جنرل باجوا کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع

بالآخر پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر باجوا کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کی خبر آہی گئی۔ اب تک جنرل باجوا کے ایکسٹینشن کے بارے میں جو باتیں ہورہی تھیں، انہیں محض قیاس آرائی سے تعبیر کیا جارہا تھا۔ لیکن اب باقاعدہ سرکاری طور پر اس بات کی توثیق ہوگئی کہ وزیراعظم عمران خان کے دفتر سے یہ باقاعدہ اعلان ہوا ہے کہ آنے والے نومبر میں ان کی مدت ملازمت ختم ہورہی ہے لیکن انہیں مزید تین سال کے لئے آرمی کی قیادت کی ذمہ داری سونپی جارہی ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ کہا جارہا تھا کہ چونکہ عمران خان ایک ‘‘بااصول’’ سیاست داں ہیں اس لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کریں گے لیکن جو تجزیہ کار اور مبصر پاکستانی فوج کی طاقت اور سول ملٹری رشتوں پر گہری نظر رکھتے ہیں وہ بہرحال یہ جانتے تھے کہ یہ سب صرف کہنے کی باتیں ہیں، ہوا بالآخر وہی ہے جو فوج چاہتی ہے۔ ان تجزیہ کاروں نے اسی وقت یہ بھانپ لیا تھا کہ جنرل باجوا کے ایکسٹینشن کی تیاری ہورہی ہے۔ جب وزیراعظم عمران خان نے اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے قومی ترقیاتی کونسل کے نام سے ایک سیویلین ادارہ قائم کیا اور اس میں جنرل باجوا کو بطور رکن شامل کیا۔ یہ صرف دو ڈھائی مہینے قبل کی بات ہے۔ جو لوگ یہ قیاس آرائی کررہے تھے کہ عمران خان چونکہ اصول پسند سیاست داں ہیں اس لئے آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کے حق میں نہیں ہوں گے وہ شاید عمران خان کے اس زمانے کے بیانات سے بہت متاثر تھے۔ جب وہ اپوزیشن میں تھے اور ‘‘شعلہ بیان’’ لیڈر کے طور پر جانے جاتے تھے۔

یاد رہے کہ برسوں پہلے جب 2010 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جب اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی کو تین سال کا ایکسٹینشن دیا تھا تو اس پس منظر میں عمران خان نے بہت اصول پسندی کی بات کی تھی اور اس کے کچھ دن بعد بعض ٹی وی چینلوں کو انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ سابق فوجی جنرلوں اور ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد ایکسٹینشن نہیں دیا جاتا چاہیے بلکہ تمام اداروں کو قانون کے مطابق ہی چلانا چاہیے۔ اس سلسلے میں دلیل یہ دی گئی تھی کہ جب آپ ایک فرد کے لئے قانون بدلتے ہیں تو اس سے پورا ادارہ کمزور ہوتا ہے۔ لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ وزیراعظم نہیں بلکہ اپوزیشن لیڈر تھے۔

بہرحال یہ پاکستان کا اپنا معاملہ ہے۔ وہ جسے چاہے اس کی مدت ملازمت میں توسیع کرے اور جسے چاہے اس کی سینئرٹی کا خیال کئے بغیر کسی ادارے کا سربراہ بنادے۔ لیکن جہاں تک فوج کا سوال ہے تو اس کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ اس کے بارے میں وزیراعظم کی طرف سے جو اعلان ہوتا ہے وہ صرف کاغذی کارروائی ہوتی ہے۔ اصل فیصلہ راولپنڈی یعنی فوجی ہیڈ کوارٹر ہی کا ہوتا ہے۔ جنرل باجوا کے ایکسٹینشن کی اصل وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس وقت علاقے کی سکیورٹی کی صورتحال کا جو تقاضہ ہے، اس میں جنرل باجوا کا سربراہ فوج کی حیثیت سے برقرار رہنا ضروری ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم خان نے یہ فیصلہ خود کیا ہے اور اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ کشمیر کے سوال پر کشیدگی بڑھی ہے اور پاکستان، افغانستان میں امن کے کاز کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہا ہے لیکن حقیقت یہ ہےکہ ہند۔ پاک کا معاملہ ہو یا افغانستان کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کا، ان تمام معاملات میں پردے کے پیچھے سے اصل رول پاکستانی فوج ہی ادا کررہی ہے۔ اپنی 14 اگست کی تقریر میں جنرل باجوا نے ہندوستان کے خلاف جی بھر کے اشتعال انگیزی کی تھی۔ وزیراعظم عمران خان جب صدر ٹرمپ سے ملنے امریکہ گئے تھے تو جنرل باجوا بھی ان کے ساتھ ہی تھے۔ جنرل باجوا کی مدت ملازمت میں توسیع کا جواز پیش کرتے ہوئے عمران خان کے ایک لفیٹننٹ اور وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ ان کو ایکسٹینشن دینے کا فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہےکہ علاقے کی صورتحال خاصی تشویشناک ہے اور جنرل باجوا حالات کو بہتر بنانے میں نمایاں رول ادا کرنے والے ہیں۔ انہوں نے تو یہاں تک دعوی کیا ہے کہ انہیں جو تین سال کا ایکسٹینشن دیا گیا ہے ان تین برسوں میں برصغیر کی تاریخ کی شکل بدل سکتی ہے۔ بہرحال عمران خان جو فوجی جنرلوں کو ایکسٹینشن دیئے جانے کے اس حد تک خلاف تھے کہ یہ تک کہا تھا کہ دو جنگ عظیم کے دوران بھی کبھی کسی جنرل کو ایکسٹینشن نہیں دیا گیا تھا لیکن اب ان کی حکومت اپنے فوجی جنرل کو ایکسٹینشن دیئے جانے کے حق میں جواز پر جواز پیش کررہی ہے۔ یہاں پاکستان کے ایک لبرل اور دانشور سیاست داں عاصم سجاد اختر کا حوالہ دینا مناسب ہوگا۔ ان کے مطابق بظاہر تو یہ فیصلہ وزیراعظم نے کیا ہے لیکن عملاً یہ فوج کا اپنا اندرونی فیصلہ ہے۔ باہر کی دنیا یہ سمجھ ہی نہیں پائے گی کہ اندر کی صورتحال کیا ہے۔ بس یہ فوج کا فیصلہ ہے اور اسی پر عمل ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سکیورٹی کی صورتحال سے اس فیصلے کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ فوج یہی چاہتی ہے کہ موجودہ آرمی چیف کو مزید تین سال تک بالا دستی حاصل رہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ان تین برسوں میں برصغیر کی تاریخ کس طرح نئے سانچے میں ڈھلتی ہے جس کا دعوی کیا جارہا ہے۔