14.08.2019جہاں نما

کشمیر پر امریکی حمایت حاصل کرنے کے لئے پاکستان کا افغانستان کارڈ کھیلنے کا حربہ

۔ کشمیر کے معاملے میں عالمی حمایت نہ ملنے سے مایوس پاکستان  نے عالمی برادری سے حمایت اور ہمدردی حاصل کرنے کے لئے حربے استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان نے امریکہ سے حمایت حاصل کرنے کے مقصد سے اب افغانستان کا کارڈ کھیلا ہے۔اس خبر کو روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے  ۔اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں متعین پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے دھمکی دی ہے کہ ان کا ملک ہندوستانی محاذ پر افغانستان کی سرحد پر فوج کو دوبارہ تعینات کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اس طرح کے عمل سے امن مذاکرات پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اسد مجید خان نے امریکہ سے کشمیر کے معاملے میں ثالثی کا مطالبہ کیا ہے۔ وہیں دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی نہیں کریں گے ۔ امریکہ میں متعین ہندوستان کے نمائندے ہریش سنگھلا نے کہا ہے کہ ثالثی کے معاملے  میں صدر امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے میں دونوں ملک ہندوستان اور پاکستان کی ایما پر ہی ثالثی پر غور کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ہندوستان کے ذریعے جموں و کشمیر کی ہمہ جہت ترقی کے مقصد سے خصوصی درجہ ختم کرنے پر پاکستان کو اس معاملے میں عالمی برادری سے حمایت ملنے کی امید تھی تا ہم اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اس کے بعد پاکستان نے عالمی حمایت حاصل کرنے کے لئے حربوں کے ساتھ اپنی سفارتی سر گرمیاں تیز کر دی ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہندوستان نے جموں و کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھانے سے متعلق پاکستان کے منصوبوں پر پہلے ہی پانی پھیر دیا ہے اور عالمی پیمانے پر جموں و کشمیر سے خصوصی درجہ واپس لینے کے معاملے کو ہندوستان کا اندرونی معاملے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی لیڈروں اور تنظیموں نے اس معاملے کو ہندوستان اور پاکستان کے ذریعے باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ صدر امریکہ کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ صدر پولینڈ نے بھی ہندوستان اور پاکستان پر کشمیر معاملے کو آپسی بات چیت کے ذریعے طے کرنے پر زور دیا ہے۔ پولینڈ کے وزیر خارجہ جیک کزاپتووک (Jacek Czaputowicz ) نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں اخباری نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کشمیر کے معاملے کے تصفیئے کے لئے ہندوستانی موقف کی حمایت کی۔

 

وزیراعظم نے کہا، جموں و کشمیر کے معاملے میں ہر ہندوستانی شہری کی حمایت حاصل

۔ وزیر اعظم نریندر مودی  نےد عویٰ کیا ہے کہ جموں و کشمیر کے معاملے میں ملک کے ہر شہری نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ اسی سے متعلق روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نے آئی اے این ایس کے ساتھ ایک انٹرو یو میں کہا ہے کہ حکومت نے جموں و کشمیر اور لداخ کی ہمہ جہت ترقی کے لئے حال ہی میں جو اقدامات کئے ہیں ان کی ملک میں تمام شہریوں نے مذہب اورسیاست سے بالا تر ہو کر بھر پور حمایت کی ہے جبکہ ان اقدامات کی مخالفت کرنے والوں میں چند مفاد پرست گروپ ،خاندانی سیاست کرنے والے،دہشت گردوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے اور حزب اختلاف میں سیاسی رقابت رکھنے والے چند دوست شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ آئین کی دفعہ370 اور35 اے سے جموں و کشمیر کے چند خاندانوں اور انتہا پسندوں کو ہی فائدہ ہو رہا تھا یہی وجہ ہے کہ ریاست میں گذشتہ 70 برسوں سے لوگوں کی خواہشات کی تکمیل نہیں ہوئی۔ انہوں نے ریاست کے لوگوں کو یقین دلایا کہ جلد ہی ترقی کے ساتھ ان کی خواہشات مکمل ہوگی کیونکہ ریاست کے لوگوں کو دفعہ370 اور35 اے کی شکل میں بیڑیوں سے جکڑ رکھا تھا ور اب لوگ ان بیڑیوں سے آزاد ہو گئے ہیں جو اپنی خواہشات اور خوابوں کی تکمیل کے لئے آگے بڑھیں گے۔

