کشمیر سے متعلق پاکستان کا شدید رد عمل منفی سوچ کا آئینہ دار

 

کشمیر سے متعلق ہندوستان کے بعض انتظامی اور قانونی نوعیت کے فیصلوں کے سلسلے میں پاکستان نے جو شدید نوعیت کا ردعمل ظاہر کیا ہے وہ کسی بھی اعتبار سے اس کے حق میں کسی مثبت نتیجہ کا حامل نہیں ثابت ہوگا بلکہ سفارتی اعتبار سے اسے عالمی برادری میں مزید الگ تھلگ کرنے کا باعث ثابت ہو سکتاہے۔ اس نے بغیر کچھ سوچے سمجھے ہندوستانی ہائی کمشنر کو پاکستان سے واپس بھیجنے ،تجارتی تعلقات توڑنے اور15 اگست کو جموں و کشمیر کے عوام کے تئیں نام نہاد یکجہتی کے اظہار کے طور پر ‘یوم سیاہ’ منانے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ سفارتی تعلقات کے اعتبار سے مضر اثرات مرتب کرے گا۔ پاکستان کے اس شدید رد عمل کو انگریزی محاورے میں ‘نی جرک’ رد عمل ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹکنا لوجی فواد چودھری کا رد عمل شاید سب سے زیادہ شدید تھا۔ وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رو پڑے اور کہا کہ ہمیں لڑنا ہوگا۔ ان کے مطابق یہ لڑائی کوئی روایتی لڑائی نہیں ہوگی۔بلکہ واشنگٹن سے لندن تک اور ریاض سے تہران تک پوی دنیا اس لڑائی کی شدت کو محسوس کرے گی۔ انہوں نے عالمی برادری سے کہا کہ دنیا کو بیدرا ہونا چاہئے اور محسوس کرنا چاہئے کہ حکومت ہند آگ سے کھیلنے جا رہی ہے۔حالانکہ حکومت پاکستان کے رد عمل پر خود پاکستان کے بعض تجزیہ کاروں اور صحافیوں نے حیرت جتائی ہے اور کہا ہے کہ پاکستانی لیڈران بغیر سوچے سمجھے بول رہے ہیں۔

بہر حال اس سے قطع نظر پاکستانی لیڈر اور حکام اپنے رد عمل کے ذریعہ خود اپنی ریا کاری کو پورےطور پر بے نقاب کر بیٹھے۔ جس دفعہ370 کو حذف کئے جانے کے خلاف انہوں نے جنگ چھیڑنے کا اعلان کیا ہے اسی دفعہ کے تحت کشمیر کو جو خصوصی اختیارات حاصل تھے ان کا انہوں نے ہمیشہ مذاق اڑایا تھا۔ وہ جموں و کشمیر کے وزرائے اعلیٰ کو ہمیشہ ہندوستان کا ‘پٹھو’ وزیر اعلیٰ گردانتے تھے۔ اور جموں و کشمیر کی حکومت کو کبھی نمائندہ اور قانونی طور پر منتخب حکومت نہیں قرار دیتے تھے۔ اور اب اچانک انہیں یہ لگا کہ اہل کشمیر سے کچھ چھین لیا گیا ہے۔ یہ کھلی ہوئی ریاکاری نہیں تو پھر اور کیا ہے؟شاید اسی لئے خود پاکستان کے متعدد تجزیہ کاروں نے پاکستانی لیڈروں کے بیانا ت پر انگلی اٹھائی ہے۔پاکستان کو یہ محسوس کرنا چاہئے کہ جموں و کشمیر کے بارے میں حکومت ہند نے جو بھی فیصلہ کیا ہے وہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ خود پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے تعلق سے اب تک جو کچھ کیا ہے وہ سراسر غیر قانونی رہا ہے ۔ کشمیر ہی کا ایک علاقہ شمالی علاقہ جات کے نام سے جانا جاتا تھا جسے مہاراجہ آف کشمیر نے کبھی لیز پر انگریزوں کو دیا تھا۔ برطانوی حکومت کے جانے اور بر صغیر ہندو پاک کے آزاد ہونے کے بعد وہ خود بخود کشمیر کا حصہ بن گیا لیکن پاکستان نے کبھی اسے مقبوضہ کشمیر میں شامل نہیں کیا۔ حتی کہ وہاں کی سپریم کورٹ نے بھی یہ فیصلہ کیا تھا کہ اسے کشمیر میں شامل کیا جانا چاہئے لیکن پاکستان نے اس فیصلے کا بھی پاس نہیں کیا بلکہ ان علاقوں کو گلگت ۔بلتستان کا نام دے کر ایک الگ صوبہ بنا دیا گیا جو قطعی غیر قانونی تھا ،اور بھی متعدد فیصلے پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے سلسلے میں کئے جنہیں کسی بھی اعتبار سے قانونی جواز نہیں عطا کیا جا سکتا۔

بہر حال اگر پاکستان نے اپنے طور پر یہ جنگ چھیڑی ہے تو شوق سے اسے آگے بڑھائے۔ ہندوستان خود بھی یہی توقع کر رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھائے گا۔ تنظیم اسلامی کانفرنس کو سر گرم بنانے کی کوشش کرے گا اور اپنے دوست ملکوں میں خصوصی سفارت کار بھیجے گا۔ ہندوستان سفارتی طور پر پاکستان کے حملوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس کا اندازہ خود پاکستان کو بھی ہو جائے گا۔ بین الاقوامی سیاست میں کتنی بڑی تبدیلی،بلکہ تغیر واقع ہو چکا ہے پاکستان نے شاید ابھی تک اس کا ادراک نہیں کیا ہے۔پچھلی کئی دہائیوں سے ہندوستانی معیشت نے ارتقا کی نئی منزلیں طے کر لی ہیں۔ دوسری طرف پاکستان نے کچھ کھلے طور پر اور کچھ خفیہ طریقوں سے اسلامی انتہا پسندی کو جو فروغ دیا ہے اس سے بھی پوری دنیا واقف ہو گئی ہے ۔ ہندوستان اور افغانستان میں دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے پاکستان نے جو تباہی مچائی ہے اس سے عالمی برادری پورے طور پر مانوس ہے۔پاکستان کی متعدد دہشت گرد تنظیمیں اقوام متحدہ نیز کئی بڑے ملکوں کی جانب سے عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہیں اور کچھ ایسی بھی ہیں جو غیر ملکوں سے تعلق رکھتی ہیں لیکن ان کی اصل جائے پناہ پاکستان ہی رہا ہے۔ اپنے اس کارڈ کے ساتھ دیکھنا یہ ہے کہ عالمی برادری میں پاکستان،ہندوستان کے خلاف کتنی بڑی اتھل پتھل کر پاتا ہے۔اس کا اندازہ آنے والے وقتوں میں ہوگا۔