22.08.2019 جہاں نما

۔ مودی کے ساتھ جموں و کشمیر پر تبادلہ خیال کرنے کا ٹرمپ کا اشارہ

۔صدر امریکہ ڈونل ٹرمپ نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ہندوستان ٹائمز تحریر کرتا ہے کہ جناب ٹرمپ نے منگل کے روز وہائٹ ہاؤس میں اخبار نویسوں سے کہا کہ وہ جو کچھ بھی کرسکتے ہیں، وہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کریں گے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ فرانس میں جی۔7 سربراہ کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی سے اس موضوع پر بات کرسکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بہت سے مسائل ہیں اور میں انہیں حل کرنے میں پوری مدد کرنے کو تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کافی پیچیدہ صورتحال ہے۔ اس کا تعلق مذہب سے بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کافی خراب ہیں۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان سے پہلے پاکستانی  وزیراعظم عمران خان اور وزیراعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ سے فون پر بات کی تھی۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کئے جانے اور ریاست کو مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے ہندوستان کے فیصلے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ہندوستان نے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری سے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے اور اس معاملے میں وہ کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی مخالفت کرتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نئی دہلی نے گزشتہ ماہ اس معاملہ پر ثالثی کی صدر ٹرمپ کی تجویز کو مسترد کردیا تھا۔

۔ دفعہ 370 پر بنگلہ دیش کی حمایت

۔ بنگلہ دیش نے جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے اور اسے مرکز کے زیر انتظام دو حصوں میں تقسیم کرنے کے ہندوستان کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا تحریر کرتا ہے کہ بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ دفعہ 370 کو ختم کرکے جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام دو حصوں میں تقسیم کرنا ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ علاقہ کی ترقی اور امن و استحکام کی برقراری ہر ملک کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ بیان میں بنگلہ دیش نے جموں و کشمیر پر ہندوستان کی خود مختاری کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے موقف کو مسترد کردیا۔ اسی دوران فرانس نے بھی کہا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ معاملہ ہے جسے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کے ذریعہ حل کیا جانا چاہیے۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کے ملک کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کو اپنے اختلافات دوطرفہ مذاکرات کے ذریعہ ہی دور کرنے چاہئے تاکہ امن برقرار رہے۔ فرانس نے کہا کہ اس وقت صبر و تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جاسکے۔ اس سے پہلے اس ہفتے کے اوائل میں نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ گیاوالی نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر سے متعلق ہندوستان کے فیصلے کا نئی دہلی اور کٹھمنڈو کے درمیان تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ مالدیپ اور سری لنکا پہلے ہی  کہہ چکے ہیں کہ یہ ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔ افغانستان نے بھی جموں و کشمیر مسئلہ کو افغان امن مذاکرات سے جوڑنے کی پاکستانی کوشش کی سخت مذمت کی ہے۔

۔ پاکستان کے ساتھ آبیات کی معلومات ساجھا کرنے سے ہندوستان کا انکار

۔ ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ سیلاب کے موسم میں آبیات سے متعلق معلومات ساجھا کرنے کے 1989کے معاہدے کی تجدید سے انکار کردیا ہے۔ اس خبر کو روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ہندوستان نے پاکستان کو مطلع کردیا ہے کہ اب وہ صرف پانی کے غیر معمولی بہاؤ کے بارے میں ہی اسے معلومات فراہم کرے گا۔ اس معاہدے کی ہر سال تجدید کی جاتی تھی لیکن اس بار جموں و کشمیر میں دفعہ 370 ختم کئے جانے کے بعد پیدا کشیدگی کے باعث ہندوستان کی پوزیشن میں تھوڑی تبدیلی آئی ہے۔ انڈس واٹرس کے ہندوستانی کمشنر پی کے سکسینہ نے بتایا کہ اس سال ہم نے معاہدے کی تجدید نہیں  کی ہے۔ تاہم اس فیصلہ کا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سندھ ندی کے پانی کے بٹوارے کے بارے میں 1960 میں کئے گئے معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جناب سکسینہ نے کہا کہ ہندوستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور وہ اس معاہدے کا پابند ہے۔ پہلی جولائی سے دس اکتوبر کے درمیان سیلاب کے موسم کے دوران آبیات سے متعلق معلومات ساجھا کرنے کے بارے میں 1989 میں کئے گئے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا 1960 میں کئے گئے معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 1989 میں کیا گیا معاہدہ ہندوستان کی جانب سے ایک خیر سگالی والا معاہدہ تھا۔ اسی دوران ہندوستان کے جل شکتی کے وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت نے کہا ہے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کررہی ہے کہ سندھ ندی کے پانی کے بٹوارے سے متعلق معاہدے کے مطابق ہمارے حصہ کا پانی پاکستان کو  نہ جائے۔ ممبئی میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ معاہدہ توڑنے کی بات نہیں کررہے ہیں، وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ معاہدے کے تحت جتنا پانی پاکستان کو جانا ہے،بس اتنا ہی جانے دیا جائے گا۔