جموں و کشمیر سے دفعہ370 اور35اے کے خاتمے کے سبب ریاست میں مختلف شکل میں عائد پابندیوں کو یوم آزادی کے بعد ہٹانے کا امکان ہے۔ اس سے متعلق روزنامہ ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر حکومت کے نمائندے روہت کنسل نے کہا ہے کہ وادی میں عائد پابندیاں مرحلہ وار طریقے سے ہٹائی جائیں گی جبکہ جموں ڈویژن میں امن و قانون کی صورتحال بحال کی جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے کسی بھی حصے سے کسی نا خوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی میں مواصلات کا نظام بھی جلد بحال کر دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ وادی کے تمام  اضلاع میں منگل کو یوم آزادی کی فل ڈریس ریہرسل کا کامیابی کے ساتھ انعقاد کیا گیا اوریوم آزادی کی عظیم الشان تقریبات کے لئے جامع انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں جناب روہت کنسل کے حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں معاشی سر گرمیوں میں تیزی کے لئے 12 تا 16 اکتوبر اپنی نوعیت کی پہلی عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا جس میں دنیا کے متعدد ممالک کے سر مایہ کارحصہ لیں گے۔ معاشی محاذ پر مقامی لوگوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کی جانب یہ ایک اہم قدم ہے۔

 

کشمیر کے معاملے پر ہندوستان ٹائمز کا اداریہ

۔ جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی درجہ ختم کرنے کے معاملے میں روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے اداریہ میں حکومت ہند کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں درست حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دے کیونکہ آج ان ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیا گیا تو آئندہ دو برسوں میں جموں و کشمیر کو یقینی طور پر ہندوستان کا اندرونی معاملہ تسلیم کیا جائے گا۔ اداریہ میں مزید کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر سے متعلق ہندوستانی اقدام پر عالمی برادری نے ابھی محتاط رویہ اختیارکیا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت نے اس معاملے میں ہر محاذ پر اپنی ذمہ داری ادا کی ہے۔اس کے سبب ہی صدر امریکہ نے اس معاملے میں ثالثی سے مبینہ طور پر انکار کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی کشمیر پر بحث کی اجازت دینےسے انکار کر دیا ہے۔ اداریہ کے مطابق جموں و کشمیر کے معاملے میں پاکستان کو عالمی سطح پر ہر موڑ پر نا کامی کا سامنا ہے اور اس کی معتبریت بھی مشکوک ہو گئی ہے ۔ موجودہ وقت میں عالمی سطح پر کشمیر مسئلے کے تئیں بیزاری ہے اور بڑے پیمانے پر اس کی توثیق کی جا رہی ہے کہ یہ معاملہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان باہمی معاملہ ہے۔ اداریہ میں حکومت کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر نئے انتخابات اور اسے مکمل ریاست کا درجہ دینے کی جانب بھی خصوصی توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔

 

