حکومت قائم کی جائے گی۔ پارلیمنٹ میں جموں وکشمیر کو مرکز کے زیرانتظام دو الگ الگ خطوں میں تبدیل کیے جانے کی پارلیمنٹ سے منظوری کے دو دن بعد وزیر اعظم نے قوم کے نام اپنے خطاب میں کہا کہ دفعہ 370 کو ختم کرنے اور جموں وکشمیر کو مرکز کے زیرانتظام لانے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں کئی دہائیوں سے جاری خاندانی سیاست نے نوجوانوں کو قیادت کے مواقع سے محروم رکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں جلد ہی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں گے ، آپ اپنے لوگوں میں سے ہی اپنے نمائندےچنیں گے اور جلد ہی ریاست میں ایک ریاستی اسمبلی ہوگی، ایک کابینہ اور ایک وزیراعلی ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دفعہ 370 کو دہشت گردی پھیلانے کے  وسیلے کے طور پر استعمال کیا۔42 ہزار سے زیادہ لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جموں وکشمیر کے عوام ایک نئی قوت اور نئی امید کے ساتھ علاحدگی پسندی کو شکست دیں گے۔جناب نریندر مودی نے کہا کہ دفعہ 370 کی وجہ سے ہی جموں وکشمیر کے لوگوں کو ایسے قوانین سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے جو پورے ملک کے لیے مرتب کیے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو تعلیم کا حق نہیں مل سکا، یہاں کی لڑکیوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا اور یہاں کے دلتوں اور اقلیتوں کو بھی ان قوانین سے فائدہ نہیں پہنچا جو ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تھے۔

 پاکستان تعلقات سے متعلق  اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے، بھارت کا مشورہ

روزنامہ ہندو نے ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق امورخارجہ کی وزارت نے کہا ہے کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کی سطح میں کمی کرنے اور تجارت کو معطل کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی کارروائی کا مقصد دنیا کے سامنے ایک پریشان کن صورت حال پیش کرنا ہے۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا بھارت کا ایک اندرونی معاملہ اور اس کا مقصد وہاں کے عوام کے لیے ترقی اور خوش حالی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ وزارت نے مزید کہا ہے کہ پاکستان نے عدم اطمینان کو فروغ دے کر اور سرحد پار کی دہشت گردی کو منصفانہ قرار دے کر یہاں ترقی کی کمی کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت پاکستان کی طرف سے اعلان کردہ اقدامات پر افسوس کا اظہار کرتی ہے اور ہم پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ مواصلات کے معمول کے ذرائع کو بحال کرنے کے لیے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔روزنامہ ایشن ایج کی ایک خبر کے مطابق پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کی سطح میں کمی کرنے اور سرحدی تجارت معطل کرنے کے ایک دن بعد ڈرامائی انداز میں جمعرات کو سمجھوتہ ایکسپریس کو واگہہ بارڈر پر ہی روک دیا۔ان کے اس اقدام سے ٹرین میں سوار 110 مسافر پھنسے رہ گئے۔ پاکستانی حکام نے جمعرات کو اٹاری سرحد پارکرنے سے انکار کردیا۔یہ ٹرین دوپہر 12 بجکر 30 منٹ پر اٹاری پہنچنی تھی لیکن یہ ٹرین بھارتی ریلوے کےذریعے بھیجے گئے انجن کے ساتھ شام سواپانچ بجے ہی اٹاری پہنچ سکی۔اس کے بعد ہندوستانی انجن اور اس کے ڈرائیور نے ہی ہندوستان سے سمجھوتہ ایکسپریس کو واپس واگہہ بارڈر تک پہنچایا جس میں تقریبا 70 مسافر سوار تھے۔ہندوستانی ریلوے کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرین خدمات معطل نہیں کی گئی ہیں لیکن دوسری جانب پاکستان کے ریلوے کے وزیر شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ہم سمجھوتہ ایکسپریس کو مستقل طورپر بند کر رہے ہیں۔

 علاحدگی پسندی کو فروغ دینے کا پاکستانی ایجنڈا بے نقاب ،روزنامہ ٹریبیون کا اداریہ

روزنامہ ٹری بیون نے دفعہ 370 کی منسوخی پر پاکستان کے رد عمل کو اپنے اداریے کا موضوع بنایا ہے۔اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو ملک چھوڑ کر جانے کیلئے کہاہے، باہمی تجارت معطل کردی، سمجھوتہ ایکسپریس کو روک دیا ہے اور اپنے ہائی کمشنر کو دلی نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ پندرہ اگست کو یوم سیاہ منانے، اپنے یوم آزادی ، 14 اگست کو کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی کے طورپر منانے جیسے اعلان کیے ہیں۔یہ تمام فیصلے وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں قومی سلامتی کونسل کی میٹنگ میں کیے گئے ، جس میں فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ،آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے شرکت کی۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے واضح طور پر کہا ہے کہ جموں وکشمیر کی تنظیم نو خالصتا ایک اندرونی معاملہ ہے۔اس کے باوجود پاکستان نے ماحول کو خراب کرتے ہوئے اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے کی دھمکی دی ہے اور یہاں تک کہ انہوں نے جنگ کی بات بھی کی ہے۔اخبار کا خیال ہے کہ ہندوستان کے اندرونی معاملے پر پاکستان کا یہ رویہ درست نہیں ہے۔ساتھ ہی اس کا کہنا ہے کہ پاکستان نے 1963 میں پاکستانی قبضے والے کشمیر کا ایک بڑا حصہ کسی باہمی یا بین الاقوامی سمجھوتے کے بغیر چین کو دے دیا تھا۔اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ان کارروائیوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ وادی میں اسلامی علاحدگی پسندوں کو تقویت دے کر درپردہ لڑائی لڑرہا ہے۔دوسری جانب پاکستان کے اس رد عمل سے اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ اس کا ایجنڈا علیحدگی پسندوں کو فروغ دینا ہے۔

