13.08.2019 جہاں نما

 

ہندوستان نے کشمیر کو اندورنی معاملہ قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر چین کی تشویش کوکیا مسترد

۔ حکومت ہند نے جموں و کشمیر کے معاملے پر چین کی تشویشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے اور اس معاملے میں چین کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ اسی سے متعلق روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس سلسلے میں چین کے اپنے ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کے دوران وضاحت کی ہے کہ جموں و کشمیر میں دفعہ370 کو ختم کرنے اور اس کی تقسیم سے متعلق حکومت ہند کے فیصلے سے چین کے ساتھ حقیقی لائن آف کنٹرول؍ایل اے سی یا ہندوستان کی سرحدوں کے ضمن میں کوئی  پیچیدگی واقع نہیں ہوگی۔ جناب ایس جے شنکر نے کشمیر معاملے پر چین کی گمراہ کن تشویش کو مسترد کرتے ہوئے اپنے ہم منصب کو یقین دلایا ہے کہ ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات پر جاری مذاکرات میں ہندوستان کا کسی طرح کا علاقائی دعویٰ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ جناب ایس جے شنکر کے چین کے تین روزہ دورےکے اختتام پر بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے باہمی مذاکرات کے دوران ہندوستان کی پارلیمنٹ میں دفعہ370 کو ختم کرنے سے متعلق قانون کا معاملہ اٹھایا تھا اور اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔رپورٹ مین مزید کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں وضاحت کرتے ہوئے جناب ایس جے شنکر نے واضح کیا کہ دستور ہند کی ایک عارضی دفعہ میں تبدیلی ہندوستان کا خالصتاً اندرونی معاملہ ہے اور قانون سازی کے یہ اقدامات علاقے میں بہتر نظام حکمرانی اور سماجی و معاشی ترقی کے مقصد سے کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ چین نے دفعہ 370 کے خاتمے اور بالخصوص لداخ کو جموں و کشمیر سے علاحدہ کر کے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے پر اعتراض کیا تھا۔ اس معاملے میں ایس جے شنکر نے وانگ یی سے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کو کسی معاملے میں اختلافات کو تنازعات کی شکل دینے سے گریز کرنا چاہئے۔ حالانکہ دونوں ملکوں نے عوام تا عوام اور ثقافتی تبادلے کےچار معاہدوں پر دستخط کئے ہیں ۔ اس ضمن میں چین کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ چین کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان علاقائی کشیدگی پر قریبی نظر ہے اور ہندوستان کو خطے میں امن اور استحکام کے لئے ایک تعمیری کردار ادا کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی نے کشمیر کے معاملے میں اقوام متحدہ میں حمایت حاصل کرنے کے ارادے سے چین کا دورہ کیا تھا۔

جموں و کشمیر کے ہی تعلق سے آل انڈیا ریڈیو کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ ریاست میں امن و قانون کے قیام کے لئے سر گرم ہے اور ریاستی پولیس اس ضمن میں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دے رہی ہے۔ انتظامیہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جموں کے پانچ اضلاع سے پابندیاں مکمل طور پر ہٹا لی گئی ہیں جبکہ امن و قانون کی تازہ ترین صورتحال کے مقامی سطح پر تجزیئے  کے بعد کشمیر کے نو اضلاع میں جاری پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق ذرائع ابلاغ کے لوگوں کو ریاستی حکومت کے ذریعے قائم ایک میڈیا سینٹر کے توسط سے فون، انٹر نیٹ اور دیگر سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سلامتی کے تقاضوں کے پیش نظر گرچہ کنکٹی ویٹی پر عا ید پابندی جاری ہے تا ہم ریاست میں مناسب مقامات پر ہیلپ لائنز کے ذریعے مقامی لوگوں کو ریاست میں دور دراز مقامات یا ریاست سے باہر رہنے والے عزیز و اقارب سے رابطہ قائم کرایا جا رہا ہے ۔ ان مقررہ مقامات سے روزانہ ہزاروں کالز کی جا رہی ہیں اور کشمیر ڈویژن میں فون رابطہ کے لئے 300 سے زائد پبلک پوائنٹس سر گرم عمل ہیں۔

پاکستان کے وزیر خارجہ کا اپنے عوام کو کشمیر کے تعلق سے حقیقت تسلیم کرنے کا مشورہ

۔ پاکستان کے وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی نے جموں و کشمیر کے معاملے میں اپنے عوام سے عقل سے کام لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے جانے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے مسلم امہ کا بھی  سہارا نہیں لیا جا سکتا۔ اس سے متعلق روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق جناب محمود قریشی نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے مظفر آباد میں اخباری نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام کو ’احمقوں کی جنت میں نہیں رہنا چاہئے اور نہ ہی یہ توقع کرنا چاہئے کہ کشمیر معاملے میں اقوام متحدہ میں پاکستانی موقف کی پذیرائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جذبات ابھارنا بہت آسان ہے ، اعتراض کرنا اس سے بھی آسان ہے لیکن کسی مسئلہ کو سمجھ کر آگے لے جانا پیچیدہ کام ہے۔ انہوں نے واضح طور پر پاکستانی لوگوں سے کہا ہے کہ کشمیر معاملے کو اقوام متحدہ میں لے جانے کے بارے میں اس غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں کہ وہاں ان کا پرتباک خیر مقدم کیا جائے گا اور ان کے گلے میں پھولوں کے ہار پہنائے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں مسلم ممالک کی بھی حمایت نہیں ملے گی کیونکہ ان ممالک نے ہندوستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے اداریہ میں پاکستانی پروپیگنڈے سے نمٹنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے پر زور

۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کے اداریہ میں حکومت ہند کو مشورہ دیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے تعلق سے پاکستان کے پروپیگنڈہ کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت ہندکو اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لانا چاہئے۔ اداریہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے وزیر خارجہ جناب ایس جے شنکر کا چین کا دورہ ایک اہم وقت پر کیا گیا ہے گرچہ اس دورہ کا مقصد چین کے صدر جناب زی جن پنگ کے ہندوستان کے آئندہ دورے سے متعلق تیاریوں کا جائزہ لینا تھا تا ہم جناب ایس جے شنکر نے جموں و کشمیر سے متعلق کارروائی پر ہندوستان کے موقف کی وضاحت کردی۔ اداریہ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان موجودہ وقت میں کشمیر کے معاملے میں عالمی حمایت حاصل کرنے کے لئے سر گرم ہے اس سلسلے میں پاکستان کے گمراہ کن پرو پیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت ہند کو بھی کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہئے۔اداریہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں کی گئی خلاف ورزیوں کے متعلق چند لوگوں کو ہی پتہ ہوگا کہ انہوں نے کشمیری پنڈتوں کے ساتھ نسلی امتیاز اور حقوق انسانی کی پامالی کی تمام حدیں پار کر دیں۔ علاوہ ازیں جغرافیائی اعتبار سے بھی بڑی تبدیلیاں کی گئیں اور پاکستان حکومت نے کشمیر سے ہی زمین لے کر گلگت ۔بلتستان کا قیام کیا۔

ٹائمز آف انڈیا کے اداریہ میں پاکستانی پروپیگنڈے سے نمٹنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے پر زور

۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا سے متعلق امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق دونوں فریق اپنی قیادت سے صلاح و مشورہ کر یں گے۔ اسی سے متعلق روزنامہ ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا آٹھواں مرحلہ پیر کی شب مکمل ہو گیا ۔ بیان میں گرچہ کسی نتیجے کا علان نہیں کیا گیا تا ہم مذاکرات کے اس راؤنڈ کو طویل اور کار آمد قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے بھی طالبان کے ایک ترجمان نے مذاکرات سے ایک قابل قبول حل کی امید ظاہر کی تھی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ دونوں فریقوں کی قیادت کےساتھ بات چیت  کے بعد اگر کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو ایسی توقع ہےکہ طالبان سے یہ ضمانت لی جائے گی کہ افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد کسی دورسرے انتہا پسند گروپ کو افغانستان میں پناہ گاہ بنانے یا اپنی سرگرمیوں کے لئے افغانستان کی سر زمین کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ علاوہ ازیں معاہدے میں جنگ بندی اور افغان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کی شرط بھی شامل ہوگی۔

ٹائمز آف انڈیا کے اداریہ میں پاکستانی پروپیگنڈے سے نمٹنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے پر زور

۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے جہاں ایران کے وزیر خارجہ جناب محمد جواد ظریف نے امریکہ پر خلیجی خطے کو بارودکی ڈھیر میں تبدیل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اسی سے متعلق روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ نے الجزیرہ ٹی وی کے ساتھ ایک انٹر ویو میں کہا ہے کہ امریکہ کی ہٹ دھرمی کے سبب خلیجی خطے کی صورت حال نہایت دھماکہ خیز ہو گئی ہے جو کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے۔ واضح رہے کہ ایران کےساتھ ایک عالمی نیو کلیائی معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علاحدگی کے بعد ابنائے ہرمز کے راستے خلیج میں تیل کے ٹینکروں کی آمد و رفت کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ اس سلسلے میں ایران کے تیل بردار جہاز کو برطانیہ کے ذریعہ قبضے میں لینے کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کی تھی جس کے بعد امریکہ نے خلیج میں برطانیہ کے ساتھ مل کر تجارتی جہازوں کی سلامتی کے لئے ایک بحری مشن شروع کیا ہے۔اس بارے میں جناب جواد ظریف نے کہا کہ آبنائے ہرمز پہلے سے ہی تنگ ہے اور اس میں غیر ملکی بحریہ کے جہازوں کی تعیناتی سے سلامتی سے متعلق خطرات اور بڑھ جائیں گے۔

احتجاجی مظاہروں کے سبب ہانگ کانگ ایئر پورٹ سے تمام پروازیں منسوخ

۔ ہانگ کانگ میں گذشتہ دو مہینوں سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آتی جا رہی ہے۔ جہاں پیر کو زبر دست احتجاجی مظاہروں کے سبب ہانگ کانگ ایئر پورٹ پر تمام پروازوں کو منسوخ کر نا پڑا ہے ۔ دوسری جانب چین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مظاہرین میں دہشت گرد شامل ہو گئے ہیں۔ اسی سے متعلق روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہانگ کانگ ایئر پورٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ وہ دیگر ایئر لائنز کے تعاون سے پروازوں کو جلد سے جلد شروع کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے بعد چین کی پیپلز پارٹی آرمڈ پولیس کو پڑوسی شہر شینزین میں احتیاط کےطور  پر تعینات کر دیا گیا ہے ۔ کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان روزنامہ گلوبل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پیپلز آرمڈ پولیس شہر میں فساد اور دہشت گردانہ حملوں سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