۔ وادی کشمیر میں بینک اور اسپتال کررہے معمول کے مطابق کام، 774 مڈل اسکول بھی کھلے دوبارہ

۔ وادیٔ کشمیر میں تین ہزار میں سے 744 مڈل اسکول کل کھل گئے۔ اس کے علاوہ وادی کے پرائمری اسکول پیر کے روز سے ہی کھل گئے تھے۔ آل انڈیا ریڈیو کے مطابق اطلاعات و عوامی تعلقات شعبہ کے ڈائرکٹر سید اصغر نے بتایا کہ وادی میں کچھ نجی اسکولوں نے بھی کام کرنا شروع کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے تمام اسپتال اور بینک معمول کے مطابق کام کررہے ہیں۔ اسی دوران گورنر ستیہ پال ملک نے سری نگر میں ایک اعلی سطحی میٹنگ کے دوران جموں، کشمیر اور لداخ کے علاقوں کی سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ میٹنگ میں گورنر کے مشیروں اور چیف سکریٹری نے شرکت کی۔

۔ افغانستان سے مکمل انخلاء سے ٹرمپ کا انکار

۔ صدر امریکہ ڈونل ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ جنگ زدہ افغانستان سے امریکی فوجوں کا مکمل انخلا نہیں ہوگا۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس تحریر کرتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے واضح کردیا ہے کہ افغانستان میں کوئی نہ کوئی ضروررہے گا تاکہ طالبان دوبارہ کنٹرول حاصل نہ کرسکیں۔ 2016 میں اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈونل ٹرمپ نے عہد کیا تھا کہ وہ تمام امریکی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلالیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ 2001 سے لیکر اب تک 2400 سے زیادہ امریکی فوجی افغانستان میں ہلاک ہوچکے ہیں۔اس سال نو گیارہ حملوں کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کردیا تھا، تب سے وہاں اس کی فوجیں موجود ہیں اور اب وہاں سے نکلنے کے لئے وہ طالبان کے ساتھ بات چیت کررہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم وہاں کسی نہ کسی کو ضرور رکھیں گے۔ وہاں ہماری خفیہ ایجنسی کے لوگ ہوں گے۔ وہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے بارے میں ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ امریکی فوجی واپس ہورہے ہیں تاہم ہمارا وہاں موجود رہنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی افغانستان کی جنگ میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ وہاں پولیس کا کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو وہ اس جنگ کو ایک ہفتے کے اندر فتح کرسکتے ہیں لیکن وہ دس ملین لوگوں کو ہلاک کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اگر جنگ میں امریکہ شامل ہوا توایسا ہی ہوگا، جوامریکہ کرنا نہیں چاہتا۔ اسی دوران افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے ہندوستان کو امریکہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والے ممکنہ سودے سے محتاط رہنے کا انتباہ دیا ہے۔ جناب کرزئی نے جو وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کے لئے نئی دہلی میں تھے، کہا کہ معاہدے میں اگر پاکستان شامل ہوا تو افغانستان کے لئے مشکل ہوجائے گا اور ان خدشات کے بارے میں انہوں نے ہندوستانی رہنماؤں کو آگاہ کردیا ہے۔

۔ تائیوان کو ایف۔16 طیارے فروخت کرنے والی امریکی کمپنیوں کو چین کی دھمکی

۔ چین نے تائیوان کو امریکی اسلحوں کی فروخت کی سخت مذمت کی ہے اور دھمکی دی ہے کہ ان کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردی جائیں گی جو ایف۔16 طیاروں کی فروخت میں ملوث ہیں۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی اسٹیٹس مین تحریر کرتا ہے کہ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گنگ شوانگ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کا ملک اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے تمام اقدامات کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردی جائیں گی جو ایف۔16 طیاروں کی فروخت میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلحوں کی یہ سپلائی چین کے داخلی معاملات میں  سنجیدہ مداخلت ہے اور اس سے چین کی خود مختاری اور سکیورٹی کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا ایک حصہ تصور کرتا ہے اور عہد کیا ہے کہ ایک نہ ایک دن وہ طاقت کے ذریعہ اسے اپنے قبضہ میں لے لے گا۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پامپیو نے ایک بیان میں کہا کہ پچھلے ہفتہ کانگریس کو مطلع کرنے کے بعد صدر ٹرمپ نے مجوزہ سپلائی کو منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف۔16 طیاروں کی فروخت چین اور امریکہ کے درمیان تاریخی تعلقات کے عین مطابق ہے۔ ادھر چین نے کہا کہ بدھ کے روز اس نے اس فروخت کے خلاف سفارتی طور پر احتجاج کیا تھا اور امریکہ سے اپیل کی تھی کہ وہ اسلحوں کی موجوزہ سپلائی کو منسوخ کردے۔