 پاکستان کی سابق وزیراعظم کی بیٹی مریم منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار

روزنامہ انڈین ایکسپریس نے عالمی خبروں کے اپنے صفحہ پر یہ خبر شائع کی ہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کو کالے دھن کو جائز بنانے کے ایک معاملے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔خبر کے مطابق انہیں کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ جمعرات کو اپنے والدسے ملنے جارہی تھیں۔انسداد بدعنوانی ایجنسی نے 31 جولائی کوپاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز سے منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں پوچھ تاچھ کی تھی۔قومی احتساب بیور کے ذریعہ جاری کی گئی ایک ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مریم اور ان کے بھانجے یوسف عباس کو چودھری شوگر ملس معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔45 سالہ مریم کو قومی احتساب بیورو کے صدر دفتر لے جایا گیاجہاں انہیں حراست میں رکھا گیا ہے۔روزنامہ ڈان کی ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق مریم اور عباس کو لاہور میں احتساب بیورو کی عدالت میں ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے گا۔

 ایران نے خلیج میں بحری سیکورٹی پر کانفرنس منعقد کرنے کیلئے بحرین پر نکتہ چینی

ہندوستان ٹائمز نے ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے،جس کے مطابق ایران نے خلیج میں بحری سیکورٹی پر ایک کانفرنس کرنے اور حساس بحری حدود میں تیل ٹینکروں پر حملہ کرنے کے لیے تہران کو مورد الزام ٹھہرانے پر بحرین کی سخت نکتہ چینی کی ہے۔دوسری جانب بحرین کا کہنا ہے کہ 31 جولائی کی میٹنگ موجودہ علاقائی صورت حال پر تبادلۂ خیال کے لیے منعقد کی گئی تھی۔بحرین نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کانفرنس میں کس کس نے شرکت کی لیکن برطانیہ کے اخبار ‘دی گارجین’ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کانفرنس میں شرکت کے لیے برطانیہ کو مدعو کیا گیا تھااور امریکہ و دیگر یوروپی ممالک نے بھی شرکت کی تھی۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بحرین کی حکومت کو دونوں ملکوں کے یکساں دشمنوں کو سہولت نہیں دینی چاہیے۔

 شام نے ترکی اورامریکہ کے منصوبے کو کیا  مسترد

اخبار اسٹیٹس مین نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق شام نے کہا ہے کہ اس نے امریکہ اور ترکی کے مجوزہ منصوبے کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ترکی اور امریکہ نے بدھ کے روز شام میں واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان کشیدگی کو دور کرنے کے لیے ایک محفوظ زون قائم کرنے پررضامندی ظاہر کی تھیں۔اگرچہ اس محفوظ زون کے سائزاور اس کے تحفظ کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں دی گئی تھی۔ دوسری جانب شام نے خودساختہ محفوظ زون کے بارے میں امریکہ اور ترکی کے درمیان ہوئے معاہدے کو پوری طرح مسترد کردیا ہے۔ترکی شام میں 2016 اور 2018 میں کردوں کے خلاف پہلے ہی دو کارروائیاں کرچکا ہےجس میں آفرین میں ترکی فوجیوں کی تعیناتی پر الزامات عائد کیے گئےتھے کہ اس نے علاقے پرقبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔دوسری جانب دمشق کا کہنا ہے کہ مجوزہ بفرزون سے ترکی کے توسیع پسندانہ عزائم میں اضافہ ہوگا۔اس نے انقرہ اور واشنگٹن دونوں پر شام کے اقتداراعلی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔شامی کردوں کے ایک سینئر عہدیدار نے ترکی اور امریکہ کے درمیان سمجھوتے کا احتیاط کے ساتھ خیرمقدم کیا ہے۔ اے خلیل نے کہا ہے کہ اس معاہدے سے ایک نیا طریقہ کار شروع ہوسکتا ہے لیکن ہمیں اس کی مزید تفصیلات کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہم سمجھوتے کی تفصیلات جاننے کے بعد ہی اس کا تجزیہ کریں گے۔اس سمجھوتے میں مجوزہ محفوظ زون کو امن کی راہداری قرار دیا گیا ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ہمارے شامی بھائی اپنے ملک واپس جاسکیں گے۔