20.08.2019 جہاں نما

مودی نے ٹرمپ سے کہا،پاکستان کی بیان بازی امن کے لئے ٹھیک نہیں

۔ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ختم کئے جانے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز پہلی بار صدر امریکہ ڈونل ٹرمپ سے فون پر بات کی۔اس خبر کو تقریباً تمام اخبارات نے شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔اس کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا تحریر کرتا ہے کہ جناب مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان آدھے گھنٹے تک چلی بات چیت میں جناب مودی نے پاکستانی رہنماؤں کے نام لئے بغیر کہا کہ علاقہ کے کچھ لیڈران لگا تار ہند مخالف بیانات دے کر لوگوں کو تشدد کے لئے بھڑکا رہے ہیں جو خطہ کے امن کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔جناب مودی نے دہشت گردی اور تشدد سے پاک ماحول تیار کرنے اور سرحد پار سے کی جا رہی دہشت گردی کو ختم کرنے پر زور دیا۔قابل ذکر ہے کہ عمران خان نے کچھ روز قبل مودی حکومت کو فسطائی قرار دیتے ہوئے ہندوستان کے نیو کلیائی ہتھاروں پر بھی سوال اٹھایا تھا۔پاکستانی صدر عارف علوی نے بھی ہندوستان کے خلاف جہاد چھیڑنے کی اپیل کی ہے۔ بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ اور بین الاقوامی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اسی دوران افغانستان نے مسئلہ کشمیر میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لئے امریکہ پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے افغان امن عمل کا استعمال کرنے کی پاکستانی کوشش کو غیر ذمہ دارانہ اور نا عاقبت اندیش قرار دیا ہے۔ امریکہ میں افغانستان کے سفیر روما رحمانی نے کہا کہ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ معاملہ ہے اور اسے امریکہ کی قیادت والے افغان امن عمل سے جوڑنے کی اسلام آباد کی کوشش سے اس کے مذموم عزائم کی عکاسی ہوتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں تشدد جاری رہے۔ خیال رہے کہ افغان سفیر کے پاکستانی ہم منصب اسد مجید خان نے پچھلے ہفتے دھمکی دی تھی کہ کشمیر پر جاری کشیدگی کے سبب پاکستان کو افغانستان سے ملحقہ مغربی سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا کر اپنی مشرقی سرحد پر تعینات کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑے گا۔ پاکستان یہ بھی چاہتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوتاکہ وہ افغانستان کو بھارت کے خلاف استعمال کر سکے۔

 

پاکستانی فوج کے سر براہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع

۔ پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر نے پیر کے روز اعلان کیا کہ فوج کے سر براہ جنرل قمر جاوید باجوا کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کی جا رہی ہے۔اس خبر کو تمام اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے ۔ روزنامہ دی ہندو تحریر کرتا ہے کہ دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ علاقہ میں سیکورٹی کی صورت حال کے پیش نظر کیا گیا ہے ۔ فوج کے سر براہ کے طور پر جنرل باجوا کی مدت اس سال نومبر میں ختم ہو رہی تھی۔ اب وہ نومبر2022 تک فوج کے سر براہ بنے رہیں گے ۔ واضح ہو کہ 29 نومبر 2016 کو جنرل باجوا نے جنرل راحیل شریف کی جگہ فوج کی قیادت سنبھالی تھی۔ سائنس اور ٹکنا لوجی کے وفاقی وزیر فواد چودھری نے روزنامہ ہندو کو بتایا کہ جنرل باجوا کی مدت ملازمت میں توسیع ظاہر کرتی ہے کہ سرحدوں پر صورتحال کتنی سنجیدہ ہے۔ پاکستان کی سول حکومت کی تاریخٰ میں دوسری مرتبہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی ہے ۔ اس سے قبل سابق فوجی سر براہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی تھی اور اس وقت پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔

 

افغانستان میں داعش کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا صدر غنی کا وعدہ

۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے عہد کیا ہے کہ وہ ملک میں موجود داعش کی تمام محفوظ پناہ گاہوں کا صفایا کر کے ہی دم لیں گے۔ جناب غنی کا یہ بیان کل افغانستان کے یوم آزادی  کے موقع پر سامنے آیا۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔اس خبر کے حوالہ سے روزنامہ ہندوستان ٹائمز تحریر کرتاہے کہ داعش کے خود کش حملہ میں 63 لوگوں کی ہلاکت کے بعد یوم آزادی کی تقریبات میں زیادہ جوش و خروش دیکھنے کو نہیں ملا۔ لوگ سوگ میں ڈوبے نظر آئے۔اخبار کے مطابق بہت سے افغان شہریوں نے سوال کیا کہ کیا امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے بعد جو معاہدہ ہوگا اس سے ملک میں امن قائم ہو جائے گا۔ ادھر طالبان نے بھی ایک بیان میں سوال کیا کہ امریکہ خود کش حملہ آور کی پہلے  سےپہچان کیوں نہیں کر سکتا۔ صدر اشرف غنی نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد داعش کی بڑھتی طاقت پر قابو پا لیا جائے گا لیکن سنیچر کے روز کئے گئے حملے کے لئے طالبان بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنا کہ داعش کے دہشت گرد۔ جناب غنی نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں خود طالبان نے اسکولوں،مسجدوں اور دوسری جگہوں پر حملے کر کے دہشت گردوں کے لئے پلیٹ فارم تیار کر دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ہر شہری کے خون کے ایک ایک بوند کا بدلہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف حکومت کی مہم جاری رہے گی۔ انہوں  نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں ان کا ساتھ دے ۔ قابل ذکر ہے کہ داعش نے دعویٰ کیا تھا کہ خود کش حملہ آور کا تعلق پاکستان سے تھا۔ صدر غنی نے پاکستانی عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے محفوظ مقامات کی شناخت میں ان کی مدد کریں۔ اسی دوران افغانستان کے مشرقی صوبے ننگر ہار کے جلال آباد شہر میں 100 ویں یوم آزادی کی تقریب کے دوران بم دھماکوں کے نتیجہ میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق شہر کے اندر اور اس کے اطراف میں یہ دھماکے ہوئے۔شعبہ صحت کے اہلکاروں کے مطابق دھماکوں میں کم از کم 66 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ابھی تک کسی بھی گروہ یاتنظیم نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

 

رہائی کے بعد ایرانی جہاز جبل الطارق سے روانہ

۔ اس ماہ کے اوائل میں جبل الطارق میں حراست میں لئے جانے والے ایران کے تیل بردار جہاز کو رہا کر دیا گیا ہے جس کے بعد وہ وہاں کی بندرگاہ سے روانہ ہو گیاہے ۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ اس جہاز کا نام اب گریس ۔ون سے بدل کر ادریان دریا۔ون رکھ دیا گیا ہے ۔جس پر ایرانی پرچم لگا ہوا ہے۔جہاز کے عملہ میں ہندوستان ،روس ،لیٹویا اور فلپائن کے شہری شامل ہیں۔میرین ٹریفک مانیٹرنگ ویب سائٹ کے مطابق یہ جہاز اتوار کی شام روانہ ہوا اور وہ بحرۂ روم میں یونان کے شہر کلا ماتا  کی جانب جا رہا تھا۔قابل ذکر ہے کہ ایرانی جہاز کو قبضہ میں لئے جانے کے بعد برطانیہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی اور ایران نے برطانیہ کے پرچم والے ایک ٹینکر اسٹینا امپرو کو آبنائے ہرمز میں پکڑ لیا تھا۔اسی دوران تہران نے امریکہ کو کھلے سمندر میں ایرانی ٹینکر کو قبضہ میں لئے جانے کے خلاف متنبہ کر دیا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے سرکاری چینل خاص طور پر سوئٹزر لینڈ کے سفارتخانہ کے ذریعہ وارننگ جاری کر دی ہے۔

 

جنگی جرائم کے ملزم جنرل بنے سری لنکائی فوج کےسربراہ

۔ سری لنکا میں ایل ٹی ٹی ای کے ساتھ چلی 26 سال کی لڑائی کے دوران حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے ملزم متنازعہ آرمی جنرل کو فوج کا نیا سر براہ مقرر کیا گیا ہے۔اس خبر کو بیشتر اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔اس خبر کےحوالے سے روزنامہ دی اسٹیٹسمین تحریر کرتا ہے کہ صدر میتھری پالا سری سینا کے دفتر نے پیر کے روز اعلان کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل شاویندر سلوا کو فوج کا نیا سر براہ مقرر کیا گیا ہے ۔اس علان کے بعد امریکہ اور تمل شہریوں نے فیصلہ کی سخت تنقید کی ہے۔55 سالہ سلوا فوج کے موجودہ سر براہ لیفٹیننٹ جنرل مہیش سینا نائکے کی جگہ لیں گے جنہیں مدت ملازت میں توسیع نہیں  ملی ہے۔2009 میں ایل ٹی ٹی ای کے خلاف جنگ کے آخری مرحلوں میں لیفٹیننٹ جنرل سلوا فوج کے 53ویں ڈویژن کے سر براہ تھے۔ ان کی بریگیڈ پر شہریوں اور اسپتالوں پر حملے کرنے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ اس پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے راحت کے سامان تمل شہریوں تک پہنچنے میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ تا ہم سری لنکا کی فوج نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ سلوا کی تقرری سے امریکہ اور سری لنکا کے درمیان دفاعی تعاون پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ کولمبو میں امریکی سفارتخانہ نے ایک بیان میں کہا کہ سلوا کے تقرر پر امریکہ کو سخت تشویش ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سلوا کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات جن کی تصدیق اقوام متحدہ اور حقوق انسانی کی دوسری تنظیموں نے بھی کی ہے،کافی سنجیدہ ہیں۔اس تقرر سے بین الاقوامی برادری میں سری لنکا کی ساکھ پر بھی اثر پڑے گا۔