کشمیر معاملے پر رد عمل کے لئے امریکی رکن سینیٹ کی معذرت

۔ جموں و کشمیر کے معاملے میں حقائق کی جانکاری کے بغیر امریکی وزیر خارجہ کو ارسال مکتوب میں تشویش کا اظہار کرنے والے امریکی سینیٹ کے سینئر رکن ٹام سوزی(SUOZZI) نے اپنی غلطی پر معذرت کا اظہار کیا ہے۔اسی سے متعلق روزنامہ ایشین ایج کی ایک رپورٹ کے مطابق جناب ٹام سوزی نے کہا ہے کہ حکومت ہند کے ذریعہ جموں و کشمیر سے خصوصی درجہ واپس لینے کے معاملے میں انہیں اپنے ہند امریکی ساتھیوں سے صلاح و مشورے کے بغیر رد عمل ظاہر نہیں کرنا چاہئے تھا ،یہ ایک بڑی غلطی ہے اور اس کے لئے انہوں نے تہہ دل سے معذرت کا اظہارکیا ہے۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر کے معاملے میں جناب ٹام سوزی نے امریکہ کے وزیر خارجہ کو مکتوب ارسال کیا تھا جس میں اس پر انہوں نے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت کے ان اقدامات سے جہاں خود مختاری اور عوام کے حقوق متاثر ہوں گے وہیں دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اس مکتوب کے بعد جناب ٹام سوزی کے متعدد ہند امریکی ساتھیوں نے احتجاج کیا تھا ۔ بعد ازاں اپنے مشتعل ساتھیوں کے ساتھ ایک ہنگامی میٹنگ کے بعد جناب سوزی نے معذرت کا اظہار کیا اور تسلیم کیا کہ حقائق کے بارے میں اپنے ہند امریکی ساتھیوں سے صلاح و مشورہ نہ کرنا ایک بڑی غلطی تھی۔

ہانگ کانگ میں حکومت مخالف مظاہرے جاری،ایئر پورٹ پر دوسرے دن بھی پروازیں متاثر

۔ ہانگ کانگ میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جہاں ہانگ کانگ ایئر پورٹ پر مظاہرین کے احتجاج کے سبب مسلسل دوسرے دن پروازیں منسوخ رہیں۔ اسی سے متعلق روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ ایئر پورٹ پر منگل کی شام پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ہلکی طاقت کا استعمال کیا۔ پولیس نے مظاہرین کے خلاف مرچ کے اسپرے کا بھی استعمال کیا۔ مظاہرین نے منصوبہ بندی کے ساتھ رکاوٹیں کھڑی کر کے پولیس کی گاڑیوں کے راستے مسدود کئے جبکہ ایئر پورٹ پر مسافر کی گزر گاہوں پر ٹرالیوں سے راستہ بند کر دیا۔ رپورٹ میں  کہا گیا ہے کہ ملک میں گذشتہ دو مہینوں سے جاری احتجاج کے سبب ملک کی اسٹاک مارکیٹ اپنے گزشتہ سات مہینوں کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔دریں اثنا اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے حقوق انسانی نے ہانگ کانگ حکومت سے مظاہرین کے خلاف صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کے گولے داغنے کے معاملے میں شواہد کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ واضح رہے کہ عالمی قانون کے تحت مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کے استعمال کے چند طریقوں پر پابندی عائد ہے۔

 

کرغزستان کے سابق صدر پر حکومت کا تختہ پلٹنے کی سازش کا الزام

۔ کرغزستان کی سیکورٹی سروسز نے ملک کے سابق صدر المازبیک آتمبائیف(Atambayev) پر حکومت کا تختہ پلٹنے کی سازش کرنے کا الزام عائد  کیا ہے۔ روزنامہ اسٹیٹسمین کی ایک رپورٹ کے مطابق کرغزستان کی سیکورٹی سروسز نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے سابق صدر کو گرفتار کر لیا تھا۔ سال2011 سے سال2017 کے دوران ملک کے عہدہ صدارت پر رہنے والے آتمبائیف کی گرفتاری سے وسطی ایشیا کے اس ملک میں زبر دست سیاسی ہلچل ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کی گرفتاری سے قبل پولیس اور آتمبائیف کے حامیوں کے درمیان زبر دست تصادم بھی ہوا۔ پولیس نے حکومت مخالف سر گرمیوں کے لئے آتمبائیف کو تین مرتبہ پوچھ تاچھ کے لئے طلب کیا تھا تا ہم تینوں مرتبہ انہوں نے پولیس سمن کو نظر انداز کر دیا تھا۔